کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
پاکستان

کراچی میں چینی قونصل خانے پر تکفیری دہشت گردوں کا حملہ ، 2باپ بیٹےاور2 پولیس اہلکار شہید، 3 حملہ آور واصل جہنم

شیعیت نیوز: کراچی میں قائم چین کے قونصل خانے پرتکفیری دہشت گردجماعت کالعدم سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی اور داعش سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے بڑا حملہ کیا ہے کہ جس میں دو پولیس اہلکار اور دو باپ بیٹے موقع پرہی شہید ہوگئے ہیں۔ چینی قونصل خانے پر جمعہ کی صبح حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کوئٹہ سے چینی ویزے کے حصول کے لئے آنے والے دو باپ بیٹااوردو پولیس اہلکار شہید اور ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہو چکے ہیں۔ جوابی کارروائی میں تین دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق قونصل خانے کا عملہ بالکل محفوظ ہے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا گیا ہے۔ کراچی کے ایڈیشنل آئی جی امیر شیخ اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تین دہشت گردوں کو جوابی کارروائی میں ہلاک کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے چینی قونصل خانے کے ویزہ سیکشن کو نشانہ بنایا ہے۔ فائرنگ میں شہید پولیس اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل عامر اور اے ایس آئی ایم اے داود کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی طور پر دونوں افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ جناح اسپتال کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ دو زخمی اہلکاروں کو لایا گیا تھا تاہم وہ جاں بر نہیں ہو سکے۔ اسپتال کی ڈائریکٹر سیمی جمالی نے کہا ہے کہ زخمی سیکیورٹی گارڈ کو ابتدائی طبی امداد دی جارہی ہے اور اسپتال میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی گئی ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں۔ ایس ایس پی ساؤتھ  بھی اپنی نفری کے ساتھ پہنچے ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ رینجرز کی بھاری نفری بھی جائے وقوع پر پہنچ چکی ہے اور قونصل خانے کے اطراف کو سیل کردیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ قبل ازیں رواں برس اگست میں بلوچستان کے علاقے دلبندین میں ایک بس پر خودکش حملے کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہوئے تھے جن میں تین چینی باشندے شامل تھے۔ واضح رہے پاکستان اور چین کے مابین 60 بلین ڈالر کے منصوبے سی پیک کی وجہ سے ہزاروں چینی انجینئرز پاکستان میں موجود ہیں۔

برطانوی میڈیا کی جاری رپورٹ کے مطابق چینی قونصل خانے پر جمعہ کی صبح حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید اور ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوچکے ہیں۔ جوابی کارروائی میں تین دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق قونصل خانے کا عملہ بالکل محفوظ ہے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرلیا گیا ہے۔ اسپتال کی ڈائریکٹر سیمی جمالی نے کہا ہے کہ زخمی سیکیورٹی گارڈ کو ابتدائی طبی امداد دی جارہی ہے اور اسپتال میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں۔ ایس ایس پی ساؤتھ بھی اپنی نفری کے ساتھ پہنچے ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ رینجرز کی بھاری نفری بھی جائے وقوع پر پہنچ چکی ہے  اور قونصل خانے کے اطراف کو سیل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ترجمان کی رپورٹ کے مطابق کلفٹن کے علاقے میں واقع چینی قونصل خانے پر مسلح افراد کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے اور اس کارروائی میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین حملہ آور اور دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔

 ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کے مطابق حملہ آور جمعے کی صبح ایک گاڑی میں چینی قونصلیٹ تک پہنچے اور قونصلیٹ میں داخل ہونے کیت کی کوشش کی۔ حملہ آوروں نے پہلے دستی بموں سے دھماکے کیے اور اس کے بعد مسلح افراد اور عمارت کی سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور قونصل خانے کے احاطے میں داخل ہونے میں تو کامیاب رہے تاہم وہ کمپاؤنڈ میں داخل نہ ہو سکے اور انھیں اس سے پہلے ہی مار گرایا گیا۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ نے مزید بتایا کہ اس حملے میں چینی قونصل جنرل سمیت تمام چینی عملہ محفوظ رہا جبکہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار قونصل خانے کی حفاظت پر تعینات تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دو حملہ آوروں کے پاس سے خودکش جیکیٹیں ملی ہیں۔ ان کے مطابق رینجرز اب قونصل خانے کی عمارت میں موجود ہیں اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے جس کے بعد ہی کارروائی کے خاتمے کا اعلان کیا جا سکے گا۔ اس واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں عمارتوں کے درمیان سے دھواں اٹھتا جبکہ فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جا سکتی تھیں۔

اس واقع کے بعد چینی قونصل خانے کی جانب جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد وہاں موجود ہے۔ کراچی سے بی بی سی نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق آئی جی سندھ نے چینی قونصلیٹ پر حملے کا نوٹس لیا ہے اور ڈی آئی جی ساؤتھ سے واقعے کی تفیصلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک ترجمان جیہاند بلوچ نے فون پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے مجید بریگیڈ کے تین فدائین اس کارروائی میں شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ چین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ ہماری زمین پر قبضے کی کوشش چھوڑ دے ورنہ مستقبل میں اسے مزید سنگین معاملات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خیال رہے کہ رواں برس کے آغاز میں پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ ژینگ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں متحرک بلوچ مزاحمتی تحریک اب نہ ہی پاکستان، نہ چین اور نہ ہی سی پیک کے لیے کوئی خطرہ ہے اور پاکستان میں پہلے کی نسبت امن و امان کی صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close