تازہ ترین

سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ دوستی

کیٹیگری مقالہ جات
Thursday, 06 July 2017


مشہور مقولہ ہے کہ’’دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے‘‘ ادھر سعودی عرب اور امریکہ کی دوستی بھی اظہر من الشمس ہے۔اسی مقولے کے تحت سعودی عرب نے امریکہ کے گہرے دوست اسرائیل کے ساتھ بھی پینگیں بڑھانا شروع کر دی ہیں اور قطر و حماس کے ساتھ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی حالیہ کشیدگی کی اہم وجہ بھی یہی بتائی جارہی ہے کہ قطر حماس کی اعلانیہ سپورٹ کر رہا ہے اور حماس ہی فلسطین میں اسرائیل کے ساتھ مزاحم ہے۔

ریاض کانفرنس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے امریکی دورے میں ٹرمپ کے ساتھ یہ طے کر کے آئے تھے کہ سعودی عرب اب ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گا جس میں امریکہ اس کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا،امریکہ نے اس شرط پر مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی کہ سعودی عرب اس جنگ میں اسرائیل کو بھی ساتھ ملائے گا جسے سعودی عرب نے بخوشی قبول کر لیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ ریاض کانفرنس کے فورا ًبعد امریکی صدر کا طیارہ ریاض سے سیدھا تل ابیب لینڈ کرتا ہے اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاھو ٹویٹ کرتے ہیں کہ ’’ آج ریاض سے تل ابیب طیارے نے لینڈ کیا ہے،میری یہ تمنا ہے کہ جلد وہ دن آئے جب اسرائیلی وزیراعظم کا طیارہ بھی تل ابیب سے اٹھے اور ریاض جاکر اترے‘‘۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کے بیانات سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سعودی عرب ایران کے مقابلے میں اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے،رواں برس ایک کانفرنس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں سعودی عرب اور ایران ایک پیج پر آجائیں اور مل کر اس کے خلاف لڑیں؟ تو عادل الجبیر کا جواب بڑا واضح تھا،ان کا کہنا تھا کہ’’ہم دہشتگردی کے خلاف ایران سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ خطے میں دہشتگردی کو فروغ دینے کے لیے سب سے بڑا معاون ایران ہی ہے‘‘پھر الجبیر نے بہت سی ایسی مثالیں بھی دیں جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے مطابق ایران یہ سب کچھ کر رہا ہے۔

اسی موقع پر اسرائیل سے متعلق سوال کے جواب میں سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمارا اسرائیل سے اختلاف عرب اسرائیل کشمکش کے خاتمے تک ہے،ہماری خواہش ہے کہ جلد یہ معاملہ حل ہو تاکہ خطے میں جاری کشمکش کا خاتمہ ہو۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عرب اور اسرائیل اپنے مشترکہ دشمن ایران کے خلاف اتحاد کر سکتے ہیں؟ تو عادل الجبیر کا جواب تھا کہ ’’خطے میں بدامنی کے پیچھے ایران ہے،ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایران اپنے آپ کو بدلے تاکہ وہ دنیا سے الگ تھلگ نہ ہو جائے،اگر ایران اپنے رویے پر نظر ثانی نہیں کرتا تو پھر ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچتا‘‘۔ادھر اسرائیلی وزیردفاع کا بھی اس سے ملتا جلتا بیان سامنے آیا ہے کہ’’ ہمیں مشرق وسطیٰ میں تین چیلنجز کا سامنا ہے:ایران،ایران اور ایران‘‘۔

اسرائیل کے ساتھ قربتیں بڑھانے میں سعودی عرب تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر خلیجی ممالک بھی اس کے ساتھ ہیں جن میں امارا ت سب سے پیش پیش ہے۔دبئی پولیس کے سابق سربراہ ضاحی خلفان نے اپنی ٹویٹ میں یہاں تک کہ دیا کہ ’’میں فلسطین کے قیام کی تجویز نہیں دیتا بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ اسرائیل ہی میں یہودی اور فلسطینی مل کر رہیں،70 سال بعد (اسرائیل میں) مسلمانوں کی آبادی 75٪ ہو جائے گی‘‘۔

سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امریکا کے بڑے حلیف ہیں،کیا امارات اور سعودی عرب کے پاس اسرائیل کا کوئی متبادل نہیں؟ اور کیا ایران عربوں کے لیے اس قدر خوفناک ہے کہ وہ اسرائیل کے پیچھے کھڑے ہو کر ایران کا مقابلہ کریں گے؟اور کیا اسلامی ملک فلسطین کا دشمن اسرائیل سعودی عرب کا دشمن نہیں؟قبلہ اوّل کا مرکز فلسطین سعودی عرب کے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے یا پھر مادی طاقت کا مرکز امریکا؟ یا پھر دوستی کے معیار تبدیل ہو گئے ہیں اور اب نظریہ و بھائی چارہ سے زیادہ طاقت اور اسلحہ کی وقعت ہے؟اگر دوست کا دوست دوست ہوتا ہے تو کیا دوست کا دشمن دشمن نہیں ہوتا؟

پڑھا گیا 593 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

مسجدالاقصی پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں، حماس

مسجدالاقصی پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں، حماس

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے تمام فلسطینیوں اور پوری امت مسلمہ سے مسجد الاقصی کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد الاقصی ہما...

مقالہ جات

داعش کیخلاف پاکستان کی تیاریاں

داعش کیخلاف پاکستان کی تیاریاں

16 جولائی 2017ء کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ سرحد پار سے دول...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org