اہم ترین خبریںمقالہ جات

13 محرم شہدائے کربلا کی تدفین کا دن

تحریر و تحقیق: توقیر کھرل

شیعیت نیوز : دس محرم الحرام 61 ہجری کو امام حُسین علیہ السلام نے ایک خیمہ کو شہداء کے اجسام ِ مطہر کے لئے مخصوص کردیا تھا، جب بھی کربلا میں کوئی جانثار شہید ہوتا اس کے لاشے کو اسی خیمہ میں لایا جاتا۔ مولا عباس علمدار کے جسد اطہر کے علاوہ تمام لاشے یہاں لائے گئے۔ مورخین لکھتے ہیں، جب بھی کسی شہید کا لاشہ اُسی خیمہ میں لایا جاتا تو امام فرماتے "یہ پیغمبروں اور پیغمبروں کی آل کی مانند شہید ہیں اور حضرت علی علیہ السلام نے شہداء کربلا کی شان میں فرمایا ہے کہ "یہ دنیا اور آخرت میں شہیدوں کے سردار ہیں اور آج تک نہ کوئی ان پر سبقت لے گیا اور نہ ہی آئندہ سبقت لے جائے گا”۔ مقتل مکرم میں درج ہے کہ امام نے فرمایا ’’اس شہید کے قاتل نبیوں اور نبیوں کی اولاد کے قاتلوں کی مانند ہیں”۔

ارشاد شیخ مفید مین درج ہے کہ امام حُسین نے جس قبیلہ سے کربلا کی زمین خریدی تھی اسی قبیلہ بنی اسد کے لوگ جب امام مظلوم کے پاکیزہ جانثاروں کے لاشوں کو دفن کرنے کے لئے آئے تو دیکھا کہ کسی بھی دھڑ کے ساتھ سر نہیں تھا حتی کہ بدن پر لباس بھی نہیں تھا۔۔۔بہت سے لاشے شدت ضربات کی وجہ سے ٹکرے ٹکرے ہو چکے تھے شناخت ممکن نہ تھی۔۔ اس لئے بنی اسد کے لوگ پریشان تھے کہ کیا کیا جائے کہ اتنے میں امام زین العابدین علیہ السلام معجزہ سے تشریف لائے، وہ ابدان و اجسام کا تعارف کرواتے اور تدفین کرواتے رہے۔ پھر اپنے والد بزرگوار امام حُسین کے جسم اطہر کو کربلا کی سرزمین میں چھُپا دیا اور یہ عمل اکیلے انجام دیا۔ بنی اسد نے مدد کرنے کا ارادہ کیا تو امام نے فرمایا میرے ساتھ میرے مددگار ہیں اور قبر مطہر پہ یہ عبارت تحریر فرمائی، "یہ حُسین بن علی بن ابی طالب کی قبر ہے جسے لوگوں نے عالم غربت میں پیاسا شہید کردیا”۔

یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ بعض مورخین نے امام حُسین کی تدفین کی نسبت کئی دوسرے لوگوں سے دی جیسا کہ بنی اسد نے امام کو دفن کیا یا زہیر کے غلام نے یا کچھ یہودیوں نے کیا۔ یہ سب باطل نظریات ہیں، ہر امام کے کفن اور دفن کا انجام دینے والا اس کے بعد والا امام ہوتا ہے۔ جیسا کہ امام باقر علیہ کا فرمان ہے کہ امام زین العابدین مخفیانہ طور پر کربلا تشریف لائے اور اپنے والد بزرگوار پر نماز ادا کی اور انہیں دفن کیا اس کے بعد امام سجاد نے مولا عباس علمدار کا لاشہ بھی اکیلے دفن کیا، پھر حضرت علی اکبر کو امام حسین کے مبارک قدموں میں دفن کیا اور دیگر قریبی رفقاء کو بھی۔ حضرت حُر ریاحی کی لاش کو ان کے خاندان والے کربلا کی حدود سے باہر لے گئے اُن کا روضہ مبارک کربلا سے کچھ فاصلے پر وہیں ہے جہاں انہیں دفن کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں سنی مقدسات اور اسلامی مقدسات کا احترام

ایک روایت کے مطابق حضرت حُر کی والدہ کربلا میں موجود تھیں انہوں نے لاشہ کی پامالی نہیں ہونے دی اور قبیلے کی مدد سے لاشوں میں سے اٹھا لیا اور وہیں دفن کیا جہاں اب روضہ مبارک ہے۔ علامہ مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار میں لکھتے ہیں: تیرہ محرم 61 ہجری کو بنی اسد کی خواتین دریائے فرات سے پانی لینے آئیں تو انھوں نے زمین پر بہت سے لاشے بکھرے ہوئے دیکھے کہ جن کے جسموں سے تازہ خون ایسے بہہ رہا تھا کہ گویا انہیں آج ہی شہید کیا گیا ہے، خواتین یہ منظر دیکھ کر روتی ہوئیں واپس اپنے قبیلے والوں کے پاس گئیں، اور ان سے کہا کہ تم یہاں اپنے گھروں میں بیٹھے ہو اور رسول خدا کے بیٹے امام حسین اور انکے اہل و عیال اور ساتھیوں کو ریت پہ قربانی کے جانوروں کی طرح ذبح کر دیا گیا ہے، جب تم رسول خدا، امیرالمومنین اور حضرت فاطمہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گے تو ان کے سامنے کیا عذر پیش کرو گے؟

اگرچہ تم نے امام حسین کی مدد و نصرت کا موقع کھو دیا ہے، لیکن ابھی اٹھو اور جا کر ان پاک و پاکیزہ لاشوں کو دفن کرو، اگر تم نے ان کو دفن نہ کیا تو ہم خواتین خود جا کر ان کے دفن کے کام کو سرانجام دیں گی، اس کے بعد بنی اسد کے مرد ان پاک طاہر لاشوں کو دفن کرنے کے لئے آ ئے۔ اب بھی 13 محرم کو قبیلہ بنی اسد کی ہزاروں خواتین اور بچے بیلچے لئے ہوئے کربلا میں وارد ہوتے ہیں اور ضریح اقدس کے قریب آکر آواز بلند کرتے ہیں مولا ہم دفن کرنے آئے ہیں، جلوس میں سب سے آگے قبیلہ بنی اسد کی ماتمی انجمن اور قبیلہ کے سردار اور بزرگ ہوتے ہیں، اس ماتمی جلوس کے پیچھے قبیلہ بنی اسد اور دیگر قبائل کی خواتین کا بھی بہت بڑا جلوس ہوتا ہے، جو سب خاندان رسالت کی خواتین کو پرسہ پیش کرنے کے لئے کربلا آتی ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close