تازہ ترین

28 رجب: امام حسین (ع) کے سفر کربلا کا آغاز

کیٹیگری مقالہ جات
Saturday, 14 April 2018


امام حسین(ع) نے معاویہ کی موت کے بعد یزید کی بیعت کو جائز نہيں سمجھا اور آپ کی حکومت و زمامداری قبول کرنے کے سلسلے میں اہل کوفہ کی دعوت کے پیش نظر مکہ سے کوفہ روانہ ہوئے لیکن آپ کو کربلا میں کوفیوں کی عہد شکنی کا سامنا کرنا پڑا اور آخر کار عاشورا سنہ 61 ہجری کو کربلا کے میدان میں دو لشکروں کے مابین ہونے والی جنگ میں آپ اور آپ کے قلیل ساتھی جن کی تعداد 72 افراد جام شہادت نوش کرگئے اور اہل بیت اور اصحاب میں سے آپ کے پسماندگان یزیدی لشکر کے ہاتھوں اسیر ہوئے اور کوفہ اور شام بھجوائے گئے۔

یزید کی بیعت سے انکار اور اس کے نتائج
نصف رجب سنہ 60 ہجری کو معاویہ کی موت کے بعد، لوگوں نے[1] یزید کے ہاتھ پر بیعت کی۔[2]یزید کو بر سر اقتدار آنے کے بعد ـ اس کی بیعت کے لئے معاویہ کی دعوت مسترد کرنے والے چند افراد سے بیعت لینے کے سوا ـ کوئی دوسری فکر لاحق نہ تھی۔[3] اسی بنا پر اس نے اس وقت کے والیِ مدینہ ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کو ایک خط لکھا اور اس کو معاویہ کی موت کی خبر دی اور ساتھ ہی ایک چھوٹا اور مختصر خط بھی بھجوایا جس میں یزید نے ولید کو ہدایت کی تھی کہ "حسین بن علی، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر سے زبردستی بیعت لو اور جو نہ مانے اس کا سر قلم کرو"۔[4] ان مکتوبات کے پہنچتے ہی ایک اور مکتوب بھی یزید کی طرف سے پہنچا جس میں اس نے والی مدینہ کو حکم دیا تھا کہ یہ خط وصول کرتے ہیں میرے حامیوں اور مخالفین کے نام میرے لئے بھجوادو اور حسین بن علی(ع) کا سر بھی، خط کے جواب کے ساتھ میرے لئے روانہ کرو۔[5] چنانچہ ولید نے مروان سے مشورہ کیا؛[6] اور مروان بن حکم کی تجویز پر انہيں دارالامارہ بلوایا۔[7] ولید نے عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان کو امام حسین(ع)، ابن زبیر، ابن عمر اور عبدالرحمن بن ابی بکر کے پاس روانہ کیا کہ [8] انہیں حاکمِ مدینہ کے پاس بلا دے؛ تاہم امام(ع) اپنے 30[9] ساتھیوں کے ہمراہ ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ کے دارالامارہ پہنچے۔[10] ولید نے معاویہ کی موت کی خبر سنائی اور پھر یزید کا خط پڑھ کر سنایا جس میں اس نے حکم دیا تھا کہ "حسین(ع)، سے میرے لئے بیعت لو"۔ چنانچہ ولید نے امام حسین(ع) سے کہا کہ بیعت کریں! تاہم امام حسین(ع)، نے مہلت مانگی اور ولید نے بھی مہلت دے دی۔[11] امام(ع) نے ولید سے فرمایا: "کیا تمہیں یہی پسند ہے کہ میں در پردہ، بیعت کروں؟ میرے خیال میں تمہارا مقصد بھی یہ ہے کہ میری بیعت عوام کی آنکھوں کے سامنے ہو"۔ ولید نے کہا: ہاں! میرا مقصد بھی یہی ہے۔[12] امام(ع)، نے فرمایا: "پس، کل تک مجھے فرصت دو تا کہ میں اپنی رائے کا اعلان کروں۔[13]

حاکم مدینہ نے دوسرے روز شام کے وقت اپنے افراد امام(ع) کے ہاں بھجوایا تاکہ آپ(ع) سے جواب وصول کرے؛۔[14] تاہم امام(ع) اس رات کے لئے بھی مہلت ماگی اور ولید نے پھر بھی آپ(ص) کو مہلت دی۔۔[15] شہر مزید پر امن نہ رہا تھا چنانچہ امام حسین(ص) نے مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔[16] امام حسین(ع) اسی رات [یعنی اتوار کی رات مدینہ چھوڑ کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔[17]

مدینہ سے ہجرت مکہ کی طرف عزیمت
رسول اللہ(ص) مشرکین قریش کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے مکہ سے ہجرت کرگئے تھے تو فرزند رسول(ص) کو ان ہی وجوہات اور ان ہی مشرکین کی اولاد کی سازشوں کی بنا پر مدینہ چھوڑ کر مکہ اور پھر عراق کی طرف ہجرت کرنا پڑی جنہوں نے امام حسین(ع) کو قتل کرکے کہا: کاش میرے بدر میں مارے گئے آباء و اجداد آج زندہ ہوتے اور میرے اس کارنامے کو دیکھ کر کہتے تیرے ہاتھ شل نہ ہوں؛ یعنی مدینہ سے مکہ اور عراق کی طرف امام حسین(ع) کی ہجرت اسلام کے دعویداروں کی سازشوں کا نتیجہ تھی۔ یہاں اس ہجرت کے مختلف مراحل اختصاراً بیان کئے جارہے ہیں:

ترک وطن
امام(ع) نے مدینہ سے نکلنے کا ارادہ کیا؛ رات کے وقت اپنی والدہ ماجدہ اور بھائی کی قبور پر حاضری دی اور نماز بجا لائی اور وداع کیا اور صبح کے وقت گھر لوٹ آئے۔[18] بعض تاریخی ذرائع نے بیان کیا ہے کہ امام(ع) نے دو شب مسلسل اپنے جد امجد کی قبر کے پاس رہے۔[19]

وصیت، بھائی کے نام
محمد بن حنفیہ کو معلوم ہوا کہ بھائی حسین(ع) عنقریب سفر پر جارہے ہیں تو انھوں نے آ کر وداع کیا۔ امام(ع) نے اپنی وصیت ان کے نام پر لکھی جس کا مضمون کچھ یوں تھا: "إِنّى لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلا بَطَرًا وَلا مُفْسِدًا وَلا ظالِمًا وَإِنَّما خَرَجْتُ لِطَلَبِ الاِْصْلاحِ فى أُمَّةِ جَدّى، أُريدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَسيرَ بِسيرَةِجَدّى وَأَبى عَلِىِّ بْنِ أَبيطالِب"۔

ترجمہ: میں اپنا وطن کسی شر و فساد پھیلانے اور ظلم و ستم کرنے کی خاطر نہیں چھوڑ رہا ہوں بلکہ مدینہ سے میری روانگی کا مقصد یہ ہے کہ اپنے نانا [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی امت کی اصلاح کروں؛ اور امر بالمعروف کروں اور نہیں عن المنکر کروں (نیکی کا حکم دوں اور برائیوں سے روکوں) اور اپنے نانا رسول اللہ(ص) اور بابا علی بن ابی طالب(ع) کی سیرت پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہوں۔[20]

مکہ کی طرف روانگی
امام حسین(ع) اٹھائیس رجب کو رات کے وقت[21] اور بروایت دیگر تین شعبان سنہ 60 ہجری کو[22] اپنے خاندان اور اصحاب کے82 افراد کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔[23] اس سفر میں محمد بن حنفیہ کے سوا[24] امام حسین(ع) کے اکثر اعزّاء و اقارب ـ منجملہ آپ کے بیٹے، بیٹیاں، بھائی، اور بھتیجے ـ آپ کے ساتھ تھے۔[25] بنو ہاشم کے علاوہ، آپ کے 20 صحابی بھی آپ کے ساتھ روانہ ہوگئے تھے۔[26]

امام حسین(ع) اپنے قافلے کے ساتھ مدینہ سے نکل گئے اور اپنے [بعض] قریبی اقرباء کی مخالفت کے باوجود مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔[27]

مکہ کے راستے میں آپ اور افراد قافلہ نے عبداللہ بن مطيع، سے ملاقات کی۔ امام حسین(ع) پانچ روز بعد 3 شعبان سنہ 60 ہجری کو مکہ میں داخل ہوئے[28] اور اہلیان مکہ اور حُجاجِ بیت اللہ الحرام نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔[29]

مدینہ سے مکہ کی طرف سفر کا راستہ
15 رجب سنہ 60 ہجری معاویہ کا انتقال بسوئے یوم الحساب؛ 28 رجب سنہ 60 ہجری امام(ع) کی مدینہ سے روانگی براستۂ ملل، ذوالحلیفہ، السیالہ، عرق الظبیہ، الروحاء، الإثابہ، العرج، لحى جمل، السقیاء، الأبواء، الہرشا کی گھاٹی، الرابغ، الجحفہ، قدید، خلیص، عسفان، مر الظہران، الثنیتین، مكۃ المكرمہ، (3 شعبان المعظم سنہ 60 ہجری امام حسین(ع) مکہ پہنچ گئے)، یہی وہ راستہ ہے جو امام حسین علیہ السلام نے پانچ دن میں طے کیا۔

پڑھا گیا 860 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

صییہونی فوجیوں کی بربریت ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

صییہونی فوجیوں کی بربریت ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

صیہونی فوجیوں نے غرب اردن کے شہر الخلیل میں ایک ستائیس سالہ نوجوان عمر حسن العواودہ کوگولی مارکر شہید کردیا ہے۔صیہونی فوجیوں نے دعوی کیا ہے کہ اس فلسط...

مقالہ جات

سویڈن میں یمن امن مذاکرات

سویڈن میں یمن امن مذاکرات

یمن کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹین گریفتھس نے یمن جنگ کے فریقین کے مابین امن مذاکرات کیلئے اس بار سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں نئی کوش...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org