مقالہ جات

کاش ماؤں نے دکانوں کو جنم دیا ہوتا

 

blast-6

یوم عاشور پر کراچی میں ہونے والے ہولناک بم دھماکے میں شہید اور زخمیوں ہونے والے افراد کو انتظامیہ اور حکام کی جانب سے ممکنہ امداد اور تعاون کے تمام تر وعدوں کے باوجود متاثرین اور دیگر عام شہری حکام اور انتظامیہ اور حکومت مشنری کو مارکیٹوں کی رونقیں دوبار بحال کرنے میں مشغول پا رہے ہیں اور یہ سانحہ عاشورہ کے تعلق سے ایک ایسا تلخ موضوع ہے کہ جسے صرف ملک و قوم سے حقیقی ہمدردی رکھنے والے ہی اٹھارہے ہی

ں چنانچہ پاکستان کے ایک معروف کالم نگار جاوید چوھدری نے سانحہ عاشورہ اوراس کے بعد کراچی کی مارکیٹوں کی رونقیں دوبارہ بحال کئے جانے کے سلسلے میں حکومتی مشنری کی چابک دستی کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے ۔موصوف کاش ماؤں نے دکانوں کو جنم دیا ہوتا کہ زير عنوان اپنے اس مضمون میں جو کچھ لکھتے ہیں وہ من وعن قارئین کی نذر کیا جارہا ہے ۔کراچی میں ٹھیک اس وقت جب بولٹن مارکیٹ میں آگ لگی تھی، شعلے آسمان سے باتیں کررہے تھے اور پورے شہر کی انتظامیہ آگ بجھاؤ اور آگ بھڑکنے دوکی پالیسی پر تقسیم تھی اس وقت پچھتر سال کی ایک بوڑھی ماں ایم اے جناح روڈ پر اپنے اکلوتے بیٹے کے اعضاء جمع کررہی تھی ، اس کے ایک ہاتھ میں شہید بیٹے کا کٹا ہوا بازو تھا اور کٹی دوسرے میں اس کی قمیض اور وہ دیوانہ وار اس کے اعضاء تلاش کررہی تھی لیکن نعشوں کے انبار میں سے کسی پھٹی نعش کی تلاش آسان کام نہیں ہوتا، جس جگہ انسانی اعضاء قصاب کی دکان بن چکے ہوں، انسانی خون جوتوں کے تلوؤں سے چپک رہا ہو، فضاء میں دور تک انسانی گوشت کی بو پھیلی ہو اور موت بال کھول کر سرے عام قہقہے لگارہی ہو وہاں کسی ایک انسان کی نعش تلاش کرنا، کسی ایک بدنصیب کے نصیب کو تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا، اس بوڑھی ماں کے ساتھ بھی یہی ہورہاتھا، وہ ہر کٹے ہوئے بازو، ہراوھڑی ہوئی ٹانگ، ہرابلی ہوئی آنکھ ،ہراترے ہوئے سر، ہر الجھی ہوئی آنت، ہرکھلے ہوئے پیٹ اور ہر ڈھلکی ہوئی گردن میں اپنا بیٹا تلاش کررہی تھی، وہ ہر زخمی کی آواز کو اپنے بیٹے کی آواز سمجھ کر آہوں اور سسکیوں کا تعاقب کررہی تھی اور خون کی ہر بوند کو اپنا لہو سمجھ کر سونگھ رہی تھی لیکن اس کا بیٹا وہاں نہیں نہیں تھا، اسے صرف ایک بازو مل سکا تھا اور اس کے بارے میں بھی اسے یقین نہیں تھا کہ یہ واقعی اس کے بیٹے کا بازو ہے ، انسان کے اعضاء بھی عجیب چیز ہیں، یہ جب تک بدن کا حصہ رہتے ہیں اس وقت تک ان کا کوئی نہ کوئی حوالہ، ان کی کوئی نہکوئی شناخت ،کوئی نہ کوئی نشانی اور کوئی نہ کوئی نام ہوتا ہے لیکن یہ جوں ہی انسانی بدن سے الگ ہوتے ہیں یہ محض گوشت کالو تھڑا گوشت کا کٹا پھٹا ٹکڑا بن کررہ جاتے ہیں اور ان کا نام، ان کا پتہ اور ان کا نشان قیمہ بن کر مٹی میں رل جاتا ہے ، ماں بیٹے کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئی تو اس نے چادر سے کٹا ہوا بازو نکالا اوراسے بے تحاشہ پیارکرنے لگی ، خون کا ذائقہ اس کے ہونٹوں سے زبان پر منتقل ہوگیا اور زبان سے حلق میں اترنے لگا لیکن وہ نارمل کہاں تھی، غم کی شدت انسان کو انسان کہاں رہنے دیتی ہے، یہ اسے موم کا بے حس مجسمہ بنادیتی ہے اور انسان آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھے بغیر خون کو سونگھتا اور گوشت کے لوتھڑوں کو چومتا رہتا ہے ، یہ ماں بھی انسان نہیں رہی تھی چنانچہ اسے بھی خون کی کڑواہٹ کا احساس نہیں ہورہا تھا، یہ گوشت کے ڈھیر پر بیٹھ کر اپنے بیٹے کا بازو چومتی چلی جا رہی تھی یہاں تک کہ لوگ آگے بڑھے اور اسے زبردستی اٹھا کر عباسی شہید ہسپتال لے گئے، ماں چلی گئی لیکن جاتے جاتے بیٹے کابازو گوشت کے ڈھیر پر پھینک گئی،موت کو موت کے حوالے کرگئی۔