تازہ ترین

بلتستان میں سعودی کالونی بنانے کی کوششیں

کیٹیگری پاکستان
Sunday, 15 April 2018


رپورٹ: لیاقت علی انجم

ایک ایسے وقت میں جب گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کے نام پر عوامی ملکیتی زمنیوں پر زبردستی قبضے کیخلاف تحریک شروع ہوچکی ہے، عین اسی دوران بلتستان میں دوسری مرتبہ سعودی کالونی کے قیام کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ شگر اور چھومک کے درمیان موجود سرفہ رنگاہ صحرا (چھومک تھنگ) میں سعودی عرب کی کنگ عبداللہ فاؤنڈیشن کی جانب سے ہاؤسنگ سکیم بنانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس کیلئے حکومتی سطح پر کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ اس سے پہلے خپلو کے موضع سیلنگ براہ میں ''سپانگ ٹوق'' کے مقام پر ہاؤسنگ سوسائٹی اور مدرسہ بنانے کی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم مقامی لوگوں اور علاقے کے عمائدین کی شدید مخالفت اور سڑکوں پر آنے کی دھمکی کے بعد منصوبہ ترک کر دیا گیا۔ علاقے کے مقامی لوگوں کے مطابق گذشتہ سال کنگ عبداللہ فاؤنڈیشن کے کئی حکام چند مقامی افراد کے ہمراہ خپلو آئے تھے، ان کے ہمراہ اعلٰی سرکاری افسر بھی موجود تھا، سرکاری افسر نے عمائدین کو بتایا کہ سپانگ ٹوق میدان میں 200 گھروں پر مشتمل اہم ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی جائے گی، جس میں سے 100 گھر سلینگ کے لوگوں کے حوالے کے جائیں گے، باقی سو گھر انتظامیہ اپنے لئے استعمال کریگی۔

ذرائع کے مطابق سرکاری افسر کے مطالبے کو عمائدین نے مسترد کر دیا اور کوئی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کی شدید مخالفت کر دی، جس کے بعد کنگ عبداللہ فاؤنڈیشن کے حکام واپس چلے گئے، تاہم چند ہفتے بعد ایک اور اہم سرکاری افسر کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا اور عمائدین کو رام کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہاں پر زمین دینے کی صورت میں اہم فلاحی منصوبے لگ جائیں گے، ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ ہسپتال، سکول اور مدرسے بنائے جائیں گے اور یہ علاقے کے عوام کے مفاد میں ہوگا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ سرکاری افسر کے اس مطالبے کو بھی رد کر دیا گیا، جس پر افسر نے دھمکی آمیز لہجہ استعمال کیا اور اعلٰی سطح پر دباؤ ڈال کر زمین لینے کی دھمکی دی گئی تو عمائدین نے واضح کر دیا کہ کسی بھی زبردستی کی صورت میں پورے علاقے کے لوگوں کو سڑکوں پر لائیں گے، پھر کسی بھی صورت حال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ عمائدین کی دھمکی کے بعد وہ سرکاری افسر واپس چلا گیا، اس کے بعد سے یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ تاہم حالیہ ایام میں اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ کنگ عبداللہ فاؤنڈیشن خپلو کی بجائے اب سرفہ رنگاہ شگر میں سعودی کالونی بنانے کی کوششیں کر رہی ہے، جس کیلئے صوبائی حکومت کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

