کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
یمن

یمنی فوج نے سعودی اتحاد کا حملہ پسپا کردیا

خب الشعف میں انجام پانے والی اس کارروائی میں سعودی اتحاد میں شامل درجنوں کرائے کے فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

یمنی فوج نے خب الشعف کے نواحی علاقوں تواثنہ اور المہور کی بلندیوں پر واقع سعودی اتحاد کے ٹھکانوں پر شدید حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں جارح دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔ جنوبی سعودی عرب کے صوبے جیزان کے علاقے الخوبہ پر یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے حملے میں تین سوڈانیوں سمیت سعودی اتحاد میں شامل میں درجنوں کرائے کے فوجی ہلاک ہوگئے۔

سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے یمن کے سخت ترین محاصرے کے باوجود یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں کی دفاعی توانائیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

دوسری جانب یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ کے ترجمان نے امریکی صدر کی جانب سے جنگ یمن کی حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نہ صرف جنگ میں شریک ہے بلکہ اس بارے میں فیصلہ سازی کا اختیار بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔

یہاں اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ یمن میں امریکہ کی مشارکت ختم کرنے سے متعلق کانگریس کے بل کو ویٹو کردیا ہے۔انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا ہے کہ امریکی صدر کا یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سعودی اتحاد میں شامل ممالک محض امریکی منصوبے اور سازش پر عملدرآمد کے لیے آلہ کار بنے ہوئے۔انصار اللہ کے ایک اور رہنما عبدالوہاب المجشی نے بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ یمنی عوام اور قیادت کے درمیان اتحاد کی تقویت کا سبب بنے گا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close