تازہ ترین

جولان کا محاذ کھلنے کی اطلاع، اسرائیل میں بوکھلاہٹ

کیٹیگری لبنان
Thursday, 29 November 2018


حالیہ دنوں میں اسرائیلی میڈیا نے متعدد رپورٹیں شائع کی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ سید حسن نصر اللہ نے ایرانیوں کی ترغیب پر جولان کی پہاڑیوں کا محاذ کھولنے کا اسٹراٹیجک فیصلہ لے لیا ہے کیونکہ دو مہینے پہلے جنوبی شام سے حکومت مخالف تنظیموں کو باہر نکالنے اور اس علاقے کے پوری طرح شامی حکومت کے کنٹرول میں واپس آ جانے کے بعد حالات مناسب ہو چکے ہیں ۔

حزب اللہ نے کئی سال سے جولان کی پہاڑیوں کے محاذ کے اپنی ترجیحات قرار دے رکھا ہے اور اسی منصوبے پر اس نے دو عظیم شہیدوں سمیر قنطار اور ان کے معاون جہاد مغنیہ کی قربانی پیش کی جو اس محاذ پر کام کر رہے تھے اور اسرائیلی حملے میں شہید ہونے سے پہلے دونوں نے ایران کی قدس بريگیڈ کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی حمایت سے اس محاذ پر کافی کامیابی سے پورے کر لئے تھے۔

حزب اللہ نے فی الحال شہید قنطار کی جگہ لینے والے کمانڈر کا نام پردے میں رکھا ہے لیکن اسرائیلیوں کو شدید تشویش ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ وہ بری طرح خوفزدہ ہیں اور اسرائیلی میڈیا کہہ رہا ہے کہ اسرائیلی فوج جولان کے علاقے میں سرگرمیاں انجام دے رہی ہے ۔ یہیں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف گادی آیزنکوٹ اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ جولان کی پہاڑیوں کے دورے پر کیوں گئے؟ انہوں نے تاکید کی کہ اسرائیلی فوج، شام میں اثر و رسوخ پیدا کرنے کی ایرانی فوج کی سبھی کوششوں کو ناکام بنا دے گی ۔

اسرائیلیوں کی اس تشویش میں ڈونلڈ ٹرمپ حکومت بھی شریک ہے اور وہ بھی اس علاقے میں اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں کی حمایت کر رہی ہے ۔ یہ بات قابل توجہ تھی کہ اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نکلی ہیلی نے اس سال اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے جنرل اسمبلی میں اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا جو ہر سال پاس ہوتا ہے اور جس میں جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کی مذمت کی جات ہے اور اس قبضے میں غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔ اس تجویز کی حمایت میں 151 ممالک نے ووٹ دیا تھا اور 14 ممالک نے ووٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ نکی ہیلی نے اپنے اس پست قدم کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ایران کی فوجی موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے امریکا نے تجویز کے خلاف ووٹنگ کی ۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکا کی جینی انرجی کمپنی اور اس کی اسرائیلی ینچر کو جولان کی پہاڑی علاقے میں تیل اور گیس تلاش کرنے کی اجازت دیئے جانے کے نتیجے میں جولان کے محاذ پر لڑائی اور بھی جلدی شروع ہوگی ۔

یہ جنگ شام کے ادلب صوبے کی جنگ کے خاتمے کے فورا بعد شروع ہو سکتی ہے جس کی تیاری پوری ہو چکی ہے ۔ یہ نکتہ یہ بھی اہم ہے کہ امریکا کے سابق نائب صدر ڈک چینی جو 2003 میں عراق پر امریکا کے حملے کے بڑے حامیوں میں تھے، اس کمپنی کے مشیروں میں ہیں، اسی طرح مشہور میڈیا کمپنی کے سربراہ ریوپرٹ ماردوخ اور سی آئی اے کے سابق سربراہ جیمز ولیسی بھی شامل ہیں ۔

اگر جولان کا محاذ کھل گیا جس کا بہت زیادہ امکان ہے تو اس سے اسرائیل شدید مصیبت میں پڑ جائے گا کیونکہ جنوبی لبنان کا محاذ پہلے ہی اسرائیل کے لئے جنہم بن چکا ہے اور اسے وہاں سے 2000 میں اپنے فوجیوں کے انخلا پر مجبور ہونا پڑا تھا ۔

اسرائیل اب تین جانب سے محاصرے میں آ چکا ہے ۔ اس کے شمال میں حزب اللہ ہے، جنوب میں حماس کی قیادت میں فلسطینی تنظیمیں ہیں اور مغرب میں شامی فوج اور حزب اللہ کا اتحاد ہے ۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سید حسن نصر اللہ نے جو پیشن گوئی کی تھی اور جو خبردار کیا تھا کہ آنے والی جنگ میں اسرائیلی ایندھن بن سکتے ہیں، اسی لئے انہیں سمندر کے راستے سے فرار کر جانا چاہئےاور پہلے سے تیراکی سیکھ لینی چاہئے، اس کا وقت قریب آ چکا ہے ۔ ویسے صحیح بات تو سید حسن نصر اللہ کی جانتے ہیں ۔

پڑھا گیا 304 دفعہ

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

پرامن واپسی مارچ پر وحشیانہ حملہ 1 فلسطینی شہید، 48 زخمی

پرامن واپسی مارچ پر وحشیانہ حملہ 1 فلسطینی شہید، 48 زخمی

غزہ میں فلسطین کی وزارت صحت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز اڑتیسویں واپسی مارچ کے دوران صیہونی فوجیوں نے وحشیانہ فائرنگ کرکے16 سالہ ف...

مقالہ جات

مائنس امریکہ مستقبل کیجانب گامزن شام

مائنس امریکہ مستقبل کیجانب گامزن شام

عرب ملک الجمھوریہ العربیہ السوریہ جسے برصغیر پاک و ہند میں شام کہا جاتا ہے، اسکی تازہ ترین صورتحال کو درست تناظر میں سمجھنے کے لئے چند اہم نکات پیش خد...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org