کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
لبنان

اسرائیل اور لبنان کی عنقریب آخری فیصلہ کن جنگ

عرب میڈیا کے بہترین کالم نگار اور "رأي اليوم” سمیت چند دیگر اخباروں کے چیف ایڈیٹر "#عبدالباری_عطوان” نے 21 اپریل 2019ء کے اپنے کالم میں حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے چند اہم انکشافات کئے جن میں اسرائیل اور لبنان کی جنگ کے بارے میں انکا بیان کچھ اس طرح سے ہے کہ:

جب آج سے دو ہفتے پہلے میں نے لبنان کا دورہ کیا تو لبنانی صدر میشال عون، لبنان کے اکثر سیاستدان، دیگر سربراہان کے علاوہ آخر میں "حزب اللہ” کی صف اول کی قیادت سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہاں سے نکلنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ خطہ تو جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔
ان خبروں کی تصدیق لبنان میں ہونے والا موجودہ شور و غوغا کرتا ہے، کم از کم وہ الفاظ جو خود "حزب اللہ” کے ایک بڑے سربراہ کی زبان سے جاری ہوئے، یہ سربراہ ہماری ملاقات سے دو دن پہلے سید حسن نصراللہ(دام ظلہ) سے ملاقات کر چکا تھا، تاکید کیساتھ کہتا ہے کہ سید حسن نصراللہ(دام ظلہ) کا یہ ماننا ہے کہ اسرائیل کیساتھ ہماری جنگ بہت قریب ہے، قوی احتمال کے ساتھ کہا جائے تو انہی گرمیوں میں ہی یہ جنگ متوقع ہے۔ اسی لیے سید حسن نصراللہ(دام ظلہ) نے تمام تر قوتی عناصر کو سرحد پر تعینات کر کے ہائی الرٹ رہنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ اسی کیساتھ ساتھ خطے کی قیادتوں سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اس جنگ کو چھپایا نہ جائے۔ اسرائیل کی ایجنیسی اس جنگ کے دوران سید حسن نصراللہ(دام ظلہ) کو اپنا ہدف بنا سکتی ہے یا پھر "حزب اللہ” کی صفِ اول کی قیادتوں کو گرفتار کر سکتی ہے۔ اسی احتمال کے پیش نظر سید حسن نصراللہ(دام ظلہ) نے "حزب اللہ” کی صف اول کی قیادتوں کیساتھ ایک اجلاس میں کہا ہے کہ”ہو سکتا ہے میں زیادہ دیر تک آپ کے درمیان نہ رہ سکوں”۔
سوریا پر اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ حملوں پر ایران، سوریا اور "حزب اللہ” کی جانب سے خاموشی بھی کچھ انہی اندیوں کا ثبوت دیتی ہے کہ اب کی بار ان ممالک کا جواب ایک بہت بڑا حملہ ہو گا جس کی توقع کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس ہونے والی جنگ میں لبنان، سوریا، فلسطین کی طرف سے "حماس” اور چند احتمالات کی بنا پر ایران براہ راست اسرائیل پر میزائلوں کی بوچھاڑ کریں گے۔ اس جنگ کا مقصد اسرائیل کا خاتمہ اور فلسطین سمیت مقبوضہ "جلیل” کی آزادی ہو گا۔ لہذا یہ جنگ فیصلہ کن جنگ ہو گی۔

حالیہ دنوں امریکہ کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشتگرد جماعت قرار دینے کے بعد قوی احتمال یہی ہے کہ رہبر معظم(دامت برکاتہ) سردار حسین سلامی کو سپاہ کا نیا سربراہ تعینات فرما دیں کہ اسرائیل کے خلاف انکا نظریہ "اسرائیل کا جڑ سے ختم ہونا” ہے۔ ایسے شخص کا نیا سربراہ تعینات ہونا بھی انہی مذکورہ خبروں کی تاکید کرے گا۔ ان تمام خبروں سے کویت کے ایک اخبار نے بھی آگاہ کیا ہے لیکن میرے لیے یہ حیران کن نہ تھا کیونکہ میں خود "حزب اللہ” کی قیادتوں سے یہ تمام حالات جان چکا تھا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close