انقلاب اسلامی ایران کی بقا کا راز

کیٹیگری مقالہ جات
Sunday, 11 February 2018


تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

ایران میں رونما ہونے والا اسلامی انقلاب پانچویں عشرے میں داخل ہو رہا ہے اور اب تک اس نے اپنا تشخص محفوظ رکھا ہے۔ 1979ء میں برپا ہونے والے اس انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والا "اسلامی نظام" بھی بدستور انقلابی نظریات کی تکمیل اور انہیں تسلسل بخشنے کا کام انجام دے رہا ہے۔ انقلاب اسلامی کا کوئی اصول یا مقصد تبدیلی کا شکار نہیں ہوا اور اپنی افادیت نہیں کھویا۔ رہبر معظم انقلاب اور انقلابی عوام اب بھی پوری گرمجوشی سے انقلاب کی راہ پر چل رہے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا ہنوز ایسے جدید اسٹریٹجک واقعات رونما ہونے کی منتظر ہے جو اس انقلاب کے منشور اور اہداف میں شامل ہیں۔ یہ اسلامی انقلاب اور دیگر ایسے انقلابات کے درمیان بنیادی ترین فرق ہے جو گذشتہ تین صدیوں کے دوران بین الاقوامی یا علاقائی سطح پر رونما ہوئے ہیں۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔

جب ہم معروف معنی میں انقلاب کی بات کرتے ہیں تو گذشتہ تین صدیوں کے دوران فرانس کا انقلاب (1789ء تا 1799ء)، روس کا انقلاب (اکتوبر 1917ء)، چین کا انقلاب (1949ء)، برصغیر کا انقلاب (1947ء) اور الجزائر کا انقلاب (1954ء تا 1962ء) جیسے انقلابات سے روبرو ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک انقلاب بعض مخصوص اہداف اور کسی خاص رژیم کے خلاف رونما ہوا اور کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ ان میں سے کوئی بھی انقلاب یا ان سے ملتا جلتا کوئی اور انقلاب طویل المیعاد مدت تک قائم نہ رہ سکا اور مختصر مدت میں ہی اس کے بنیادی اصول اور پالیسیاں دگرگوں ہو گئیں۔ اس لحاظ سے ایران میں رونما ہونے والا اسلامی انقلاب اپنی مثال آپ ہے۔ اب ہم گذشتہ تین صدیوں میں رونما ہونے والے ان انقلابات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

فرانس کا انقلاب:
یہ انقلاب سترہویں صدی کے آخر میں بوربن شاہی خاندان کے خلاف برپا ہوا لیکن اپنی کامیابی کے چار سال بعد ہی یعنی 1793ء میں روبسپیئر نامی شخص کی سربراہی میں ایک گروہ نے اس کا خاتمہ کر دیا اور سلطنتی نظام حکومت دوبارہ واپس لوٹ آیا۔ انتہائی مختصر مدت میں فرانس میں شروع ہونے والی خانہ جنگی یورپ کے دیگر بڑے ممالک میں بھی پھیل گئی اور بیرونی عناصر بھی اس میں مداخلت کرنے لگے۔ یہ خانہ جنگی اور بدامنی تیرہ برس تک جاری رہی جو تاریخ میں "نپولین وارز" کے نام سے معروف ہیں۔ ان جنگوں کے دوران فرانس، اسپین، برطانیہ اور اٹلی کے 25 لاکھ 67 ہزار فوجی اور عام   شہری ہلاک ہو گئے جن میں سے صرف فرانسوی افراد کی تعداد 18 لاکھ 36 ہزار تھی۔ اس زمانے میں فرانس کی کل آبادی 1 کروڑ 5 لاکھ سے 1 کروڑ 7 لاکھ کے درمیان تھی۔

