تازہ ترین

سعودی ملٹری الائنس اور متحدہ مجلس عمل۔۔۔ ایک سکے کے دو رخ

کیٹیگری مقالہ جات
Saturday, 07 July 2018


سعودی ملٹری الائنس اور ایم ایم اے دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ذیل میں ہم دونوں کے مشترکات پر روشنی ڈال رہے ہیں۔
1۔*دونوں کے قیام میں مماثلت*
*1۔ متحدہ مجلس عمل کا قیام*
https://m.facebook.com/Bakistan.Alyoum/posts/792722007473890:0
پاکستان الیوم: بتاریخ 25 فروری 2015ء میں متحدہ مجلس عمل کی تاسیس کے بارے میں یوں لکھا ہے۔
"مجلس العمل الموحد ودور الجمعية:
"يعتبر دور جمعية علماء الإسلام في مجلس العمل الموحد دور مركزي وهام ولعبت كل من جمعية علماء الإسلام مجموعة (فضل الرحمن) ومجموعة (سميع الحق) دورهما في نشأته وتوحيد باقي الجماعات الدينية لتعمل من خلاله على خوض المعترك السياسي والانتخابي."
ترجمہ: متحدة مجلس عمل کی تاسیس میں جمعیت علماء اسلام کا مرکزی کردار ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے دونوں دھڑوں فضل الرحمٰن اور سمیع الحق نے سیاسی و انتخابی عمل کے لئے دوسری دینی جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا. (آجکل فقط سمیع الحق کو ابو طالبان کہنے والوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک ابو طالبان سمیع الحق ہیں اور دوسرے ابو طالبان ایم ایم اے کے بانی فضل الرحمان ہیں)

"وكان الهدف من هذا المجلس الذي عرف مع بداية تأسيسه باسم مجلس الدفاع عن أفغانستان وباكستان هو الدفاع عن نظام طالبان الذي طالب العالم بأجمعه على إنهائه ووضع نهاية له، وكان زعماء المجلس قد أعطوا البيعة للملا عمر أمير طالبان واعتبروه أمير المؤمنين ومرشد الإمارة الإسلامية وقائد الخلافة الإسلامية القادمة"
ترجمہ: (اس مجلس کو بنانے کا ہدف کہ جس کا ابتداء میں نام مجلس دفاع پاکستان و افغانستان رکھا گیا، دراصل طالبان کی حکومت کا دفاع کرنا تھا۔ جب پوری دنیا طالبان اور انکی حکومت کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی تو اس مجلس کے زعماء اور قائدین امیر طالبان کی بیعت کا اعلان کرچکے تھے اور ملا عمر کو امیر المومنین اور امارت اسلامی کا مرشد اور خلیفۃ المسلمین قبول کرچکے تھے۔

ثم انضمت إليهم الجماعة الإسلامية التي تتفق معهم في الفكر الديوبندي وتختلف معهم في الأولويات وأعلن جزء من جمعية أهل الحديث المركزية انضمامها إليهم بعد فشلها في مجلس العمل الذي أنشأته تحت اسم “مجلس العمل لأهل الحديث”ثم لحقت بهم الحركة الجعفرية الشيعية وبعدها..جمعية علماء باكستان (مجموعة نوراني) البريلوية (أهل التصوف)."
ترجمہ: پھر انکے کے ساتھ جماعت اسلامی بھی ضم ہوگئی کیونکہ دیوبندی ہم فکری ہونے کے لحاظ سے ان سے متفق تھی، البتہ ترجیحات کے لحاظ سے اختلاف تھا. اس کے بعد مرکزی جمعیت اہل حدیث بھی انکے ساتھ شامل ہوگئی، جب انکی اپنی متحدہ مجلس اہل حدیث بنانے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ اس کے بعد شیعہ تحریک جعفریہ بھی ملحق ہوگئی اور بعد میں بریلوی جمعیت علماء پاکستان نورانی (صوفی) بھی شامل ہوگئی۔

اب آیئے اسلامی ممالک کے سعودی اتحاد کے جنم پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
*2۔ اسلامی ممالک کے سعودی اتحاد کا قیام*
التحالف الإسلامي العسكري الذي أُعلن عنه في 3 ربيع الأول 1437 هـ الموافق 15 ديسمبر 2015 بقيادة المملكة العربية السعودية، ويضم التحالف العسكري الإسلامي 41 دولة مسلمة، ويملك التحالف غرفة عمليات مشتركة مقرها العاصمة السعودية الرياض.
ترجمه: فوجی اسلامی اتحاد کہ جس کا اعلان 3ربیع الاول 1437 ھ اور 15 دسمبر 2015ء کو سعودیہ کی قیادت میں کیا گیا، بعد میں 41 اسلامی ممالک اس میں شریک ہوئے اور اس اتحاد کا مرکزی آپریشن روم سعودیہ کے دارالحکومت ریاض میں قائم ہوا۔

