سعودی ولی عہد محمد بن نایف سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا ، نیو یارک ٹائمز کا انکشاف

کیٹیگری سعودی عرب
Friday, 21 July 2017


شیعیت نیوز: سعودی بادشاہت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا، اس ضمن میں سعودی بادشاہ سلمان کے 31سالہ بیٹے محمد بن سلمان نے سازشی کردار ادا کیا۔اس سے قبل ولی عہد سلطنت محمد بن نایف کو محل میں قید کرلیا گیا تھا ۔

یہ انکشافات امریکی روزنامہ نیو یارک ٹائمز نے ایک خصوصی خبر میں کئے ہیں۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ 20جون 2017ع کی شب سعودی شہزادوں اور سیکیورٹی سے متعلق افسران کو مکہ کے صفہ محل پہنچنے کی ہدایت یہ کہہ کرکی گئی کہ بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ محمد بن نایف کو بھی اسی شب یہ کہہ کر ہ بادشاہ سے ملاقات ہے لے جایا گیا لیکن وہاں بادشاہ کی بجائے ان کی ملاقات سعودی شاہی کورٹ کے افسران سے ہوئی جنہوں نے فوری طور پر انکا فون چھین لیا اور ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ ولی عہدی اور وزیر داخلہ کے عہدے سے دستبردار ہوجائیں۔ آغاز میں انہوں نے انکار کردیا۔ البتہ جوں جوں رات گذرتی گئی ، ان کے اعصاب جواب دینے لگے کیونکہ وہ ذیا بیطس کے مرض میں مبتلا ہیں۔ بالآخر دباؤ اور زبردستی کرکے انہیں عہدوں سے ہٹنے پر مجبور کردیا گیا۔

نیو یارک ٹائمز نے ان معلومات کا ذریعہ امریکی عہدیدار اور شاہی خاندان سے قربت رکھنے والے افراد کو قرار دیا ہے۔ اسی دوران شاہی کورٹ کے ا فسران نے بیعت کاؤنسل کے اراکین سعودی شہزادوں کو بلوالیا اور انہیں بتایا گیا کہ ڈرگ پرابلم کی وجہ سے محمد بن نایف ولی عہدی اور وزارت داخلہ سے دستبردار ہورہے ہیں۔ محمد بن نایف نے قطر پر پابندی کی مخالفت کی تھی اسی لئے ان کو ہٹانے کی سازش کی گئی۔ اس کے بعدایک وڈیو بنوائی گئی جس میں سعودی شہزادہ محمد بن سلمان جسے نیا ولی عہد مقرر کیا گیا تھا، اس نے محمد بن نایف کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا کہ ہم آپکی ہدایات اور نصیحتوں سے مستفید ہوناہرگز نہیں چھوڑیں گے ۔ بعد ازاں محمد بن نایف کو جدہ میں ان کے شاہی محل لے جایا گیا جہاں سے انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔ان کے قریبی ساتھی جنرل عبدالعزیز ال حویرینی کو بھی انکے گھر میں قید کرلیا گیا ہے لیکن اعلی سعودی سرکاری افسر کا کا دعویٰ ہے کہ جنرل حویرینی بدستور عہدے پر کام کررہے ہیں اور محمد بن سلمان کی بیعت بھی کرچکے ہیں ۔

سعودی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بیعت کاؤنسل کے 34میں سے 31اراکین نے تبدیلی کی حمایت کی ہے۔لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بیعت کاؤنسل میں شامل شہزادے سعودی بادشاہ کی مرضی کے برعکس کوئی رائے دینے سے گریزاں ہیں۔ بعض امریکی عہدیداروں اورباخبر سعودی کا خیال ہے کہ سعودی شاہی خاندان و نظام میں شکست و ریخت کا عمل ہورہا ہے۔ وہ سعودی جنہیں اس عمل سے دھچکا لگا ہے کہتے ہیں کہ اگر شاہی خاندان کے اندرونی اختلافات منظر عام پر آجائیں اورسعودی مملکت کو عدم استحکام سے دوچار کردیں تو اس سے بہت نقصان ہوگا ۔یاد رہے کہ اس مرتبہ سعودی بادشاہ یا ولی عہد میں سے کوئی بھی گروپ (G-20) کے سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوا حالانکہ پچھلی تین سربراہی کانفرنسوں میں ان کی مسلسل شرکت رہی ہے

پڑھا گیا 508 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

تنظیم آزادی فلسطین کے دفاتر کی بندش کی امریکی دھمکی مسترد

تنظیم آزادی فلسطین کے دفاتر کی بندش کی امریکی دھمکی مسترد

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) تنظیم آزادی فلسطین نے امریکی دھمکیوں کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن میں فلسطینی مشن بند کیا گ...

مقالہ جات

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org