ہم پچھلے ایک ہفتے سے بولٹن مارکیٹ کی دکانوں کارونارور ہے ہیں ، تاجرکہتے ہیں آتش زدگی میں تین ہزار دکانیں مکمل طور پر جل گئیں جبکہ پندرہ سو دکانیں جزوی طور پر آتش زدگی کاشکار ہوئیں ، حکومت کا کہنا ہے اس میں 30 ارب روپے کا نقصان ہوا، بزنس مینوں اور چیمبرز کے اعداد و شمار بتاتے ہیں نقصان کھرب روپے کے فگر تک پہنچ گيا ہے، صدر صاحب فرماتے ہیں یہ سانحہ میری تقریر کا ردعمل تھا، سٹی حکومت کا کہنا ہے حملہ خودکش تھا، وزير داخلہ رحمن ملک کا دعوی ہے بم باقاعدہ پلانٹ کیا گیاتھا، یہ بم اس باکس میں نصب کیا گیا تھا جس میں لوگ قرآن مجید کے اوراق اور مقدس صفحات ڈال دیتے ہیں اور بم اس قدر طاقتور تھا کہ اس نے بجلی کا کھمبا ادھیڑ دیا، وفاقی حکومت کے غیر سرکاری ترجمان اس واقعے کو ایم کیو ایم کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں ، ایم کیو ایم دبے لفظوں میں اسے پاکستان پیپلزپارٹی کی مہربانی قراردے رہی ہے ، بیوروکریسی سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی طرف انگلیاں اٹھارہی ہے اور ذوالفقار مرزا سے ایجنسیوں کی کارستانی کہہ رہے ہیں ، میڈیا اس پر حیران ہے کہ بم دھماکے سے چند لمحے بعد لوگ بولٹن مارکیٹ کیسے پہنچ گئے ، ان کے پاس ایسا کیمیکل کہاں سے آگیا جسے آسانی سے نہیں بجھایا جا سکتا، شرپسندوں کو آگ لگانے سے روکا کیوں نہیں گیا، فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے راستے میں رکاوٹیں اور کنٹینر کس نے کھڑے کئے ، گاڑیوں میں پانی کیوں نہیں تھا، کراچی کی انتظامنیہ کو شرپسندوں پر گولی چلانے سے کیوں روکا گیا اور کس نے پولیس اور رینجرز کو صرف تماشہ دیکھتے رہو کا حکم دیا تھا، بزنس مین گروپس کا کہنا ہے بولٹن مارکیٹ کراچی کا مہنگاترین علاقہ تھا، یہاں سو سو سال پرانی عمارتیں تھیں، قبضہ مافیا بڑی مدت سے ان پر نظریں گاڑھے بیٹھا تھا، یہ زمین اب کسی فرنٹ مین کے حوالے کردی جائے گی، وہاس پر بڑے بڑے شاپنگ مال بنائے گا اور یوں اربوں روپے دائیں سے بائیں ہوجائیں گے اور چیمبرز کے حکام کا کہنا ہے 28 دسمبر کے واقعے نے کراچی کی ریڑھ کی ہڈی توڑدی، دہشت گردی کی فضاء میں صرف کراچی بچا ہوا تھا لیکن اس واقعے کے بعد کراچی کا بزنس بھی تباہ ہوگیا، پاکستان مزيد معاشی بدحالی کا شکار ہوگیا، یہ سب باتیں، یہ سارے حقائق درست ہیں ، یہ بھی ٹھیک ہے کراچی کے معاشی زخموں کو ٹھیک ہونے میں دہائی لگ جائے گي لیکن وہ 45 نعشیں اور 120 زخمی کہاں گئے جو اس دن زندگي کے کربلا میں روند دیئے گئے تھے،ان 45 بے گناہ اور معصوم لوگوں کی آواز کون اٹھائے گا، کیا یہ انسان نہیں تھے؟ کیا یہ پاکستانی نہیں تھے؟ اور کیا ان کا تعلق بھی سیٹھوں کے شہر کراچی سے نہیں تھا؟ مجھے محسوس ہوتا ہے ہمارے اندر انسانیت مرگئی ہے، ہم اب موت اور زندگی کو کیش اور پراپرٹی میں ماپتے ہیں ، ایک انسان مرگیا، اس کا تعلق اگر اسلام آباد ، لاہور یا پشاور سے ہے تو اس کے لواحقین کو پانچ لاکھ روپے دے دیں اور اگر وہ ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر ، لکی مروت یا ملتان سے تعلق رکھتا ہے تو اس کی قیمت دو لاکھ روپے ہے ، اس کے لواحقین کو بلاؤ، قطار میں کھڑاکرو، تصوری بنواؤ اور حکومت کی ذمہ داری ختم کیا ہم ایسا نہیں کررہے ؟ آپ پچھلے چار سال کے اخبارات نکال کر دیکھ لیجئے آپ کو وزراء خارجہ، وزراء داخلہ اور وزراء خزانہ یہ دہائی دیتے دکھائی دیں گے ہمیں وار آن ٹیرر میں 36 بلین ڈالر کا نقصان ہوا، ہمارا لاس پچاس بلین ڈالر ہوگيا ہے ،ہماری انڈسٹری دم توڑ رہی ہے اور ہمارے فارن ایکسچینج ریزرو ختم ہورہے ہیں و غیرہ مگر آج تک کسی نے یہ نہیں کہا ہم پر اس جنگ کے دوران صرف ایک سال میں پانچ سو خودکش حملے ہوئے جن میں تین ہزار لوگ شہید اور 12 ہزار زخمی ہوئے ، ہم نے آج تک ان تین ہزار شہیدوں اور بارہ ہزار زخمیوں کو نقصان نہیں سمجھا کیوں ؟ شاید ہم یہ سمجھتے ہیں ہمارے ملک کا ہر شہری دہشت گردی کی اس جنگ میں کسی خودکش حملے، کسی بم بلاسٹ اور کسی ڈرون حملے میں مرنے کے لئے پیدا ہوا ہے لہذا ہمارا اصل نقصان دکانیں، پلازے ، بینک ، گاڑیاں، فیکٹریاں اور سرکاری عمارتیں ہیں ، ہم انسانی نقصان کو نقصان ہی نہیں سمجھتے ، ہماری انسانیت کہاں چلی گئي ہے ،کیا ہم اندر سے ویران اور بنجر ہوچکے ہیں ،کیا ہمارے ضمیر کی زمین پر اب کبھی رحم، خداترسی اور جذبوں کی بارش نہیں ہوگي، ہم سب اپنے اندر کربلا لے کر پھررہےہیں؟ یہ آج کے سب سے بڑے سوال ہیں ۔یہ حقیقت ہے معاشروں کے لئے دکانیں، شاپنگ سینٹرز، گودام ، کارخانے ،بینک اور سرکاری اور غیر سرکاری عمارتیں بہت اہم ہوتی ہیں لیکن کیا یہ اس ماں کے لئے بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں جس کا اکلوتا بیٹا عاشورہ کےجلوس میں مارا گيا ہو اور وہ نعشوں کے انبار میں اپنے بیٹے کے بازو، پاؤں اور انتڑیاں تلاش کررہی ہو، کیا اس کی نظر میں بولٹن مارکیٹ اس کے بیٹے کی نعش سے زيادہ قیمتی ہوگی؟ اور اگر سارے کراچی کی دولت جمع کرلی جائے تو کیا اس ماں کے ایک آنسو کی قیمت اداہوجائے گی، باپ کتنا قیمتی ہوتا ہے ، ماں کی کیا قدر ہوتی ہے اور بچے کتنے انمول ہوتے ہیں اس کا احساس صرف اس شخص کو ہوسکتا ہے جس کا بچہ ، جس کی ماں اور جس کا باپ اس کی نظروں کے سامنے بارود کے ساتھ ہوا میں بکھر گیا ہوا اور اس کے پاس خون کے چند چھینٹوں کے سوا کچھ نہ بچاہو، دنیا کا ہر باپ ذوالفقار علی بھٹو اور ہر ماں بے نظیر بھٹو ہوتی ہے ، آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ان 45 شہیدوں کے گھروں میں جھانک کر دیکھ لیں، آپ کو ہر صحن میں کسی نہ کسی بھٹو اور کسی نہ کسی بے نظیر کی یادوں کی نعش ملے گی اور اس کے سرہانے موت بال کھول کر بین کر رہی ہوگی لیکن ہم صرف دکانوں کا ماتم کررہے ہیں، ان 45 شہیدوں کا وارث کون ہے، ان کا صدر، ان کا وزير داخلہ کہاں ہے ؟ کیا یہ خون کے چند چھینٹے اور گوشت کے چند لوتھڑے تھے کہ دھماکہ ہوا، یہ لوگ اچھلے اور موت انہیں اچک کر فرار ہوگئی ، انہیں زندگی سے اور ہمیں ذمہ داری سے رہائی مل گئی ، کاش ان ماؤں نے بیٹوں کی جگہ دکانوں اور شاپنگ سنٹروں کو جنم دیا ہوتا تو آج کسی کی آنکھ میں ان کے لئے بھی آنسو ہوتے اور اس ملک میں کوئی ان کے لئے بھی افسوس کرتا، کاش ! اے کاش ۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close