کراچی حملہ ۔ چہرے بے نقاب

کیٹیگری متفرقہ
Tuesday, 10 June 2014


karwanگزشتہ رات کراچی ائر پورٹ پر دہشت گردوں کے حملہ کے بعد ایک بار پھر ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اہلیت ، کردار اور کارکردگی کے بارے میں سوال اٹھانا بے حد ضروری ہے۔ پاکستان کی آئی ایس آئی خود کو دنیا کی بہترین ایجنسیوں میں شمار کرتی ہے لیکن ملک کے ایک اہم ہوائی اڈے پر

حملہ کی منصوبہ بندی کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔
دہشت گرد کراچی ائر پورٹ پر حملہ کے ذریعے انسانوں کو مار کر خوف و ہراس پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے ۔ بلکہ اس حملہ کا مقصد کراچی ائر پورٹ پر کھڑے ہوئے متعدد جہازوں کو تباہ کرنا تھا۔ اس طرح ایک طرف طیاروں کی تباہی کی صورت میں کثیر مالی نقصان پہنچتا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے لئے تجارتی ساز و سامان بھیجنے والی کمپنیوں میں بھی خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ یہ خوف تو اس حملہ کے بعد ضرر پیدا ہؤا ہو گا اور دنیا کے متعدد دارالحکومتوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہو گا کہ پاکستان کے لئے اپنے طیارے روانہ کرنا کس حد تک مناسب اور محفوظ ہے۔
پاک فوج ، رینجرز اور ائر پورٹ سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے جان پر کھیل کر نہایت مختصر مدت میں کراچی میں کئے جانے والے خطرناک حملہ کو ناکام بنایا ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر ہوائی اڈوں کی نگرانی اور سکیورٹی کے ذمہ داروں اور ملک میں انتہا پسندوں پر نظر رکھنے والی متعدد ایجنسیوں کی صلاحیت کے بارے میں سنجیدہ سوال کرنے اور ان سے جواب طلب کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں نے کل صرف کراچی پر ہی حملہ نہیں کیا بلکہ کل شام ہی ایرانی بارڈر کے نزدیک تفتان کے مقام پر دو ریستوران میں رکے ہوئے زائرین پر بھی حملہ کیا اور 24 زائرین کو شہید کر دیا۔ بظاہر ان دو حملوں میں کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ان دونوں حملوں کا مقصد پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنا اور معاشرے کو انتشار کا شکار کرنا ہے۔
طالبان نے کراچی ائر پورٹ پر حملہ کی ذمے داری قبول کی ہے جبکہ تفتان میں حملہ کی ذمہ داری جیش الاسلام نامی ایک گروہ نے قبول کی ہے۔ یہ گروہ اس سے قبل بھی بلوچستان میں شیعہ آبادیوں اور زائرین پر حملے کرتا رہا ہے۔ اگرچہ یہ گروہ براہ راست طالبان کا حصہ نہیں ہے لیکن ان کے نظریات اور مقاصد یکساں ہیں۔ یہ گروہ عقیدے کا نام لے کر ایک ایسی ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں جس میں پاکستانی ریاست مفلوج ہو کر رہ جائے اور اس وسیع و عریض ملک میں دہشت گرد قوتوں کو من مانی کرنے کی اجازت مل جائے۔
یہ صورتحال حکومت کی طرف سے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ایسے تمام عناصر کا قلع قمع کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کا تقاضہ کرتی ہے۔ بد نصیبی کی بات ہے کہ حکومت کے نمائندے بھی ایسے حملوں کے بعد صرف بیان بازی کی حد تک الفاظ کا چناﺅ کرتے ہیں اور ان کے سیاسی مخالفین بھی مشکل میں گرفتار ایک بے بس اور مجبور حکومت کو مزید کمزور اور لاچار کرنے کے درپے ہیں۔ حالانکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری قوم کو ایک زبان ہونے اور تمام سیاسی گروہوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
کراچی ائر پورٹ پر ہونے والے حملہ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس قسم کا حملہ ٹھوس اور پروفیشنل منصوبہ بندی کے بغیر پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔ اس بات کا کریڈٹ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور افسروں کی شجاعت ، دلیری اور حوصلہ کو دینا بے حد ضروری ہے جنہوں نے حملہ آوروں کے عزائم ناکام بنا دئیے اور وہ اس کارگو ٹرمینل پر کھڑے ہوئے درجن بھر سے زیادہ ہوائی جہازوں میں کسی ایک کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکے۔ اس حد تک کل کی کارروائی سکیورٹی فورسز کی شاندار فتح اور بزدل دہشت گردوں کی مکمل ناکامی تھی۔ لیکن پاکستان ایک بڑا اور مضبوط ملک ہے۔ اس لئے اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے یہ جوابدہی ضروری ہے کہ اس طرح کے ٹھوس اور بڑے منصوبہ کے بارے میں وہ کیوں سراغ لگانے میں ناکام رہی ہیں۔
پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران جیو ٹیلی ویژن کی ایک ادارتی غلطی کو لے کر آئی ایس آئی نے میڈیا کے خلاف مؤثر مہم سازی کا سلسلہ شروع کیا ہؤا تھا۔ اس ایجنسی کے حمایت یافتہ مذہبی اور سیاسی گروہ ٹاک شوز سے لے کر اخباری بیانات اور سڑکوں پر مظاہروں تک میں گرمجوشی سے مشغول رہے ہیں۔ یہ سلسلہ جیو کی طرف سے غیر مشروط معافی اور پیمرا کی طرف سے اس نیوز چینل پر پابندی کے فیصلہ کے بعد بھی بند نہیں ہؤا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آئی ایس آئی جیو نیوز کو معاف کرنے پر تیار نہیں ہے اور اپنے ہرکاروں کے ذریعے پروپیگنڈے کے زور پر اپنی عظیم خدمات کے لئے قومی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں بدستور مصروف ہے۔