اگرچہ انقلاب فرانس کے ثقافتی پہلو جاری رہے اور اب بھی عالمی سطح پر موثر ہیں لیکن اس کی عوامی نوعیت جس نے طاقتور گروہوں کے تعلقات نابود کر ڈالے تھے اور اسی طرح عدالت جوئی مکمل طور پر ختم ہو گئی اور بوربن دور کا استعماری تشخص اور بربریت واپس لوٹ آئی۔ ثقافتی نقطہ نظر سے بھی فرانس کا انقلاب اخلاق، گھرانے اور فردی حقوق کی نابودی پر منتج ہوا۔ انقلاب فرانس کے بارے میں ڈی ٹوکوئے ویلے (De Tocqueville) اور فرانٹز فینن (Frantz Fanon) جیسے محققین کی لکھی گئی کتابوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1789ء کے انقلاب فرانس کے اہداف و مقاصد چند سال سے زیادہ باقی نہ رہ پائے اور ختم ہو گئے۔ الیکسی ڈی ٹوکوئے ویلے (1805ء تا 1859ء) جو موجودہ علم سماجیات اور علم سیاسیات کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، اپنی کتاب "فرانس اور اس کی گذشتہ رژیم" میں لکھتے ہیں کہ فرانس کا انقلاب 1789ء میں ہی ختم ہو چکا تھا اور ایک سال سے زیادہ باقی نہ رہ سکا۔

روس کا انقلاب:
1905ء سے روس میں زار سلطنتی خاندان کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا جس کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ جھڑپیں 1917ء تک جاری رہیں اور آخرکار زار سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس انقلاب میں ایک طرف لیون ٹراٹسکی کی سربراہی میں مزدور طبقہ تھا جبکہ دوسری طرف تزار بادشاہ کی فوج تھی جسے برطانیہ اور فرانس کی حمایت بھی حاصل تھی۔ مزدور طبقہ کامیاب ہو گیا اور زار نکولس دوم رومانوف کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ انقلاب کی کامیابی کے 130 دن بعد لیون ٹراٹسکی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا اور ولادیمیر لینن نے انقلاب کی قیاست سنبھال لی۔ وہ بھی 1924ء کے آغاز میں تین سال بیمار رہنے کے بعد فوت ہو گئے اور انقلاب کی سربراہی جوزف اسٹالین کے ہاتھ میں آ گئی۔ اسٹالین 1953ء میں اپنی وفات تک قیادت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

روس کے انقلاب کے بارے میں تقریباً تمام محققین اور ماہرین کی یہی رائے ہے کہ جب 1922ء میں لینن نے بیماری کی وجہ سے اقتدار اپنے وزیراعظم اسٹالین کو سونپا تو انقلابی اقدار اور اہداف کا خاتمہ ہو گیا اور اپنی اینٹی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ اس کے بعد ایسے کروڑوں مزدوروں کو جو اپنی زندگی میں فلاح و بہبود کی توقع رکھتے تھے زبردستی سائبیریا کی کانوں میں مزدوری کیلئے بھیج دیا گیا جن میں سے بڑی تعداد کام کی سختی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ روس میں رونما ہونے والا اکتوبر کا سوشلسٹ انقلاب جو آزاد اور مسلط طبقے سے عاری دنیا کی نوید دلاتا تھا اختتام پذیر ہو گیا اور سوویت یونین ایک استعماری قوت میں تبدیل ہو گیا۔ اس انقلاب اور 1917ء سے 1922ء کے دوران خانہ جنگی کے دوران 2 کروڑ افراد ہلاک ہو گئے جن میں سے 1 کروڑ 3 لاکھ افراد انقلاب کامیاب ہونے کے پانچ سال بعد تک ہلاک ہوئے۔ جب اسٹالین برسراقتدار آیا تو اس نے کارل مارکس، لینن اور ٹراٹسکی کی تمام تعلیمات ترک کر دیں اور مکمل آمرانہ نظام قائم کر دیا جو درحقیقت سابق زار رومانوف حکومت کا احیاء تھا۔

