مشرق وسطی

سلامتی کونسل نے شام سے امریکی قبضہ ختم کروانے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ بشار الجعفری

شیعت نیوز : اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار الجعفری نے شام سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران شام کے حوالے سے اقوام متحدہ و سلامتی کونسل کے کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں اداروں نے گزشتہ سالوں کے دوران جارح قوتوں کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کرنے کی دمشق کی درخواستوں پر کوئی جواب نہیں دیا۔

شامی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق بشار الجعفری نے کہا کہ سلامتی کونسل جس چیز کو ’’شامی بحران کے حل کے لئے سیاسی عمل‘‘ قرار دیتی ہے، وہ درحقیقت اس کے بعض مستقل اراکین کی جانب سے شامی قوم پر مسلط کردہ دہشت گردانہ جنگ کی حمایت، شام پر ان ممالک کے قبضے اور دہشت گردی پر ان کی سرمایہ کاری کا جواز ہے۔

شامی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے منعقد ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب نے شام میں جاری بیرونی جارحیت کے حوالے سے سلامتی کونسل کی بے حسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی شامی حکومت نے ترک یا صیہونی جارحیت کے حوالے سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں شکایت درج کروائی ہے یا ان دونوں اداروں کو شام کے اندر دہشت گردی، قتل و غارت اور فوجی مداخلت کو حاصل حمایت کے حوالے مطلع کیا ہے تو اس مسئلے سے توجہ ہٹوانے کے لئے مغربی ممالک کی کوششوں میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کسی بھی دشمن کی جانب سے سائبر حملوں کا منھ توڑ جواب دیں گے۔ ایرانی مسلح افواج

بشار الجعفری نے سلامتی کونسل سے براہِ راست جواب طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ میری ملکی سرزمین پر امریکی قبضے کے خاتمے کے لئے سلامتی کونسل نے آج تک کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل نے دہشت گردوں کی حمایتی صیہونی و اردوغان حکومتوں کی طرف سے شام پر قبضے و جارحیت سے نمٹنے کے لئے کیا کام انجام دیا ہے؟

اقوام متحدہ میں شامی مستقل مندوب نے سلامتی کونسل سے اپنے خطاب میں بھرپور احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ (شامی سرزمین کے قبضے پر مبنی) وہ غیرقانونی امریکی اقدامات جو نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور بلکہ سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کے بھی خلاف ہیں، ناگہانی اور کسی ایک دن کے فیصلے پر مبنی نہ تھے۔

بشار الجعفری نے کہا کہ امریکہ نے (اپنے ان اقدامات سے) دراصل ترکی اور داعشی دہشت گردی کے ذریعے شامی سرزمین سے تیل سمگل کرنے کا رَستہ کھولا ہے جبکہ اس حوالے سے امریکہ اردوغان حکومت کے ساتھ ملا ہوا ہے۔

انہوں نے ترکی کو شام کے شمالی علاقوں میں آبادیاتی (Demographic)، جغرافیائی اور اقتصادی تبدیلیوں اور اس علاقے کے باشندوں کے بے گھر ہونے کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ شام کے شمالی علاقوں میں موجود ترک حمایت یافتہ ایجنٹ نہ صرف وہاں کے قدرتی وسائل اور شامی عوام کی دولت لوٹنے میں مصروف ہیں بلکہ اس علاقے کے اندر ترک کرنسی کو بھی رواج دے رہے ہیں۔

بشار الجعفری نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ شامی بحران کا واحد راہِ حل صرف اور صرف شامی عوام کے ہاتھ میں ہے جبکہ کسی دوسرے فریق کو اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق ہرگز حاصل نہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close