مقبوضہ فلسطین

اسرائیلی حراست میں شہید فلسیطنی سپرد خاک ، الشیخ صبری کی رہائش گاہ پردھاوا

شیعت نیوز: اسرائیلی جیل میں دوران حراست شہید ہونے والے فلسطینی نوجوان کو گذشتہ روز غرب اردن کے وسطی شہر رام اللہ کے نواح میں اس کے آبائی علاقے عابود میں سپرد خاک کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 23 سالہ اسیر نورالدین جابر البرغوثی چند روز قبل اسرائیل کے جزیرہ نما النقب کی جیل میں اچانک بے ہوش ہوگیا تھا۔ اسے بروقت کسی قسم کی طبی امداد فراہم نہیں کی گئی اور حالت خراب رہنے کے باوجود کئی گھنٹے کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ پردم توڑ گیا تھا۔

شہید کا جسد خاکی اسرائیلی جیل سے رام اللہ کے ایک میڈیکل کپملیکس لایا گیا جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

شہید کو گذشتہ روز اس کے آبائی علاقے عابود میں حمیدی البرغوثی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ شہید کے اہل خانہ اور دیگر شہرویوں کی بڑی تعداد نے تدفین سے قبل اس کا آخری دیدار قبرستان میں کیا۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ حکومت کا یوم علیؑ کے جلوسوں و مجالس پر پابندی عائد کرنے کا شرمناک فیصلہ سامنے آگیا

دوسری جانب صیہونی فوج کی بڑی تعداد نے گذشتہ شب تفتیشی کتوں کے ہمراہ مسجد اقصٰی کے خطیب الشیخ عکرمہ صبری کی رہائش گاہ پرچھاپہ مارا۔ اسرائیلی فوج نے انہیں ان کے مسجد اقصیٰ کھولنے سے متعلق بیان پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے مسلح فوجیوں نے الشیخ عکرمہ صبری کے گھر پرچھاپہ مارا اور گھر میں گھس کرانہیں زدو کوب کیا۔ اس موقعے پر اسرائیلی فوجی افسران نے الشیخ صبری کو دھمکی دی کہ ان کے مسجد اقصیٰ کھولنےسے متعلق بیان پر انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ الشیخ عکرمہ صبری نے گذشتہ روز اسرائیلی ریاست کو خبردار کیا تھا کہ اگرصیہونی حکام نے یہودیوں کے لیے مسجد اقصیٰ کا مراکشی دروازہ کھول دیا تو فلسطینی روزہ دار اور نمازی مسجد کے دیگر تمام دروازے کھول کراندر داخل ہوجائیں گے۔

ایک بیان میں الشیخ صبری نے کہا کہ فی الحال مسجد اقصٰی میں نماز ادا کرنے والے فلسطینیوں کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ وہاں بہت کم لوگ نماز کے لیے آتے ہیں۔ مسجد کی انتظامیہ کے افراد وہاں اذان دیتے اور نماز ادا کرتے ہیں جب کہ عوام الناس کو کورونا کی وجہ سے مسجد اقصیٰ میں نمازوں کی ادائیگی سےروکا گیا ہے۔

یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کو کھولنے کی اجازت دینے کے مطالبات پر بات کرتے ہوئے الشیخ صبری کا کہنا تھا کہ یہودی آبادکار قبلہ اول میں داخل ہونے اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے حیلے بہانے تراش رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے مسجد اقصیٰ کی بندش ہم سب کے لیے پریشانی اور صدمے کا باعث ہے مگر موجودہ حالات میں ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتے جس سے فلسطینیوں کی صحت خطرے میں پڑ جائے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close