چین میں کسانوں کا انقلاب:
اس انقلاب کا آغاز 1921ء میں ہوا اور ماو زے تنگ کی قیادت میں تقریباً تیس سال کی جدوجہد کے بعد 1949ء میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ ملک کی داخلی سطح پر اس انقلاب کا مقصد طبقاتی نظام حکومت کا خاتمہ اور کسانوں کو ان کے حقوق دلوانا جبکہ عالمی سطح پر امریکہ اور سوویت یونین کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنا تھا۔ پہلے عشرے میں چین کا انقلاب خانہ جنگی کا شکار رہا جس میں دسیوں لاکھ افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ ماو زے تنگ نے 1958ء میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے "آگے کی جانب بڑی چھلانگ" نامی منصوبہ لاگو کیا۔ اس منصوبے میں مالکیت کو قبول کیا گیا تھا جو اس کے انقلابی نعروں سے تضاد رکھتا تھا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں چین بڑے پیمانے پر قحطی کا شکار ہو گیا جس میں 4 کروڑ چینی لقمہ اجل بن گئے۔

اگرچہ ماو زے تنگ انقلاب کی کامیابی کے تینتیس برس بعد 1976ء میں فوت ہو گیا لیکن ان کی عمر کے آخری عشرے میں چینی عوام نے انہیں پس پشت ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ 1970ء کی دہائی کے آغاز سے "چین کا ثقافتی انقلاب" جو اصل میں ثقافتی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ سیاسی اور اقتصادی نوعیت کا تھا شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں چینی انقلاب کے بانی ماو زے تنگ کی زندگی میں ہی ان کے انقلاب کا خاتمہ ہو گیا۔ ثقافتی انقلاب کے بعد چین میں سوشلزم کی جگہ سرمایہ داری نظام حکمفرما ہو گیا اور چینی حکام نے امریکہ سے بھرپور تعلقات کے قیام کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا۔ اس طرح چین ایک طرح سے امریکی خارجہ پالیسی میں ہضم ہو گیا جیسا کہ اب بھی چینی حکام خارجہ پالیسی میں امریکہ سے ٹکر لینے سے کتراتے ہیں۔ البتہ حالیہ چند عشروں میں چین نے اقتصادی میدان میں بہت ترقی کی ہے لیکن چین کا اپنا تشخص اور روایات کو دھچکہ پہنچا ہے۔

الجزائر کا انقلاب:
الجزائر کے عوام نے 1954ء میں فرانسوی استعمار کے خلاف آواز بلند کی اور مسلسل جدوجہد کے بعد 1962ء میں آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس انقلاب کا مقصد سیاسی خودمختاری کا حصول اور عوامی حکومت کا قیام تھا لیکن تین سال بعد ہی فرانسوی استعمار دوبارہ واپس لوٹ آیا۔ البتہ اس بار یہ استعمار براہ راست نہ تھا بلکہ "نیشنل لبریشن فرنٹ" نامی سیاسی جماعت کی صورت میں تھا جس نے برسراقتدار آ کر "الجزائر ریپبلک" تشکیل دی۔ اس انقلاب کے دوران دس لاکھ کے قریب انسان قتل ہو گئے جبکہ اس وقت الجزائر کی کل آبادی ایک کروڑ سے بھی کم تھی۔ درحقیقت پانچ برس کے اندر اندر اس انقلاب کا نام و نشان تک باقی نہ بچا۔

مختصر یہ کہ دنیا کے تمام انقلابات چاہے وہ جو عالمی اہداف کے مالک تھے یا وہ جن کے اہداف داخلی حد تک تھے کامیابی کے بعد مختصر مدت میں ہی بین الاقوامی حالات میں ہضم ہو کر رہ گئے اور ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ایران میں رونما ہونے والا اسلامی انقلاب چالیس برس گزر جانے کے بعد بھی باقی ہے اور اپنے داخلی اور عالمی اہداف و مقاصد کے حصول کیلئے کوشاں نظر آتا ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب نے اپنا تشخص،