اس مہم جوئی میں جیو پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے آئی ایس آئی پر الزام تراشی کر کے دشمن بھارت کے ہاتھ میں ایک مؤثر ہتھیار دے دیا ہے۔ لیکن جس کارکردگی یا قومی مفاد کے تحفظ کے نام پر آئی ایس آئی اپنی تحسین کے لئے ہلکان ہو رہی ہے .... کل کے حملہ نے اس کے جواز کو چیلنج کیا ہے۔ آئی ایس آئی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اب قوم کو اس بات کا جواب دے کہ آخر کیوں ہر شخص، ہر وقت اس ایجنسی اور فوج کے نام پر زندہ باد کا نعرہ بلند کرتا رہے۔ گزشتہ تین برس کے دوران راولپنڈی کے جی ایچ کیو سے لے کر مہران بیس ، کامرہ ائر بیس ، باچا خان ائر پورٹ اور اب کراچی ائر پورٹ پر دہشت گرد کارروائی ہو چکی ہے۔ ان ناکامیوں کے لئے آئی ایس آئی کا کوئی عہدیدار ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے حالانکہ ان حملوں میں سو کے لگ بھگ لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ مگر یہ ایجنسی ایک نیوز چینل کی طرف سے غلط خبر نشر کرنے کے گناہ کو معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
کراچی ائر پورٹ حملے کو اس حوالے سے بھی ایجنسیوں کی ناکامی کہا جائے گا کہ انتہا پسندی ، ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات کی وجہ سے گزشتہ کئی ماہ سے اس شہر میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ ایسے آپریشن کے دوران ایجنسیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خاص طور سے سماج دشمن انتہا پسند عناصر پر نظر رکھیں۔ یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ کراچی کی متعدد آبادیوں میں طالبان کے مختلف گروہوں نے اپنے گڑھ بنا لئے ہیں۔ شہر میں جرائم اور پولیو ٹیموں پر حملوں کے ذریعے بھی ان دہشت گرد گروہوں کی قوت کا اندازہ کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ہماری ایجنسیاں ملک کے سب سے بڑے شہر میں پناہ لینے والے ان انتہا پسندوں کا سراغ لگانے اور ان کا قلع قمع کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ اسی لئے کراچی ائر پورٹ پر حملے جیسا المناک سانحہ بھی رونما ہؤا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے بتایا ہے کہ دس حملہ آور ازبک ، چیچن اور افغان باشندے تھے۔ انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ ان دہشت گردوں کے پاس غیر ملکی ساخت کا اسلحہ تھا۔ بھارت کے علاوہ افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں سرگرم ہیں۔ کل ہونے والا حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی منصوبہ بندی نہایت پروفیشنل انداز میں کی گئی تھی جو صرف نظریاتی طور پر لڑنے والے انتہا پسندوں کے بس کی بات نہیں ہے۔
حکومت پاکستان کو ملک کے فوجی سربراہ کے ساتھ مشاورت کے بعد اس معاملہ کی تہہ تک پہنچنا چاہئے۔ بلا جواز الزام تراشی نہ کرنا ایک اچھی حکمت عملی ہے لیکن اس بات کا سراغ لگانا بے حد ضروری ہے کہ کون سے خفیہ ہاتھ کل کے حملہ میں ملوث تھے اور اگر بھارتی یا افغان ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو پوری سفارتی قوت سے پاکستان کے خلاف ان ملکوں کے جارحانہ عزائم کو سامنے لانے EXPOSE کی ضرورت ہے۔ بھارت میں برسر اقتدار آنے والی ایک انتہا پسند حکومت پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ وہ تخریب کاری کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی ناپاک کوششوں سے باز رہے۔
اس مقصد کے لئے ملک کے تمام سیاستدانوں کو اب طالبان کا حقیقی مکروہ چہرہ بھی پہچان لینا چاہئے۔ طالبان کا باپ اور سرپرست کہلانے والے ملاﺅں کو بھی قوم کو یہ جواب دینا چاہئے کہ کیا وہ انہی لوگوں کی معصومیت ، دیانتداری اور حب الوطنی کے قصیدے پڑھتے ہوئے انہیں معاف کرنے اور مذاکرات کے ذریعے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ کیا اب وہ سامنے آ کر ان عناصر سے قطع تعلقی کا اعلان کریں گے جنہوں نے کل پاکستان کی معاشی شہ رگ پر حملہ کیا تھا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ مذاکرات کا ڈھونگ بند کر کے ان دہشت گرد عناصر سے اسی زبان میں بات کی جائے، جو وہ بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں اپنے جماعتی اور گروہی مفادات کو پیش نظر رکھنے کی بجائے قومی مفاہمت پیدا کرنے کے لئے کام کریں۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی مسلح افواج علاقائی صورتحال پر زیادہ پریشان ہونے اور اس کے بارے میں دور رس پالیسیاں بنانے کی بجائے ان عناصر کی سرکوبی کے لئے اپنی صلاحیتیں اور قوت صرف کریں جو اس ملک کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔

پڑھا گیا 1247 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

تنظیم آزادی فلسطین کے دفاتر کی بندش کی امریکی دھمکی مسترد

تنظیم آزادی فلسطین کے دفاتر کی بندش کی امریکی دھمکی مسترد

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) تنظیم آزادی فلسطین نے امریکی دھمکیوں کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن میں فلسطینی مشن بند کیا گ...

مقالہ جات

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org