تازہ ترین

صدی کی سب سے بڑی ڈیل کیا ہے؟

کیٹیگری مقالہ جات
Monday, 21 May 2018


صدی کی سب سے بڑی ڈیل در حقیقت مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے ایک نیا نقطہ نظرہے جسے امریکی صدر ٹرمپ نے پیش کیا ہے اور اس نقطہ نظر کو امریکی اتحادی عرب ممالک کی مدد و تعاون حاصل ہے ۔
امریکہ میں ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ہی ’’صدی کی سب سے بڑی ڈیل ‘‘کی اصطلاح سیاسی میدان اور زرائع ابلاغ میں مشہور ہوئی ۔
اس نقطہ نظر کو لیکر آگے بڑھنے میں مرکزی کردار ٹرمپ کے صیہونی داماد اور ایڈوئزر Jared Kouchnerکا ہے اس پلان میں چند محدود افراد ہی شامل ہیں کہ جن میں سے ایک اور فرد مشرق وسطی میں امن عمل کے لیے امریکی ایلچی جیسن گرین بلاٹ شامل ہے ۔
جیسن گرین بلاٹ عقیدے کے اعتبار سے ارتھوڈوکس یہودی کہلاتاہے کہ جن کے عرصہ دراز سے ٹرمپ کے ساتھ گہرے تعلقات چلے آرہے ہیں دونوں میں قدر مشترکہ پراپرٹی کا کاروبار رہا ہے ۔
ٹرمپ کے داماد جارید کوشنر نے اس ڈیل کی خاطر مختلف ممالک کے دورے مکمل کرلئے ہیں کہ جن میں سعودی عرب ،مصر اور اسرائیل شامل ہیں ۔
تو آخر یہ ڈیل ہے کیا ؟اس کے خدوخال کیا ہیں ؟
الف:گرچہ اس ڈیل کے بارے میں رسمی طور پر کسی قسم کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں لیکن اس کے باوجود وقتا فوقتا لیک ہونے والی خبروں نے اس کے خدو خال بہت حد تک واضح کردیا ہے
واضح رہے کہ یہ لیکس مختلف ممالک کے ذمہ داروں کےساتھ ہونے والی گفتگوو شنید سے سامنے آئی ہے اور ہوسکتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر لیک کیا گیا ہو تاکہ ماحول کو سازگار بنایا جاسکے ۔
ب:امریکہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس ڈیل کے بارے میں اس سال کے وسط میں یعنی جون یا جولائی کے مہینے میں اس ڈیل کے بارے میں اعلان کرینگے ۔
ج:اس ڈیل میں فلسطین اور اسرائیل سے جڑے تمام معاملات بشمول القدس اور فلسطینی مہاجرین کی واپسی جیسے سارے امور شامل ہونگے اور اسے خلیجی عرب ممالک کی مالی و سیاسی حمایت حاصل ہوگی ۔
ہم زیل میں اس ممکنہ ڈیل کے چند ان نکات کو بیان کرتے ہیں کہ جسے دنیا کے معتبر سمجھے جانے والے زرائع ابلاغ نے اپنے قابل بھروسہ زرائع سے نقل کیا ہے ۔
۱:القدس کو بعنوان اسرائیلی دارالحکومت قبول کیا جائے گا اور کسی بھی اسرائیلی حکومت کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ اس مسئلے کے بارے میں مستقبل میں کسی قسم کی گفتگو کرے
۲:القدس سے تقریبا چھ کلومیٹر کے فاصلے پر مضافاتی علاقے میں فلسطین کا دارالحکومت قائم کیا جائے گا
۳:فلسطین بعنوان ملک کے غزہ پٹی کے کچھ علاقوں اور ویسٹ بنک کے کچھ حصوں پر مشتمل ہوگا
۴:ٹرمپ کی جانب سے دونوں ملکوں کی مشترک سلامتی و سیکوریٹی کے پلان کا اعلان ہوگا
۵:غزہ میں اسلامی تحریک مزاحمت کو ہرقسم کے ہتھیار سے خود کو خالی کرنا ہوگا
۶:سیکوریٹی مسائل میں اسرائیل کی پوزیشن کو بلادستی حاصل ہوگی یعنی وہ overriding security responsibility رکھے گا
۷:دنیا کے تمام ممالک جنہوں نے اب تک اسرائیل کو قبول نہیں کیا ہے انہیں اسرائیل کو ایک قانونی ملک کے طور پر قبول کرنا ہوگا
۸:تمام مذاہب کے افراد کے لئے فلسطینی مقدس مقامات میں عبادت کی ضمانت اسرائیل کی جانب سے ہوگی لیکن ا س کی پوزیشن یہاں ایک status quoکی ہوگی
۹:مقبوضہ فلسطین میں موجود پورٹس بشمول اسدود اور حیفا پورٹ سمیت بعض ائرپورٹس سے فلسطینی بھی استفادہ کرسکے گے ۔
۱۰:غزہ پٹی اور ویسٹ بنک یا ضفۃ غربی کے درمیان ایک پرامن گذرگاہ قائم ہوگی
۱۱:فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے بارے میں مزید غوروخوص کیا جائے گا اور ان کے مسئلے کا ایک منصفانہ حل نکالا جائے گا ۔
کہا جارہا ہے کہ انہیں اردن اور مصر کے صحرائی حصوں میں آباد کرنے کا پلان موجود ہے
ان تمام شکوں کوپڑھنے کے بعد اس کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیل اپنے غاصبانہ قبضے کی رسید خود فلسطینوں اور پوری دنیا سے حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ آیندہ کوئی بھی اس موضوع پر بات ہی نہ کرسکے اور نہ کوئی اسرائیل کو غاصب اور قابض کہہ سکے ۔

پڑھا گیا 508 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

مقالہ جات

""اے کون اے" ۔۔۔۔۔۔ تحریر وسعت اللہ خان""

""اے کون اے" ۔۔۔۔۔۔ تحریر وسعت اللہ خان""

راجہ صاحب محمود آباد کون تھے؟ بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارلحکومت لکھنؤسے باون کیلومیٹر پرے ضلع سیتا پورکی ایک تحصیل محمود آباد ہے۔محمود آباد قص...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org