مقبوضہ فلسطین

صیہونی فوج کی بربریت ایک فلسطینی شہید 100 زخمی

خان یونس میں واپسی مارچ پر صیہونی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک فلسطینی خاتون ڈاکٹر رزان النجار شہید ہو گئیں۔ شہید ہونے والی خاتون ڈاکٹر مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی علاج کرتی تھیں۔

اس طرح گذشتہ نو ہفتے سے اسرائیلی فوج کی غزہ کے شہریوں پر بہیمانہ فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک سو بیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ تیرہ ہزار فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تین سو تیس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

واپسی مارچ کے ایک اعلی فلسطینی عہدیدار صلاح عبدالعاطی نے بھی کہا ہے کہ بہت سے زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں مناسب طبی سہولتیں بھی فراہم نہیں اس لئے آئندہ چند روز میں شہدا کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے پرامن مظاہرے کو کچلنے کے لئے براہ راست گولیوں کا استعمال کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود نہ فقط عالمی ادارے خاموش ہیں بلکہ امریکہ کھل کر اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔

فلسطینی عوام نے تیس مارچ کو یوم الارض فلسطین کے موقع پر گرینڈ واپسی مارچ کا آغاز کیا تھا۔ یہ دن تیس مارچ انیس سو چھہترکی یاد دلاتا ہے جس دن اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمینوں پر ناجائز قبضے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

اسرائیل فلسطینیوں کی زمینوں پر مسلسل قبضہ اور صیہونی بستیاں تعمیر کر کے علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل اور جغرافیائی حقائق کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ فلسطینی اراضی پر اپنے ناجائز قبضے کو مستحکم بنایا جا سکے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close