تازہ ترین

تعلیم یافتہ افراد کا دہشت گردی میں ملوث ہونا نئی بات نہیں

کیٹیگری پاکستان
Sunday, 10 September 2017


شیعیت نیوز: تعلیم یافتہ افراد کا دہشت گردی میں ملوث ہونا نئی بات نہیں، کراچی میں اس دہشت ناک سلسلے کا آغاز 17؍ سال پہلے ہوا جب پرویز مشرف دور میں امریکا نے افغانستان پر چڑھائی کی۔ القاعدہ، تحریک طالبان، جنداللہ اور لشکر جھنگوی سے لیکر انصار الشریعہ تک کئی کالعدم تنظیمیں ہیں جن کے ہائی پروفائل دہشت گرد اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی تھے۔تفصیلات کےمطابق کراچی میں دہشت گردی کا سلسلہ2000ء کے اوائل سے شروع ہوا پہلے امریکن قونصلیٹ اور پھر شیرٹن بم دھماکے کیے گئے، 2002ء میں دہشت گردی سب سے بڑی واردات امریکی صحافی ڈینئل پرل کا اغوا اور پھر قتل تھا۔ اس کا مرکزی دہشتگرد شیخ عمر لندن اسکول آف اکنامکس سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے آیاتھا ۔
اسی نے اغوا کا منصوبہ بنایا اور اسی نے ڈینئل پرل کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ 2004ء میں کور کمانڈر کراچی کے قافلے پر دہشت گردوں کا حملہ کون بھول سکتا ہے، یہ حملہ کالعدم جند اللہ نے کیا اور اس تنظیم کے تقریبا تمام ہی دہشتگرد کراچی یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل تھے، کالعدم جند اللہ کا امیر عطا الرحمان اور دیگر تعلیم یافتہ دہشتگرد تھے جنھوں نے سابق کور کمانڈر کراچی پر حملہ اور گلستان جوہر تھانے پر حملہ کیا تھا، عطا اللہ اس وقت جیل میں ہے اور اسے سزائے موت ہوچکی ہے، ڈاکٹر اکمل وحید اور ڈاکٹر ارشد وحید کا تعلق القاعدہ سے تھا، ڈاکٹر ارشد وحید ڈرون حملے میں مارا گیا۔
کراچی میں ہی 2005ء میں القاعدہ کا آئی ٹی ایکسپرٹ نعیم صبور خان عرف ابو طلحہ پکڑا گیا ، اس پر امریکی حکومت نے 50لاکھ ڈالر انعام رکھا تھا۔لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے عظیم شیخ کا تعلق حیدر آباد سے تھا لیکن وہ جسٹس مقبول باقر کے گھر پر حملے سمیت دیگر کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، وہ اپنے ساتھی فرحان کے ہمراہ 2013ء میں گرفتار ہوا اور اس وقت جیل میں ہے ۔ وہ پیشے کے لحاظ سے الیکٹرانکس انجینئر ہے۔ گزشتہ سال منگھوپیر میں مقابلے کے بعد مارا گیا داعش کا دہشت گرد کامران عرف گجر بھی گریجویٹ تھا۔
سانحہ صفورہ کے تقریباً تمام ہی دہشتگرد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیںسزائے موت پانے والے سعد عزیز نے آئی بی اے سے تعلیم حاصل کی سزائے موت کے دوسرے مجرم اطہر عشرت نے سر سید یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی سزائے موت پانے والے تیسرے مجرم حافظ ناصر نے کراچی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ماسٹرز کیا سزائے موت کے چوتھے مجرم ملک اسد الرحمان نے بھی این ای ڈی سے تعلیم حاصل کی سانحہ صفورہ کے ایک اور ملزم علی الرحمان نے بھی این ای ڈی سے تعلیم حاصل کی اس سال گلستان جوہر میں ڈی ایس پی ٹریفک فیض محمد شگری پر حملے میں ملوث دہشت گرد حذیفہ آئی ٹی ایکسپرٹ تھا۔
وہ منگھوپیر میں حساس ادارے اور پولیس سے مقابلے میں مارا گیا جبکہ اس کا ایک اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ساتھی اس وقت افغانستان میں ہے۔ اب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل طاہر ناگی، ڈی ایس پی ٹریفک کریم آباد، سائٹ، بہادر آباد میں پولیس اہلکاروں اور گلستان جوہر میں پولیس فاؤنڈیشن کے گارڈ کے قتل میں ملوث انصار الشریعہ کے دہشتگرد بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ اس کے سربراہ سے لے کر ٹارگٹ کلرز تک تمام ہی برطانیہ، این ای ڈی اور کراچی یونیورسٹی سے پاس آؤٹ ہونے کے علاوہ ٹیکنالوجی کے بھی ماہر ہیں۔

پڑھا گیا 176 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

امریکہ، صیہونی جنگی مجرموں کی حمایت کرتا ہے

امریکہ، صیہونی جنگی مجرموں کی حمایت کرتا ہے

فلسطین کی تحریک حماس نے واشنگٹن میں پی ایل او کا دفتر دوبارہ کھولنے کے لئے امریکہ کی شرط کو فلسطینی قوم کو جارحیت کا نشانہ بنانے پر صیہونی حکومت کے خل...

مقالہ جات

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org