تشکیل میں مماثلت:
سعودی اتحاد:
1۔ یہ اتحاد بھی ایم ایم اے کی طرح سعودی و امریکی اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کیا گیا۔
2۔ اتحادی ممالک کی حاجت و ضرورت زیر بحث نہیں آئی۔
3۔ سعودی اتحاد کے قیام کے وقت اس اتحاد کے ممبر ممالک سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی بلکہ فقط انہیں اس میں ضم اور شریک ہونے کی دعوت دی گئی۔
4۔ بیرونی دباو سے اتحادی شامل ہوئے۔
اب آئیں ایم ایم پر ایک نگاہ ڈالیں:
ایم ایم اے:
1۔ امریکی، سعودی، سلفی، تکفیری و دیوبندی اور طالبانی اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کیا گیا۔
2۔ اتحادی جماعتوں کی حاجت و ضرورت زیر بحث نہیں آئی۔
3۔ اتحاد کے قیام کے وقت اس اتحاد کے ممبر جماعتوں سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی بلکہ فقط انہیں اس میں ضم اور شریک ہونے کی دعوت دی گئی۔
4۔ بیرونی دباؤ شمولیت کے لئے استعمال ہوا۔

اس کے علاوہ:
۱۔ دونوں اتحادوں میں فرنٹ رول کرپٹ مافیا کے پاس ہے۔
۲۔ دونوں کا ماسٹر مائنڈ تکفیریت، وہابیت اور ناصبیت ہے۔
۳۔ دونوں کا درپردہ مقصد پڑوسی اسلامی ممالک پر جارحیت کرنا یا اس جارحیت کا دفاع کرنا ہے۔ سعودی اتحاد نے یمن پر جارحیت کی تو ایم ایم اے کے مرکزی قائدین نے کھل کر جارحیت کا دفاع کیا۔ مولانا فضل الرحمن اور جماعت کا موقف، بیانات اور خطابات اس کی واضح دلیل ہیں۔ سعودیہ نے بحرین میں عوام کو قتل کرنے کے کے لئے فوجیں اتاریں تو مولانا فضل الرحمن نے فقط پاکستان میں نہیں بلکہ بحرین جاکر اس کے دفاع میں تقریریں کیں۔ شام کے بارے میں بھی انکا موقف ساری دنیا کے سامنے ہے۔
۴۔ دونوں اتحادوں نے امریکی اسلام کی تقویت میں بھرپور کردار ادا کیا اور امت کی توجہ حقیقی دشمن امریکہ و اسرائیل سے ہٹانے اور فرضی دشمن پر مبذول کروانے پر ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور حقیقی دشمنوں سے چشم پوشی کی پالیسی اپنائی.
۵۔ دونوں اتحادوں نے وحدت امت اسلامی پر کاری ضربیں لگائیں اور عالم اسلام میں انتشار پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
۶۔ دونوں اتحاد عملی طور پر تکفیری سوچ اور تکفیری گروہوں کی سرپرستی کرکے ہنود و یہود اور بین الاقوامی صہیونی مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں، جو جہان اسلام کے ممالک کی تقسیم کے ایجنڈے پر کام کر رہے اور انکی تباہی پر پر تلے ہوئے ہوئے ہیں، نیز انکے حمایت یافتہ تکفیری اسلامی ممالک کو کمزور کرنے کے لئے انکی مسلح افواج سے لڑ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایم ایم اے کے اتحاد کے مندرجہ ذیل مقاصد تھے:
1۔ جب امریکہ نے طالبان حکومت گرائی تو طالبان کے وجود کو بچانا
2۔ انکی لوجسٹیک اور مالی مدد کرنا
3۔ انکو افرادی قوت فراہم کرنا
یہی وجہ ہے کہ ایم ایم کی بدولت طالبان افغانستان میں کمزور اور پاکستان میں طاقتور ہوئے۔ بعد ازاں مفتی شامزئی اور دیگر مفتیان کے فتاویٰ کے بعد انہوں نے پاکستان آرمی پر حملے شروع کر دیئے اور ہزاروں کی تعداد میں فوجی، سپاہی اور آفیسرز انکے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اس تحقیق کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم آنے والے الیکشن سے پہلے تمام تنظیموں کو اُن کے حقیقی نظریات کے ساتھ پہچانیں اور مکمل شعور و آگاہی کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ اگر ہم تکفیریت، دہشت گردی اور نفرت و فرقہ واریت کی سیاست سے بیزار ہیں تو پھر ہمیں ایم ایم اے سے مکمل ہوشیار اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

پڑھا گیا 743 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

ایندھن کی قلت، غزہ کا سب سے بڑا اسپتال بند ہونے کا خدشہ

ایندھن کی قلت، غزہ کا سب سے بڑا اسپتال بند ہونے کا خدشہ

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں ایک بڑے اسپتال ’الشفاء میڈیکل کپملیکس‘ نے ایندھن کی عدم دستیابی اور ادویات کی قلت کے ب...

مقالہ جات

طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد، عاشورا کا سرمدی پیغام

طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد، عاشورا کا سرمدی پیغام

اگرچہ واقعہ عاشورا 61 ہجری میں پیش آیا لیکن چونکہ اس کا مقصد ایسی حکومت کے خلاف جہاد تھا جس کی بنیاد دھوکے، جھوٹ اور لالچ کی سیاست پر استوار تھی اور و...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org