ایرانی حملے کے خوف سے کئی راتیں جاگ کر گزاریں، ارن اتزین

Published in دنیا
Wednesday, 11 July 2018


شیعیت نیو ز:قابض صیہونی حکومت کے اعلٰی عہدے پر فائز ایک اہم شخص نے اسرائیلی اخبار ھاآرتص سے گفتگو کے دوران اعتراف کیا ہے صیہونی حکومت ایران کی جانب سے فوجی حملے سے بہت زیادہ پریشان ہے اور خوف میں مبتلا ہے۔ اسرائیلی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سیکرٹری اور وزارت خارجہ کے اہم عہدہ دار ارن اتزین نے اخباری نمائندے سے گفتگو میں کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ حساس علاقہ شام ہے۔ اس ملک میں ہم آج بھی چھوٹی سطح کی جنگ میں ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی وقت ہمارے لئے خراب ہو سکتی ہے چونکہ اس جنگ میں اور ہمارے درمیان صرف ایک فاصلہ ہے اور وہ روس ہے۔ نیتن یاہو ہمیشہ ہی کہتا ہے کہ ہمارا اصلی ہدف ایران کو شام سے نکالنا ہے، ہمارے باقی سیاسی لیڈر بھی اسی بات کو ہی تکرار کرتے ہیں جبکہ یہ ایسا ہدف ہے جس کا حصول ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اور اس پر زیادہ اصرار کرنا جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ارن اتزن نے کہا کہ یاد رہے موجودہ شرائط بالکل بھی ہمارے حق میں نہیں ہیں اور ایرانیوں کی مداخلت کی وجہ سے خطے کی صورتحال بہت غیر یقینی ہے۔ تمام ملیشیا فورسز ایران کی حامی ہیں، اسی طرح حزب اللہ اور ترکی بھی۔ اور اس سارے منظر میں صرف ایک چیز یقینی ہے وہ یہ کہ امریکہ اپنی فورسز کو شام سے نکال رہا ہے۔

اسرائیل کی قومی سکیورٹی کونسل کے سابق عہدہ دار نے مزید کہا ہے کہ اگر حزب اللہ اس جنگ میں شریک ہوئی تو تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں میں تباہی اس حد تک زیادہ ہو گی کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جبکہ ایسی تباہی اس پہلے اسرائیل میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ ہمارے پاس اسکو روکنے کا بھی کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس جواب کا صرف ایک ہی راستہ ہو گا لیکن مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ اگر بیروت کو تل ابیب کی تباہی کے مقابلے میں تباہ بھی کر دیں تو یہ کسی کے لئے اطمینان کا باعث ہو گا یا نہیں؟ اس اعلٰی سکیورٹی عہدہ دار کا کہنا تھا کہ جب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ ایسی چیز ہے کہ اس جیسی چیز ہم نے ابھی تک نہیں دیکھی تو ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ حتما ایسی چیز ہے کہ جس کے بارے میں میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اتزین کا کہنا تھا کہ اب تک ہماری شعوری کوشش رہی ہے کہ ایران کے ساتھ ڈائریکٹ جھڑپ نہ ہو اور بہترین راستہ بھی یہی ہے کہ ہمیں اس بارے میں زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔

اسرائیلی عہدہ دار نے فاش کیا کہ 2009ء اور 2013ء میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے تو میں نے اپنی ذمہ داری کی مناسبت سے اس بارے میں کافی کام کیا۔ جب میں سکیورٹی کونسل میں تھا اس وقت بھی اور جب میں وزارت خارجہ میں تھا اس وقت بھی۔ ایسی چیزیں ہمارے سامنے موجود ہیں کہ جنکے بارے میں بات بھی نہیں کی جاسکتی لیکن اگر میری بیوی یہاں ہوتی تو آپ کو بتاتی کہ میں نے کتنی راتیں جاگ کر گذاریں ہیں، اس وجہ سے نہیں کے دفتر میں کام کرتا رہا ہوں بلکہ اس پریشانی کے سبب جو لاحق تھی۔ اسرائیلی عہدہ دار نے ایران کے ایٹمی مسئلہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو دعوی کیا جاتا ہے کہ ایران ایٹم بمب بنانا چاہتا ہے تاکہ اس سے تل ابیب پر حملہ کردے یہ صرف ایک دعوی اور سیاسی نعرہ ہے۔

Read 1113 times Last modified on Wednesday, 11 July 2018

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

اسرائیل کا مسجد اقصیٰ پردھاوا نمازیوں پرتشدد

اسرائیل کا مسجد اقصیٰ پردھاوا نمازیوں پرتشدد

مسجد اقصیٰ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے اہلکار مسجد کے تمام دروازے بند کرکے نمازیوں پر ٹوٹ پڑے اور ان پر تشدد کیا۔ اس دوران خاتون اور چ...

مقالہ جات

امریکا عراق میں ایک اور دہشتگرد گروپ کو تیار کرنے میں مصروف، اہم انکشاف

امریکا عراق میں ایک اور دہشتگرد گروپ کو تیار کرنے میں مصروف، اہم انکشاف

تحریر: علی احمدی مغربی ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹس گردش کر رہی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش سے وابستہ سینکڑوں تکفیری دہشت گرد عناصر کروڑوں ڈالر کے ہ...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org