پاکستان نے ٹرمپ کا بیان مسترد کردیا، افغان جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جاسکتی، اربوں ڈالر امداد کے دعوے غلط

کیٹیگری پاکستان
Friday, 25 August 2017


شیعیت نیوز: قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کو مسترد کرتے ہوئے امریکی پالیسی پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی بے لوث کوششوں کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
جمعرات کووزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس 5 گھنٹے تک جاری رہا جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان ، ڈی جی آئی ایس آئی ‘مشیرقومی سلامتی ‘وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ سمیت اعلی حکام نے شرکت کی‘ اجلاس میں امریکی دھمکیوں پر دوست ممالک سے رابطے کا فیصلہ کیاگیا‘اس ضمن میں وزیرخارجہ خواجہ آصف امریکا جانے سے قبل روس اورچین کا دورہ کریں گے ‘وزیراعظم نے شرکا کو حالیہ دورہ سعودی عرب پر اعتماد میں لیا جبکہ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے دورہ چین کے دوران چینی حکام سے ملاقاتوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوںکیخلاف بلاامتیاز کارروائی کی ‘بطور پڑوسی ملک پاکستان، افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے لیکن پاکستان کو قربانی کا بکرا بناکر افغانستان میں امن نہیں آسکتا ‘ اربوں ڈالر امریکی امدادکے دعوے غلط ہیں‘ سرحد پارشر پسندوں کی پناگاہیں ختم‘ہماری قربانیاں تسلیم کی جائیں ‘بھار ت ایشیاءمیں امن وسلامتی کا ضامن نہیں ہوسکتا‘ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں‘بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جا سکتی اورپاکستان چاہتا ہے کہ امریکی فوج افغان سرزمین پر قائم دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ٹھکانوں سمیت پاکستان میں دہشت پھیلانے والوں کو ختم کرنے کے لیے فوری اور موثر کوششیں کرے۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں افغان تنازع سے مہاجرین ، منشیات اور اسلحہ آیا اور پاکستان کے خلاف افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں بنیں جہاں سے پاکستان مخالف دہشتگرد گروپس پاکستان کے خلاف کارروائیاں اور حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ واضح ہے کہ افغانستان میں پیچیدہ مسائل اور اندرونی خلفشار نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکا، افغانستان میں آپریشن کے لیے 2001 سے اب تک پاکستان کی فضائی حدود استعمال کر رہا ہے، پاکستان کو اربوں ڈالر امداد کے دعوے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں، مذکورہ رقم پاکستان کی فضائی حدود اور دیگر سہولیات استعمال کرنے پر دی گئی، جبکہ مالی امداد کے بجائے عالمی برادری ہزاروں پاکستانیوں کی جانوں کی قربانیوں اور 120 ارب ڈالر کے نقصان کو تسلیم کرے۔
قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستانیوں کی جانیں اتنی ہی قیمتی ہیں جتنا کسی دوسرے ملک کے شہریوں کی ہیں، عالمی برادری مل کر افغانستان سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرائے اور باڈر مینجمنٹ، افغان مہاجرین کی واپسی اور افغان مسئلے کے سیاسی حل میں مدد کرے۔ اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی، پاکستان کے موثر انسداد دہشت گردی آپریشنز نے ثابت کیا ہے کہ اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہے، جبکہ پاکستان انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنے تجربات شیئرکرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور اسی رویے کی اپنے پڑوسیوں سے توقع رکھتا ہے۔کمیٹی نے بھارت کی جانب سے خطے کو غیر مستحکم کرنے اور بدامنی پھیلانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔کمیٹی کا کہنا تھا کہ بھارت، پاکستان کو مشرق اور مغرب سے غیر مستحکم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے، بھارت پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور دہشت گردی کو بطور ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ہندوستان جنوبی ایشیاءمیں امن وسلامتی کا ضامن نہیں ہوسکتا‘قومی سلامتی کمیٹی نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور اس کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں، پاکستان ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے لیے موثر کمانڈ اور کنٹرول نظام رکھتا ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاچکا ہے۔
ادھروزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میں نے دورہ امریکا ملتوی نہیں کیا وہاں ضرور جائوں گا اور بات چیت بھی کروں گا‘ جمعرات اور جمعہ کو امریکا کا دورہ کرنا تھا جسے ملتوی نہیں موخر کیا گیا ہے‘پہلے چین اورروس کا دورہ کرنے جاؤں گا۔جمعرات کو ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ سعودی عرب سے ہمارا گہرا رشتہ ہے ‘حرمین شریفین کے لیے ہماری جان بھی حاضر ہے‘ خطے کے متاثرہ ممالک کی افغانستان سے سرحدیں ملتی ہیں ‘روس سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں وہ ہمیں اسلحہ بھی فروخت کرنے کو تیار ہے‘ہمارے ماسکو کے ساتھ بہترین تعلقات قائم ہو چکے ہیں چین ہمارا قابل اعتماد ساتھی ہے ‘ایران افغانستان کے امن کا اسٹیک ہولڈر ہے ایران کو سو فیصد اس میں شامل ہونا چاہیے‘ اس مسئلے پر ہمارا ان کے ساتھ رابطہ بھی ہے‘ امریکا سمجھتا ہے کہ افغانستان کے لوگوں کو اپنا بنا کر امن قائم کر لے گا یہ محض خام خیالی ہے ‘وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں بتایا تو جائے کہ پناہ گاہیں کہاں ہیں؟۔

پڑھا گیا 210 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

تنظیم آزادی فلسطین کے دفاتر کی بندش کی امریکی دھمکی مسترد

تنظیم آزادی فلسطین کے دفاتر کی بندش کی امریکی دھمکی مسترد

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) تنظیم آزادی فلسطین نے امریکی دھمکیوں کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن میں فلسطینی مشن بند کیا گ...

مقالہ جات

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org