تخلیقی افراتفری (Creative Chaos)کیا ہے ؟

کیٹیگری مقالہ جات
Friday, 25 May 2018


ایک تحقیقی و مطالعاتی مضمون (۱) کیا پاکستان میں بھی تخلیقی افراتفری کی کوشش ہورہی ہے؟
’’تخلیقی افراتفری ‘‘Creative Chaosایک سیاسی اصطلاح ہے جس کا مطلب کہ چند مخصوص افراد یا گروہ کسی ملک میں اپنے خاص مقاصد کے حصول کے لئے خودکو پوشیدہ رکھتے ہوئے افراتفری یا بحران پیدا کریں تاکہ اس بحران کے بعد تمام تر صورتحال کو اپنے حق میں کیا جاسکے ۔
سن 2005کے آغاز میں، امریکی سیکریٹری خارجہ کونڈالیزا رائس نے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے استعمال کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ’’نئے مشرق وسطی کی تشکیل کے لئے امریکہ چاہتا ہے کہ عرب ممالک میں ڈیموکریسی لائی جائے اور ڈیموکریسی لانے کے لئے تخلیقی افراتفری اور بحران پیدا کرنا ضروری ہے ‘‘
گرچہ اس اصطلاح کو قدیم فریمنسری Ancient Freemasonry سوچ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جس کے بارے میں خود امریکی ایک محقق اور مصنف ڈین براؤن بھی ذکر کیا ہے ،لیکن اس صطلاح کو عراق پر امریکی حملے کے بعد شہرت ملی ۔
واضح رہے کہ اس کے بعد دنیا کے مختلف ممالک بشمول ،پاکستان ،افغانستان اور عراق میں سیکیورٹی کمپنی بلیک واٹرجیسے ڈیتھ اسکواڈ اور دہشت گرد تنظیموں کا خوب پھیلاو دیکھائی دیتا ہے ۔
تخلیقی افراتفری اور بحران کی تھیوری میں کسی بھی معاشرے میں بنیادی من پسند تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا جائے ،خواہ تشدد ، دہشت اور بڑی مقدار میں تباہی کے زریعے ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ سن 2006میں لبنان پرمسلط کردہ جنگ اور اسی طرح عراق ،لیبیا،یمن اور شام میں کیا گیا ۔
لیکن لبنان میںاور شام میں زبردست قسم کی مزاحمت کے سبب یہ منصوبہ بری طرح ناکامی کا شکار ہوا ۔
گرچہ اس وقت بھی شام میں اس منصوبے کو لیکر آخری کوششیں دیکھائی دیتی ہیں اور اگر شام میں نام نہاد تخلیقی افراتفری کی یہ تھیوری کامیاب ہوجاتی ہے تو لبنان کو کنٹرول کرنا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں گا ۔
شام میں اس وقت امریکی بلاک کی پوری کوشش ہے کہ افراتفری برقرار رہے اور سیاسی و سماجی استحکام نہ ہونے پائے ۔
اہم ترین بات یہ ہے کہ شام میں پیدا کی جانے والی افراتفری اور بحران کو شام اور اس کے اتحادیوں نے جس خوبصورت انداز سے رام manageکیا اس نے اس تھیوری اورمغربی ایشیا کے لئے نئے مشرق وسطی کی امریکی خواہش کے آگے روکاوٹ کھڑی کردی ہے ۔
بات صرف اتنی بھی نہیں کہ اس اصطلاح’’تخلیقی افراتفری ‘‘میں لفظی اختلاف اور ٹکراو موجود ہے بلکہ اگر عملی طور پر بھی دیکھا جائے تو یہ ممکن دیکھائی نہیں دیتا کہ کہیں ایسی افراتفری پیدا کی جائے کہ جس کے بعد بہتری کی تخلیق یا پیدا ہونے کی امید رکھی جاسکتی ہو ۔
البتہ یہاں بہتری کی تخلیق امریکی اور سرمایہ دارانہ عالمگیریت ونیو لبرل ازم کے مفاد میں ضرور ہوسکتی ہے
بہت سے دانشوروں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کا ایک بڑا حصہ اسی تخلیقی افراتفری پر مشتمل ہے ۔
ان کے خیال میں امریکی تھینک ٹینک کی جانب سے بڑے غور خوص کے بعد اسے ڈیزائن کیا گیا ہے دوسرے الفاظ میں یہ تھیوری بین الاقوامی معاملات سے نمٹنے کے لئے امریکی اسٹریٹجک دماغ کی طرف سے تیارکردہ ایک تباہ کن تھیوری ہے کہ جس کی بنیاد اپنے مفاد کے لئے کچھ بھی جائز ہے پر دیکھائی دیتا ہے ۔
