تازہ ترین

اگر یمن میں حزب اللہ ہوتی تو ہم اس کو چھپاتے یہں ،سید حسن نصر اللہ

کیٹیگری لبنان
Saturday, 30 June 2018


سید حسن نصر اللہ نے خطاب کرتے کہا کہ پہلا نکتہ حکومت کی تشکیل کے حوالے سے ہے کہ ہم مسلسل تشکیل حکومت پر زور دے رہے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں علاقائی یا عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے کسی قسم کا کوئی خطرہ محسوس ہورہا ہے
ہمارے جانب سے تشکیل حکومت میں جلدی کرنے کے پچھے لبنان کی اندورنی ضرورت کو پیش نظر رکھے ہوئے کہ جس میں ملکی معیشتی مسائل انرجی کا بحران جیسے مسائل کے سبب ہے
یمن سے شام تک خطے کے حالات مزاحمتی بلاک کےحق میں چل رہے ہیں
لبنان میں حکومت کی تشکیل میں تاخیر کا سبب معیارات کافقدان ہے کہ جس کے پاس تین ممبر پارلیمان ہوں تین وزیر بناسکے جبکہ جس کے پاس آٹھ ہوں وہ ایک وزارت کا حق رکھے یہ بنیادی مسئلہ ہے
اگر ہمیں ایک قومی حکومت تشکیل دینی ہے کہ جس کی بنیاد افسوس کے ساتھ مسالک پر تو پھر علوی اور سریانی مسلک کے افراد کو کیوں محروم رکھا جائے ؟
لیکن اگر معیارات کی بنیادپر بنانا ہے تو پھر سب کے لئے ایک جیسا معیار ہونا چاہیے یا تو ممبران پارلیمان کی تعداد پر وزارتوں کی تقسیم ہو یا پھر سیاسی الائنس کو حاصل عوامی ووٹ کی بنیاد پر
دوسرا مسئلہ
شام کے پناہ گذینوں سے تعلق رکھتا ہے
عید کے بعد سے ملک میں اس مسئلے کو لیکر بہت بحث ہورہی ہے یہاں تک کہ اس مسلکی مسئلہ بنایا گیا
یہ بات طے ہے کہ سب پناہ گذینوں کی رضاکارانہ واپسی چاہتے ہیں لہذا جو بھی پناہ گذین رضاکارانہ واپسی چاہتا ہے اس میں کیا روکاوٹ ہوسکتی ہے کوئی پناہ گذینوں کی زبردستی واپسی نہیں چاہتا ۔
لیکن کچھ لوگ پناہ گذینوں کے مسئلے کو عالمی و سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرے یہ درست بات نہیں اور اس سے خود پناہ گذینوں کو نقصان ہوگا ۔
شام کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلقات کی بنیادپر ہم اس مسئلے پر خود توجہ دینا چاہے گے اور ہم اس سلسلے میں لبنانی سیکوریٹی فورسز اور شام کی حکومت کے ساتھ تعاون کرینگے اور جو پناہ گذین رضاکارانہ طور پر واپسی چاہتے ہیں ہم ان کے ساتھ تعاون کرینگے ۔
اور ان شااللہ ہم اس سلسلے میں دونوں حکومتوں کے ساتھ تعاون کے سلسلے کو جاری رکھے گے اور اس سے پہلے کہ تعلیمی سال شروع ہواس مسئلے کو حل ہونا چاہیے ۔
ہم انشااللہ عوامی رضاکارنہ ایک کیمٹی بھی تشکیل دینگے جو پناہ گذینوں کی مدد کریں اور ہم کسی کو مجبور نہیں کرینگے کہ وہ واپس جائے
حزب اللہ نے شامی پناہ گذینوں کی امداد کے لئے اس وقت ایک کمیٹی بنائی ہوئی ہے اور وہ اس وقت اس سلسلے میں مصروف ہے
بعلبک اور ہرمل میں امن و امان کی صورتحال پر مزید توجہ کی ضرورت ہے وہاں پر ہونے والی بدامنی کی وجہ غیر واضح ہے
