تازہ ترین

فلسطینیوں کی تنہائی اور ٹرمپ کا رقصِ تلوار

کیٹیگری مقالہ جات
Friday, 08 December 2017


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنازعات کو جنم دینے کی صلاحیت لامحدود ہے۔ ابھی امریکہ اور باقی دنیا ان کے کسی پچھلے بیان یا اقدام پر تنقید یا مذمت کر ہی رہی ہوتی ہے تو وہ ایک نئی پھلجھڑی سے آگ لگا دیتے ہیں۔جب ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مہم میں طرح طرح کے دعوے اور وعدے کر رہے تھے تو مجھ سمیت متعدد لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ یہ سب کچھ بس انتخاب جیتنے کے لیے کر رہے ہیں اور صدر بننے کے بعد ظاہر ہے وہ ان روایات اور اقدامات کو جاری رکھیں گے جن کو امریکی اقدار، پالیسیاں اور روایات کہا جاتا ہے لیکن ہم سب نے دیکھ لیا کہ ایسا نہیں ہوا اور انھوں نے جس سوچ کا اظہار کیا تھا اسی پر عملدرآمد جاری رکھا۔ انھوں نے صدر بنتے ہی اپنے اولین اقدامات کے طور پر چھ مسلمان اکثریتی ممالک سے لوگوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگانے کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ دنیا نے بہت شور مچایا لیکن سب سے زیادہ اس کی مزاحمت امریکی شہریوں اور عدالتوں نے کی۔ لوگوں نے بڑے مظاہرے کیے اور عدالتوں نے اس حکم پر عملدرآمد روک دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کبھی روس کے ساتھ ان کے خاندان کے افراد اور قریبی ساتھیوں کے تعلقات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتے ہیں تو کبھی برطانوی انتہائی دائیں بازو کے ایک کالعدم گروپ کی مسلمان مخالف وڈیوز ٹوئٹر پر ری ٹویٹ کرنے کی وجہ سے برطانیہ سمیت کئی ممالک، انسانی حقوق کے گروپوں اور نامور افراد کی مذمت سے دوچار ہوتے ہیں۔ لیکن ابھی وہ معاملات گرم ہی تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ ترین اعلان یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا کر دیا۔ جیسا کہ توقع تھی کہ ان کے اس اعلان سے دنیا سے کئی ممالک ناخوش ہوئے اور اس کی مذمت کی۔ حماس نے ایک نئی انتفادہ کا اعلان کیا ہے جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی اعلان کو امن تباہ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ پاکستان میں بے روزگار بیٹھی ہوئی مذہبی جماعتیں کہلانے والی کئی تنظیمیں بھی میدان میں اتر آئی ہیں۔ ظاہر ہے صدر ٹرمپ نے انھیں امریکہ مخالف جذبات بھڑکانے کا ایک اور موقع دے دیا ہے۔ وہ جمعے کو ملک بھر میں نماز کے بعد امریکہ کو تباہ و برباد کرنے کے لیے مظاہروں اور احتجاج کا پروگرام بنا رہی ہیں۔ لیکن ایک مسئلہ درپیش ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک صدر ٹرمپ کے اس اقدام کی بظاہر مذمت کرنے کے لیے تو ایک دکھائی دیتے ہیں لیکن اس سے آگے کچھ کرنے یا کہنے کے لیے تیار نہیں۔ سعودی عرب سے لے کر ترکی تک سب زبانی جمع خرچ کی مہارت دکھا رہے ہیں۔ کون سب سے سخت مذمت کرتا ہے وہی سب سے بڑا مسلمانوں کا خیرخواہ تصور کیا جائے گا۔ چند دن یہ شور رہے گا، مظاہرے ہوں گے، بیان بازی کے مقابلے ہوں گے لیکن آخر میں دیو ہیکل اسرائیل کا سامنا کرنے کے لیے فلسطینی اکیلے ہی رہیں گے۔ مصر جو کہ سرحدی اعتبار سے فلسطینیوں کا قریب ترین مسلمان ملک ہے وہ تو فلسطینیوں کو علاج کے لیے بھی سرحد پار نہیں کرنے دیتا۔ اسلام کا سب سے بڑا داعی ملک سعودی عرب کل تک ڈونلڈ ٹرمپ کو تلوار تھما کر ناچ رہا تھا، گو اس کو معلوم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اصل میں کیا چاہتے ہیں۔ اب جب یہ اعلان ہو چکا اور فلسطینی اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ سعودی عرب امریکہ سے ایک ارب ڈالر کے ہتھیار خریدنے کا اپنا تازہ ترین معاہدہ ختم کردے گا۔ ترکی بھی نیٹو سے الگ ہونے یا امریکہ کے خلاف کوئی اور عملی اقدام کرتا نظر نہیں آتا۔ پاکستان بھی شاید مذمت سے آگے کچھ نہ کرے۔ بس جمعے کی نماز کے بعد کچھ مظاہرے ہوں گے، لیکن پھر ڈونلڈ ٹرمپ رقصِ تلوار کر کے مسلمان رہنماؤں کے دل جیت لیں گے اور فلسطینیوں کی اپنے حق کی جدوجہد تن تنہا ہی رینگتی رہے گی۔

پڑھا گیا 820 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

حماس نے جدید میزائل تیار کرلیا، اسرائیل میں تشویش

حماس نے جدید میزائل تیار کرلیا، اسرائیل میں تشویش

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) صیہونی حکومت کے فوجی ذرائع نے حماس کی میزائل طاقت کو اسرائیل کے آئرن ڈوم سسٹم کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ ز...

مقالہ جات

امریکہ، افغانستان میں داعش کی موجودگی کا حقیقی سبب

امریکہ، افغانستان میں داعش کی موجودگی کا حقیقی سبب

تحریر: پیر محمد ملا زہیافغانستان میں سکیورٹی بحران کی شدت میں اضافے سے جس ملک کو سب سے پہلے فائدہ حاصل ہو گا وہ امریکہ ہے۔ کیونکہ افغانستان میں بحران ...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org