معتبر ذرائع کے مطابق کنگ عبداللہ فاؤنڈیشن نے صوبائی حکومت سے رابطہ کرکے سرفہ رنگاہ میں ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کیلئے 500 کنال اراضی مانگ لی ہے، ابتدائی طور پر 200 مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے، تاہم بعد میں توسیع بھی دی جاسکتی ہے۔ بلتستان کے ایک سینیئر صحافی کا کہنا تھا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کیلئے بلتستان کی اہم سیاسی شخصیت مڈل مین کا کردار ادا کر رہی ہے یہ شخصیت صوبائی حکومت اور کنگ عبداللہ فاؤنڈیشن کے مابین رابطہ کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کیخلاف جاری تحریک کے پیش نظر صوبائی حکومت نے فی الحال کوئی فیصلہ ظاہر نہیں کیا، تاہم سرفہ رنگاہ کے وسیع میدان کو مختلف حکومتی اداروں کو دینے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کا بلند ترین صحرا سرفہ رنگاہ (جو سرد صحرا کے نام سے بھی مشہور ہے) کم از کم 20 ہزار کنال پر مشتمل ہے، یہ دنیا کے چند خوبصورت صحراؤں میں سے ایک ہے، گذشتہ سال گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرفہ رنگاہ جیپ ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں ملک بھر سے جیپ اور بائیکرز نے حصہ لیا تھا۔ سرفہ رنگاہ سے ملحقہ چھومک پل تقریباً تکمیل کے مراحل میں ہے، یہ منصوبہ 74 کروڑ روپے کی لاگت کا ہے، منصوبے کی تکمیل کے بعد صحرا میں پانی اور ٹرانسپورٹیشن کا مسئلہ حل ہو جائے اور یہ میدان انتہائی اہمیت اختیار کر جائے گا۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی سکردو کے ایک اہم عہدیدار کا کہنا تھا کہ سعودی فاؤنڈیشن کی جانب سے اراضی مانگنے کی اطلاعات درست ہیں، ان کا موقف ہے کہ بلتستان میں ہاؤسنگ سوسائٹی بنا کر صوبائی حکومت کو دی جائے گی، بعد میں صوبائی حکومت عوام میں تقسیم کریگی، ظاہری طور پر یہ موقف اپنایا گیا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہاؤسنگ سوسائٹی سرکاری ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال ہوگی۔

پی پی رہنماء نے انکشاف کیا کہ کنگ عبداللہ فاؤنڈیشن نے پانچ سو نہیں بلکہ 5 ہزار کنال اراضی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین شگر کے سیکرٹری اطلاعات ظہیر عباس نے اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرفہ رنگا تھنگ شگر میں غیر ملکی ہاؤسنگ سوسائٹی ضلع شگر کا امن خراب کرنے کی سازش ہے۔ جسے کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ ضلع شگر کے عوام غیور اور باغیرت قوم ہیں، ہمارے جذبات اور غیرت کا امتحان نہ لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ صوبائی حکومت کی جانب اس تھنگ سے 500 کنال اراضی ایک عرب ملک کو ہاوسنگ کالونی بنانے کیلئے دے رہی ہے۔ اگر اس میں سچائی ہے تو شگر کے عوام اسے کبھی برداشت نہیں کرینگے اور اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے میدان میں نکلنے پر مجبور ہونگے۔ لہذا صوبائی حکومت ایسے کسی اقدام سے باز رہے، ورنہ حالات کی تمام تر ذمہ داری حفیظ سرکار پر عائد ہوگی۔ ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ یہ کوشش گذشتہ ڈیڑھ سال سے کی جا رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ صرف 20 کنال زمین دینے کا اعتراف کر رہی ہے، لیکن اطلاعات آرہی ہیں کہ حکومت نے 500 کنال اراضی دیدی ہے، لیکن عوامی ردعمل کے خوف سے ظاہر نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل سید علی رضوی نے گذشتہ سال ہی اس معاملے کی طرف نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے دیگر جماعتوں سے مل کر اپنی زمین کے ایک ایک انچ حصے کی حفاظت کریگی۔ واضح رہے حالیہ کچھ عرصے سے سعودی عرب کی پاکستان خصوصاً گلگت بلتستان میں دلچسپی قدرے زیادہ سامنے آرہی ہے۔

پڑھا گیا 446 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

ایندھن کی قلت، غزہ کا سب سے بڑا اسپتال بند ہونے کا خدشہ

ایندھن کی قلت، غزہ کا سب سے بڑا اسپتال بند ہونے کا خدشہ

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں ایک بڑے اسپتال ’الشفاء میڈیکل کپملیکس‘ نے ایندھن کی عدم دستیابی اور ادویات کی قلت کے ب...

مقالہ جات

طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد، عاشورا کا سرمدی پیغام

طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد، عاشورا کا سرمدی پیغام

اگرچہ واقعہ عاشورا 61 ہجری میں پیش آیا لیکن چونکہ اس کا مقصد ایسی حکومت کے خلاف جہاد تھا جس کی بنیاد دھوکے، جھوٹ اور لالچ کی سیاست پر استوار تھی اور و...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org