فوج اور سیکوریٹی فورسز سے گذارش ہے کہ وہ ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر توجہ دیں اور اس ایشو کو حل کریں ۔
فرقہ ورانہ مسائل کو اس وقت چھیڑنے کے پچھے
جو کچھ ہمیں اس وقت اس خطرات مسئلے میں دیکھائی دے رہا ہے وہ خطرناک ہے کیونکہ یہ ایک حساس ایشو ہے خاص کر انتخابات اور بعلبک و ہرمل کے ایشوز کے فورا بعد اس چھیڑنا ۔۔
ایک اور مسئلہ نینشلٹیز دینا ہے ہم اس مسئلے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے جو کچھ دن قبل اس سلسلے میں جو آڈر جاری ہوا ہے
اس سلسلے میں ہماری رائے یہ ہے مزید قانون سازی کی ضرورت ہے اگر کسی شخص کو لبنانی نیشنلٹی دینا اس کاقانونی و آئینی حق ہے تو پھر اسے ملانا چاہیے
بہت سے افراد ستر سالوں سے لبنان میں بغیر کسی آڈر کے موجود ہیں بہت سے افراد جنکا حق بنتا ہے کہ انہیں نیشنلٹی دی جائے لیکن مالی کمزوری کے سبب اس کا حق اسے نہیں مل رہا ہے لہذا اس مسئلے کو آئین کے اندر رہتے ہوئے حل ہونا چاہیے
علاقائی مسائل
فلسطین ۔صدی کی سب سے بڑی ڈیل کے سلسلے میں ہونے والی بھاگ ڈور خاص کر کوشنر کی بھاگ دوڑ
بڑی شد ومد کے ساتھ جاری ہے ۔
جو کچھ فلسطین میں ہورہا ہے جو کچھ اردن و دیگر علاقوں میں ہورہا ہے اس پر نظر رکھنی چاہیے ،لبنانی بھی چاہتے ہیں کہ بحری حدود کے سلسلے میں پوری دسترس رکھیں ،جو کچھ شام میں ہورہا ہے ،ایران کے حوالے سے جو تیل کی فروخت کے حوالے سے ہورہا ہے ۔۔۔
ہوسکتا ہے کہ امریکی اس ڈیل کے اعلان کے قریب ہوں ،فلسطین میں واپسی کے نام پر ہونے والے مظاہرے فلسطینیوں کے عزم و ظاہر کرتے ہیں اور اسرائیلی پوری کوششوں کے باجود یہ سلسلہ جاری ہے
فلسطینی قیادت کی جرات اور شجاعت کو سلام پیش کرنا چاہیے کہ جنہوں نے طاقت و جارحیت کے توازن کو برقرا ر رکھا ہوا ہے اور اسرائیلی جارحیت کا جواب دے رہے ہیں
فلسطینی عوام صدی کی ڈیل کے مقابل جو بہترکردار اداد کردیا
شام میں جاری آپریشن میں دہشتگردوں کی مسلسل ناکامی اور فورسز کی جانب سے متعدد قریوں کا کنٹرول
۔۔۔دہشتگردوں کے سامنے اب کوئی امید باقی نہیں بچی ہے بات نہ صرف درعا کے مغربی حصے کا بلکہ پورے علاقے کی ہے
ہم اس وقت جنوبی شام میں ایک بڑی تبدیلیوںاور کامیابیوں کا سامنا کررہے ہیں جہاں امریکی و اسرائیلی امداد حاصل دہشتگردوں کو بکھرتے دیکھ رہے ہیں ۔
عراقی و شامی سرحد کے پاس چند روز قبل مزاحمتی بلاک کے بعض علاقوں کو دشمن کے طیاروں نے بمباری کی اور شہادتیں بھی ہوئی یہ ایک خطرناک ڈیپلومننٹ ہے
میں شہیدوں اور کتائب حزب اللہ عراق کو تعزیت پیش کرتا ہوں ،حشد شعبی اور دیگر مزاحمتی گروہ کی شام کے ساتھ تعاون پر ان کے شکر گذار ہیں
ہمیں عراقی بھائی کی قربانیوں اور ابھی تک شام میں ان کی موجودگی پر شکریہ اداد کرنا چاہیے ،اور اس امریکی ساختہ وحشی وجود کے خاتمے تک وہ موجود ہونگے
شام کا معرکہ صرف شام کے نہیں بلکہ اس خطے کے مستقبل کا معرکہ ہے