انقلاب اسلامی ایران ایک دینی انقلاب تھا جس کی سرپرستی دینی رہنماوں اور بزرگ شخصیات نے کی۔ دین بنیادی اقدار کا حامل ہونے کے ناطے انقلاب اسلامی ایران کے اصولوں، اہداف اور اس کے نتیجے میں تشکیل پانے والے نظام کی بقا کا سبب بنا ہے۔ انقلاب اسلامی ایران کے دوسرے قائد نے دیگر انقلابات کے دوسرے قائدین کے برعکس برسراقتدار آنے کے بعد نظر ثانی نہیں کی بلکہ سب سے بڑھ کر انقلابی اقدار کے تسلسل اور بقا پر زور دیا ہے۔ اس دوران – یعنی انقلاب اسلامی ایران کی دوسری قیادت کے دوران – معاشرے میں اور درمیانی سطح کے لیڈران اور حکومتی عہدیداران میں ایسے افراد بھی آئے جنہوں نے انقلاب اسلامی کو اپنے اصلی راستے سے منحرف کرنے کی کوشش کی لیکن عوام کی جانب سے بھرپور انداز میں ردعمل ظاہر کئے جانے کے سبب وہ افراد اپنی ان کوششوں میں ناکام ہو گئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی انقلاب کی حفاظت اور بقا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موجودہ سپریم لیڈر امام خامنہ ای کا کردار انتہائی اہم اور بنیادی ہے۔ انہوں نے اپنی مسئولیت کے دوران انقلاب اسلامی ایران کے بانی امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی جانب سے تعیین شدہ اہداف سے ہلکا سا انحراف بھی برداشت نہیں کیا اور ہمیشہ ایسے افراد اور گروہوں کے مقابلے میں شدید استقامت کا مظاہرہ کیا ہے جنہوں نے اسلامی انقلاب کے اصلی اہداف میں تبدیلی کی کوشش کی ہے۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سپریم لیڈر کی ذمہ داری سنبھالتے ہی امام خمینی رح کی راہ پر ثابت قدم رہنے کا راز بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"امام خمینی رح کی شخصیت کا دنیا کے دیگر لیڈران کی شخصیت سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کا موازنہ صرف انبیاء، اولیاء اور معصومین سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ وہ ان کے شاگرد اور پیرو تھے لہذا ان کا دنیا کے دیگر سیاسی رہنماوں سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔" امام خامنہ ای فخر سے فرماتے ہیں: "ہم خدا کے شکر گزار ہیں کہ دل و جان سے امام خمینی رح کی باتوں پر یقین کیا اور ان کی پیروی کی اور رکے نہیں اور آدھے راستے میں انہیں ترک نہیں کیا۔"

ایران میں کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب نے داخلی اور عالمی سطح پر بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ کامیابیاں ایسے حالات میں حاصل ہوئی ہیں جب انقلاب کے بعد آنے والی حکومتوں کی آمدن گذشتہ حکومتوں کی نسبت بہت کم رہی ہے اور ایران مالی حوالے سے بہت زیادہ مشکلات اور پابندیوں کا شکار رہا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد عالمی طاقتوں نے طرح طرح کی دشمنی شروع کر دی۔ دوسری طرف ملک کی آبادی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن اس کے باوجود ایرانی عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم اور صحت کے میدان میں بہت زیادہ ترقی دیکھنے کو ملی ہے۔

انقلاب اسلامی ایران علاقائی سطح پر بھی باقی ہے۔ جیسا کہ ہم آج خطے کے کئی ممالک میں انقلاب اسلامی کے اثرات اور نتائج کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ آج خطے کی اقوام کی جانب سے اپنے مسائل کے حل کیلئے ایران کا دامن تھامنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی سطح پر انقلاب اسلامی جاری و ساری ہے۔ اسی طرح آج خطے میں اسلامی انقلاب کی رفتار اس وقت سے بھی زیادہ ہے جب ایران میں اسلامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا تھا۔

پڑھا گیا 287 دفعہ Last modified on Sunday, 11 February 2018

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

فلسطینی عوام کا واپسی مارچ جاری رکھنے کا اعلان

فلسطینی عوام کا واپسی مارچ جاری رکھنے کا اعلان

فلسطین انفارمیشن سینٹر کے مطابق وزارت صحت کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ جارحیت میں شہید ہونے والوں میں تیرہ بچے بھی ش...

مقالہ جات

صدی کی سب سے بڑی ڈیل کیا ہے؟

صدی کی سب سے بڑی ڈیل کیا ہے؟

صدی کی سب سے بڑی ڈیل در حقیقت مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے ایک نیا نقطہ نظرہے جسے امریکی صدر ٹرمپ نے پیش کیا ہے اور اس نقطہ نظر کو امریکی اتحادی عرب ممال...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org