خاشقجی کی لاش کہاں ہے معلوم نہیں: سعودی وزیر خارجہ

Published in سعودی عرب
Tuesday, 12 February 2019


سعودی عرب کےوزیرخارجہ عادل الجبیر نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ صحافی جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے۔؟

سعودی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ولی عہد نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم نہیں دیا، یہ سرکاری آپریشن نہیں تھا۔

عادل الجبیر نے مزید کہا کہ صحافی کے قتل پر گیارہ افراد پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے جبکہ گرفتار افراد سے صحافی جمال خاشقجی کی لاش سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے۔

سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے جمال خاشقجی کے قتل میں بن سلمان کے ملوث نہ ہونے کا دعوی ایسے میں کیا ہے کہ جب حال ہی میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں قتل سے ایک برس قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی۔ امریکی قانون سازوں نے اس نئے انکشاف کے بعد جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی عرب کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اخبار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سمجھتی ہے کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی ولیعہد جمال خاشقجی کے قتل کے لیے تیار تھے۔

دی ٹائمز کے مطابق یہ بات امریکا کی قومی سیکیورٹی ایجنسی اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے معمول کی کارروائی کے دوران اتحادیوں سمیت عالمی رہنماؤں کی بات چیت سننے اور جمع کرنے کے تحت ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس بات چیت کو حال ہی میں امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے ملوث ہونے سے متعلق ٹھوس شواہد کی تلاش کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق یہ بات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے ماتحت ترکی الدخیل کے درمیان ستمبر 2017 میں جمال خاشقجی کے قتل سے 13 ماہ قبل ہوئی تھی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر جمال خاشقجی سعودی عرب واپس نہیں آتے تو انہیں طاقت کے زور پر واپس لایا جائے گا اور اگر ان میں سے کوئی طریقہ کام نہیں کرتا تو پھر ہم ان کے خلاف ہتھیار کا استعمال کریںگے ۔ یہ بات اس وقت کی گئی تھی جب سعودی حکام جمال خاشقجی کی تنقید پر کافی برہم تھے اور اسی ماہ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم نگاری کا آغاز کیا تھا۔

واضح رہے کہ 2 اکتوبر 2018 کو جمال خاشقجی اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندرقتل کردیا گیا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والے جمال خاشقجی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں کے ناقد تھے اور اسی سلسلے میں انہوں نے سعودی عرب سے امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر رکھی تھی۔

Read 74 times

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

اسرائیل کا مسجد اقصیٰ پردھاوا نمازیوں پرتشدد

اسرائیل کا مسجد اقصیٰ پردھاوا نمازیوں پرتشدد

مسجد اقصیٰ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے اہلکار مسجد کے تمام دروازے بند کرکے نمازیوں پر ٹوٹ پڑے اور ان پر تشدد کیا۔ اس دوران خاتون اور چ...

مقالہ جات

امریکا عراق میں ایک اور دہشتگرد گروپ کو تیار کرنے میں مصروف، اہم انکشاف

امریکا عراق میں ایک اور دہشتگرد گروپ کو تیار کرنے میں مصروف، اہم انکشاف

تحریر: علی احمدی مغربی ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹس گردش کر رہی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش سے وابستہ سینکڑوں تکفیری دہشت گرد عناصر کروڑوں ڈالر کے ہ...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org