عراقی مزاحمت نے کہا کہ وہ حملہ آوروں کی شناخت چاہتے ہیں اور ان کو جواب دینا چاہتے ہیں
ہم بھی کہتے ہیں ہمارے بھائیوںیہ آپ کا حق ہے اور ہم آپ کے ساتھ ہیں جہاں بھی اس قسم کا ظلم ہوگا وہاں ایسیا ہونا چاہیے فلسطین میں ہو یمن میں یہاں تک ک خود امریکہ میں بھی
بچوں اور والدین کے درمیان زبردستی جدائی ۔۔۔ٹرمپ کے حقیقی چہرے سے نقاب اٹھارہی ہے
یہ جو کہا گیا عربی اتحاد پھر کہا گیا سعودی اتحاد اور ہم اسے امریکی سعودی اتحاد کہتے ہیں
کہا گیا کہ صعدہ پر بمباری میں حزب اللہ کے آٹھ افراد مارے گئے پھر کہا گیا انہیں گرفتار کیا گیا
اس سے پہلے بھی وہ اس قسم کی باتیں کرتیں رہے ہیں کہ ایرانی پکڑا گیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ ایک پاکستانی تھا کو روزی کی تلاش میں وہاں موجود تھا اتفاق کچھ فارسی بھی بول سکتا تھا
ہم نے کبھی نہیں کہا ہم یمن میں موجود نہیں ہیں یا نہیں ہیں ،ہاں ہم نے کہا کہ ہمارے مجاہدین وہاں موجود نہیں ہیں لیکن کیا کسی اور قسم کا تعاون ہے یا نہیں ہم اس کی وضاحت نہیں کرینگے کیونکہ یہ ہمارے مفادات سے تعلق رکھتے ہیں
اگر یمن میں ہمارے شہید ہوتے تو ہم اسے چھپاینگے نہیں ،اگر کسی دن سچ میں لگا کہ یمن میں ہمارے شہدا ہیں تو یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہوگی اور اس کا علان کرینگے
ہم اپنے شہدا پر فخر کرتے ہیں چھپاتے نہیں ہم نے عراق وشام میں اس بات کو نہیں چھپایا
سعودی اور خلیجی میڈیا شور کے پچھے الحدیدہ میں عسکری بدترین ناکامی ہے
برطانیہ فرانسی شرکت اور سعودی امارات اور دنیا بھر سے لائے گئے کرایے کے افراد ٹینکوں اور اسلحے کے باوجود ۔۔نفسیاتی جنگ اور رشوتوں کے باوجود میدان جنگ میں انتہائی بری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے
اس میدان جنگ میں دنیا کے جدید ترین اسلحے اور ایمان کی جنگ ہے جو اللہ پر پورا بھروسہ رکھتا ہیں
یہ وہ لوگ ہیں کہ پہاڑ ہلے تو ہلے لیکن ان کے سرہلنے والے نہیں ۔۔
حدیدہ ائرپورٹ سمیت حالیہ ان معرکوں میں پورے مزاحمت کاروں کو سرجھکاکر انہیں سلام کرنا چاہیے
مجھے شرمندگی ہورہی ہے میں آپ کے ساتھ نہیں تھا آپ کے معرکے کو دیکھ کر کہتا ہوں ہوں یا لیتی کنا معکم ہم سب کو کہنا چاہیے کہ یالیتنا کنامعکم (اس حصے کا ترجمہ دوبارہ ہونا چاہیے )
یمن والے پورے مزاحمت کاروں نمونہ پیش کردیا ہے

پڑھا گیا 1254 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

مقالہ جات

داعش اینٹی پاکستان، اینٹی وفاق ، اینٹی آرمی،اینٹی شیعہ

داعش اینٹی پاکستان، اینٹی وفاق ، اینٹی آرمی،اینٹی شیعہ

حالیہ انتخابی مہم کے دوران ہونے والے دہشتگردانہ حملوں نے اس بات کو مزید تقویت دی ہے کہ دہشتگردی کا خطرہ ابھی پوری طرح ٹلا نہیں ہے ۔ایک اندازے کے مطابق...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org