تازہ ترین

تو کیا ایک کھلی جنگ کاالارم جنگ بج چکا ہے ؟

کیٹیگری مقالہ جات
Monday, 12 February 2018


یہ ایک تاریخی دن ہے ،آج پریکٹیکلی طور پرطاقت کا توازن بدل چکا ہے ،ہم نے اس قسم کے ایک تاریخی لمحے کا بڑا انتظار کیا تھا ۔۔،آج ایک نئی اسٹراٹیجی کا آغاز ہوچلا ہے ،شام کی سڑکوں پر جشن کا سماں ہے تو عرب عوام خاص کر فلسطینی مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں ۔۔۔
یہ عناوین آج زیادہ تر عرب میڈیا میں دیکھے جاسکتے ہیں کہ جس کے ساتھ اس اسرائیلی ایف سولہ طیارے کی فوٹیج دیکھائی دیتی ہے کہ جسے شام کے فضائی ڈیفنس نے سام 5نامی میزائل کے زریعے ماگرایا ہے ۔
اسرائیلی طیارے شامی حدود کے اندر داخل ہونا چاہ ہی رہے تھےکہ انہیں شام کی فضائیہ کے میزائل کا سامنا کرنا پڑا کہ جس میں ایک طیارہ تباہ جبکہ دوسرا طیارہ میزائل لگنے کے بعد واپسی کا رخ کرنے میں کامیاب رہا ۔
اسرائیل شام کی اس جوابی کاروائی کے بعد بری طرح سیراسمیگی میں دیکھائی دیتا ہے کہ جس نے امریکہ اور روس سے کہا کہ وہ فورا اس معاملے میں مداخلت کریں اور اس کے ساتھ اسرائیلی مسلسل یہ کہتے دیکھائی دیے کہ مزید کشیدگی اسرائیل کے حق میں نہیں ،شائد وہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ مزید کشیدگی نہیں چاہتے لہذا شام کی افواج کو بھی یہی پر رکنا چاہیے ۔
اسرائیل کے لئے یہ جوابی کاروائی انتہائی غیر متوقع تھی شائد وہ سوچ بھی نہیں رہا تھا کہ اس قسم کی جوابی کاروائی بھی ہوسکتی ہے ۔
بات صرف اتنی نہیں کہ ایک اسرائیلی طیارہ مار ا گیا ہے بات دراصل خطے میں اسرائیلی جھوٹی برتری کو پہنچنے والے دھچکے کی ہے ۔
بات یہ ہے کہ اس کے بعد طاقت کا توازن بدل چکا ہے اور شام اور اس کے اتحادیوں نے کھلا پیغام دیا ہے کہ اب بات آگے بھی بڑھ سکتی ہے۔
تو کیا ایک کھلی جنگ کاالارم جنگ بج چکا ہے ؟
کیا موجودہ کشیدہ صورتحال میں کہا جاسکتا ہے کہ ایک کھلی جنگ کا اعلان ہوچکا ہے کم ازکم شمالی فرنٹ پر؟
ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیلی اندرونی صورتحال ایسی کسی بھی جنگ کے لئے تیار دیکھائی نہیں دیتی گرچہ شام کی جوابی کاروائی نے اسرائیلی بڑوں کو سخت مشکلات سے دوچار ضرور کیا ہے اور نتن یاہوحکومت پر اس وقت مختلف جوانب دے دباو میں اضافہ ہورہا ہے۔
اسرائیل شام میں موجود مزاحمتی بلاک کی مضبوط پوزیشن سے پوری طرح آگاہ ہے اور وہ جانتا ہے کہ کسی ایک جغرافیائی محاذ تک اس جنگ نے محدود نہیں رہنا بلکہ یہ جنگ لبنان سے لیکر شام اور فلسطین کے اندر تک ایک وسیع محاذ میں ہوگی اور ایک ایسی جنگ کا چند دن بھی سامناکرنا اسکے لئے مشکل ہوگا ۔
اسرائیل کے لئے شام کی جوابی کاروائی ایک سرپرائز سے بڑھکر ہے لہذا وہ چاہے گا کہ پہلے اس نئی صورتحال اور بدلتے طاقت کے توازن کا بغور جائزہ لے ۔
ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں موجود تمام قوتیں کھلی جنگ نہیں چاہتی لیکن اس کے باوجود اسرائیلی اس قسم کے ایڈونچر کسی بھی وقت جنگ کی آگ کو بڑھکا سکتی ہے خاص کر کہ وہ بدلتے ہوئے طاقت کے اس تواز ن کو کبھی بھی ہضم نہیں کرپائے گا ۔
اسرائیل نے خفت مٹانے کے لئے ایک کھلا جھوٹ بولا کہ اس نے شام میں ایرانی اور شامی اہم عسکری ٹھکانوں پر جوابی بمباری کی ہے جیساکہ اس واقعے سے پہلے بھی اس نے جھوٹ بولا تھا کہ ایک ایرانی ڈرون طیارے نے اسرائیلی حدود کی خلاوف ورزی کرتے ہوئے اس کی فضائی حدود میں پرواز کی تھی جسے مار گرایا گیا ۔
شام میں موجود مزاحمتی بلاک کے مشترکہ آپریشن روم کے اعلان کے مطابق جاسوسی ڈرون طیارہ شروع سے شام کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کے لئے آپریشن میں شامل ہے ۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی ڈرون گرانے کے اسرائیلی دعوے کو مضحکہ خیز قرادیتے ہوئے کہا صیہونی غاصب ریاست ہمیشہ اس قسم کے جھوٹ بولنے کی عادی ہے ۔
اس پر کوئی شک نہیں کہ آج کا دن تاریخی بھی ہے اورخوشی کے اظہار کے لئے مناسب بھی۔

پڑھا گیا 1186 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

مقالہ جات

اربعین میں پیدل کربلا کی زیارت کا ثواب

اربعین میں پیدل کربلا کی زیارت کا ثواب

اربعین یا چالیس ایک ایسا عدد ہے جو بڑ ی خصوصیتوں کاحامل ہے مثلاً زیادہ ترانبیاء چالیس سال کی عمر میں مبعوث بہ رسالت ہوئے، موسیٰ (ع) اور خدا کی خصوصی م...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org