طالبان کےخلاف امریکی ناکامی کے منفی اثرات پاکستان پر پڑنے کا خدشہ

کیٹیگری پاکستان
Monday, 08 January 2018


شیعیت نیوز: پاکستان نے امریکی حکام کو خبر دار کیا ہے کہ اگر طالبان کے خلاف افغان سرحد پر دونوں جانب سے عسکری حملوں میں ناکام ہوئی تو اس کے منفی نتائج مرتب ہوں گے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

اہم سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ امریکا کی افغانستان کے لیے نئی امریکی حکمت عملی کے اہم عنصر یہ ہے کہ وہ طالبان کے خلاف دو طرفہ فوجی کارروائی کا آغاز کرنے جارہے ہیں تاکہ فوجی آپریشن کے ذریعے طالبان کو شکست دے کر انہیں کابل حکام کی شرائط پر افغان مفاہمتی عمل کا حصہ بننے پر مجبور کیا جائے۔

پاکستان کو امریکا کے اس بنیادی نقطہ نظر سے ہرگز اختلاف نہیں بلکہ اسلام آباد کے لیے سب سے پریشان کن پہلو یہ ہے کہ اگر طالبان کے خلاف منظم عسکری حکمت عملی ناکام ہو گئی تو اس کے کیا نتائج مرتب ہوں گے؟۔

اس سے قبل ہفتہ وار پریس بریفنگ میں امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی امریکی حکمت عملی پر تبصرہ کرتےہوئے کہا تھا ‘ہم پاکستان کے ساتھ مل کر خطے کی حکمت عملی پر کام کررہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کو اس خطے سے نکال پھینکیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا ‘مجھے پختہ یقین ہے کہ پاکستان کی آئینی حکومت دہشت گردی کے خلاف امریکی حکمت عملی کی تکمیل میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے’۔

گزشتہ روز جیمز میٹس نے واضح کیا تھا کہ پاکستان پر عسکری امداد کی پابندی کے باوجود پینٹاگون پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت خصوصاً چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطے بحال کررہا ہے۔

جنرل جیمز میٹس نے کہا ‘میرا خیال ہے کہ جنرل جوزف وٹل نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے فون پر گفتگو کی اور ہم مزید رابطے کی فضا بحال کریں گے’۔

تاہم پریس بریفنگ میں سیکریٹری دفاع نے اس امر پر یقین دہانی نہیں کرائی کہ آرمی چیف جنرل قمر سے گفتگو پاکستان پر امداد کی پابندی سے قبل ہوئی یا بعد میں۔

واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر جنرل وٹل افغانستان میں جاری جنگ میں امریکی افواج کے سربراہ ہیں جہاں 14 ہزار نیٹو فورسز اور دیگر عسکری اثاثے بھی موجود ہیں۔

جیمز میٹس نے بتایا کہ افغان حکمت عملی کے تناظر میں (پاکستان کے خلاف) حالیہ فیصلے کے اثرات کا جائزہ لیا جا چکا اور یہ تمام ایک ہی تزویراتی منصوبے سے جوڑے ہیں۔

سیکریٹری دفاع نے واضح کیا ‘امریکا داعش کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے گا’۔

جنرل میٹس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے مثبت کردار پر ستائشی کلمات کے بعد امریکی تحفظات کا اظہار کیا کہ اسلام آباد کو افغانستان میں طالبان کی شکست اور پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ سنجیدہ بنیادوں پر رابطوں کی ضرورت ہے۔

جیمز میٹس نے بتایا کہ پاکستان کی تمام تر قربانیوں کے باوجود ہمیں سخت نوعیت کے تحفظات ہیں جس کے حل کے لیے دوطرفہ مذاکرات ہور ہے ہیں۔

انہوں نے اقرار کیا کہ پاکستان اورامریکا کے اعلیٰ سطحی وفد جنگ جتنے کے حوالے سے سر جوڑے بیٹھے ہیں۔

پڑھا گیا 274 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقالہ جات

مغالطوں کے دور میں سوچ کا درست زاویہ

مغالطوں کے دور میں سوچ کا درست زاویہ

مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ تحریک پاکستان جب چل رہی تھی تو تمام مسلمان (شیعہ و سنی) مل کر کام کر رہے تھے اور قیام پاکستان کی مرکزی قیادت شیعہ و...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org