جس وقت امریکی سابق سیکرٹری خارجہ کونڈلیزارائیس افراتفری کی اس تھیوری کو پیش کررہی تھی تو اس وقت تک امریکی بہت سے غیر سرکاری اداروں اور این جی او ز نے بہت سے عرب ممالک کے چنیدہ افراد کی ایک کھیپ کو نظریاتی اعتبار سے مکمل طور پر تیار کرلیا تھا ۔
معروف عربی چینل المیادین کی جانب سے پیش کردہ چار قسطوں پر مشتمل ایک ڈاکیومنٹری میں دیکھائی جانے والی ایک وڈیو کلیب کے مطابق امریکی ایک این جی او فریڈم ہاوسfreedom house org کی جانب سے نشردہ کردہ تشہیراتی اور پروپگنڈہ وڈیو میں بتایا جارہا ہے کہ ’’آج دنیا میں دو بلین لوگ ظالمانہ نظاموں کے زیرسایہ زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ،دنیا بھر میں آزادی کو خطرہ لاحق ہے ،ویزویلا چائنہ ،روس زمبابوئے ،سعودی عرب اور ایران میں مختلف قسم کی آزادیوں کو خطرات لاحق ہیںلہذا فریڈم ہاوس دنیا بھر میں ڈیموکریٹک تبدیلی کو سپورٹ کرتاہے،ہم فرنٹ لائن میں کھڑے فعال کارکنوں یا ایکٹویسٹ کی مدد کرتے ہیںہم لوگوں کو اپنے حق کا دفاع سیکھاتے ہیں،آزادی کی جنگ میں ہمارے ساتھ شامل ہوجائے ‘‘
مصر میں حسنی مبارک کے سقوط کے بعد دیکھاجاسکتا ہے کہ عوامی احتجاج میں شامل ایکٹویسٹ افراد کس کو کس طرح امریکہ میں پذیرائی دی جارہی ہوتی ہے اور کیسے کونڈالیزا رائیس ان کو ویلکم کرتی دیکھائی دیتی ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ افراتفری کی تھیوری کو عملی شکل دینے کے لئے عرب ملکوں کے بہت سے فعا ل کارکنوں اور ایکٹیویسٹ کی سن 2007اور 2008میں صربیا اور امریکہ میں تربیت کی گئی ۔
کہا جاتا ہے کہ ان کورسز میں یوں تو اکثر شرکا عرب ملکوں سے ہی تھے لیکن ان میں ایک تعداد ساوتھ ایشیا خاص کر چین اور پاکستان سے بھی موجود تھی ۔
ہم یہاں یہ نہیں کہنا چاہتے کہ جو کچھ مختلف ممالک میں حکومتوںاور سیکوریٹی فورسز کی جانب سے عوام کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے وہ ایک درست عمل ہے یا ہم یہ بھی نہیں کہنا چاہتے کہ بنیادی آزادیوں اور حقوق کی کوشش کے پچھے ہمیشہ سے بیرونی ایجنڈے کافرماررہے ہیں یا موجود ہیں ۔
ہمارے کہنا کا مطلب بس اتنا ہے کہ ہمیں اندرونی ضرورت کے مطابق اٹھنے والی خالص عوامی تحریکوں اور بیرونی تخلیقی افراتفری کے ایجنڈوں کو لیکر اٹھنے والی سازشوں میں فرق کرنا ہوگا ۔
جاری ہے ۔۔۔۔ اگلے مضمون میں پڑھئے گا کیا پاکستان میں بھی تخلیقی افراتفری کی کوشش ہورہی ہے؟

پڑھا گیا 134 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

فلسطینیوں کی جانب سے صیہونی فوجیوں کو منھ توڑ جواب

فلسطینیوں کی جانب سے صیہونی فوجیوں کو منھ توڑ جواب

غزہ پر صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں کی بمباری کے بعد فلسطین کی تحریک مزاحمت حماس نے مقبوضہ فلسطین میں کرم ابوسام اور اشکول پر سات میزائل فائر کئے جس سے...

مقالہ جات

یمن تا فلسطین، دشمن ایک ہی ہے

یمن تا فلسطین، دشمن ایک ہی ہے

بہت سی خبریں ہیں جو عام انسانوں تک پہنچائی نہیں جاتیں، کیونکہ ذرائع ابلاغ کے مالکان اور انہیں مالی مدد فراہم کرنے والوں کی اپنی ترجیحات ہیں۔ یہ مسئلہ ...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org