مقالہ جات

ولایت فقیہ کے ساتھ ایرانی عوام کا عمیق اور گہرا تعلق

im

تہران کی مرکزی نمازجمعہ آج حجت الاسلام کاظم صدیقی کی امامت میں اداکی گئی جس میں نمازیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی تہران کے خطیب  جمعہ نے نمازکے پہلے خطبے میں نمازیوں کوتقوای الہی اختیاکرنے کی سفارش کرتے ہوئے گناہوں سے دوررہنے کی نصیحت کی ۔حجت الاسلام صدیقی نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی یہ حدیث نقل کی جس میں آپ نے فرمایاکہ تقوای الہی اختیارکرواوردنیا کے خطرات سے دوررہو۔ اورجب بنایہ نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ کے لئے دنیا میں رہیں گے توضروری ہے کہ سفرآخرت کے لئے توشہ جمع کرو جس میں سب سے بہترتوشہ تقوای ہے ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے سرکارسیدالشہداء کے بارےمیں اپنی گفتگوکا آغازکرتے ہوئے کہا کہ امام حسین کے بارے میں خلقت کائنات سے لے

 کراب تک فضائل بیان کئے جارے ہيں انھوں نے کہاکہ حضرت آدم علیہ السلام کوجب اسماء پنجتن کی تعلیم دی جارہی تھی اورجب حضرت آدم نے سرکارسیدالشہداء کا اسم مبارک سناتوان پرایک طرح کا حزن طاری ہونےلگا حضرت آدم نے جبرئیل سے پوچھا کہ حسین علیہ السلام کا نام آتے ہی مجھ پراس طرح کی کیفیت کیوں طاری ہوئی  تواس کے جواب میں جبرئیل نے حضرت آدم کومستقبل میں عاشورہ کے دن پیش آنےوالے حادثے سے باخبرکیا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے عاشورہ کے انقلاب کے اثرات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ہرانقلاب کا اپنا ایک نعرہ ہوتا ہے جیسے صنعتی انقلاب ، مزدوروں کاانقلاب ، یعنی یہ سب  مادی انقلاب تھےمگرامام حسین کا انقلاب ہمہ گیرانقلاب تھا مکمل طورپرایک معنوی انقلاب تھا جس میں مادی دنیا کے اعلی اقدارکی حفاظت بھی کی گئی ۔امام حسین نے جب اپنا انقلاب برپا کیا توان میں کسی بھی طرح کا اضطراب نہيں تھا اسی لئے ان کونفس مطمئنہ کہا گیا ان کا انقلاب دین کا انقلاب تھا عدل وانصاف کی برقراری کے لئے برپاکیا جانے والا انقلاب تھا نیکیوں کورواج دینے والا انقلاب تھا ۔ اس انقلاب میں بشریت نے اس چیزکا مشاہدہ کیا جوکہیں بھی نظرنہيں آتی۔تہران کے خطیب جمعہ حجت الاسلام صدیقی نے کہا کہ انبیاء کرام نے بھی انقلاب کیا مگرجب انبیاء نے انقلاب کیا توان کے سامنے دشمن توتھے مگرمنافقین سے ان کا واسطہ نہيں تھا مگرحضرت امیرالمومنین اوران کے فرزندامام حسن اورامام حسین علیہما السلام کومنافقین کا سامنا تھا چنانچہ جناب امیرنے ان پرلعنت بھی کی ہے ۔تہران کے خطیب جمعہ نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے اصحاب سب کے سب شہادت کے عاشق تھے ۔ امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ امام حسین علیہ السلام کے اصحاب، کیوں اس قدرشہادت کے دیوانے تھے توامام جعفرصادق علیہ السلام نےفرمایا کہ ان کی آنکھوں سے پردے ہٹادئے گئے تھے چنانچہ کربلامیں بچے بچے شہادت کے عاشق تھے تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ جب  جناب جنادہ کا گیارہ سال بیٹا اپنی کمرمیں تلوارحمائل کئے ہوئے جب میدان میں جنگ کے لئے نکلا توامام عالیمقام نے اسے روکا اورفرمایا کہ اے جنادہ کے بیٹے تمہارابابا ابھی بھی شہید ہواہے اوراب تم میدان میں جارہے ہوشاید تہماری ماں کے لئے دوہراغم برداشت کرنا ممکن نہ ہویہ سنتے ہی جنادہ کے بیٹے نے جواب دیا آقاء میری ماں نے ہی مجھے شہادت کا حکم دیا ہے اورکہا ہے امام حسین علیہ السلام تنہاہيں جاؤ ان کی مددکرو۔اسی طرح جب عبداللہ بن حسن جوبہت ہی کمسن تھے جب میدان میں جانے لگے اورامام حسین نے فرمایا کہ بہن زینب اس بچے کوروکوتوعبداللہ ابن حسن نے جواب دیا پھوپھی اماں کیاآپ سمجھتی ہيں کہ میں اپنے عموسے جداہوجاؤں گا ہرگزایسانہيں ہے بلکہ شہادت پاکران کے ہی پاس جاؤں گا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے اصحاب حسینی کے اخلاص کوممتازترین اخلاص قراردیا انھوں نے اسی طرح اصحاب حسینی کی خصوصیت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ہرسن وسال اورہرطبقے سے تعلق رکھنےوالے لوگ وہاں موجودتھے بوڑھے جوان بچے خواتین اوراسی طرح غریب اورامیرہرطبقے سے تعلق رکھنےوالے امام کی خدمت میں موجودتھے  انھوں نے کہا اصحاب حسینی کی مثال اس کے بعد دنیا میں کہيں بھی نہیں ملتی ہاں اگرتھوڑی بہت مماثلت ملتی ہے تووہ ایران کے اسلامی انقلاب میں دیکھنے کو ملتی ہے جس میں ہرطبقے اورہرصنف کے لوگوں نے حصہ لیا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے نمازکے دوسرے خطبے میں اس سال عاشورکے دن تہران میں بعض بے دین عناصر کی طرف سے حرمت عاشورہ کوپائمال کئے جانے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں ایسے لوگوں نے شرکت کی تھی جومست تھے اورشراب پئے ہوئے تھے انھوں نے کہا کہ فتنہ پروروں نے عاشورکے دن حرمت عاشورہ کوپائمال کرنے کے لئےلوگوں کو اجیربنایاتھا جن میں بعض غیرملکی باشندے بھی تھے ۔تہران کے خطیب جمعہ نے ان لوگوں کومخاطب کرتے ہوئے جوانتخابات کے نتائج کی مخالفت کررہے ہيں  کہا کہ کیا آپ لوگ ایسے لوگوں کوجنھوں نے اس طرح سے عاشورہ کی حرمت کوپائمال کیا اپنا حامی کہہ سکتے ہيں جب کہ وہ لوگ آپ لوگوں کی ہی حمایت میں نعرے لگارہے تھے ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ جولوگ آج ایسے عناصرکی سرپرستی کررہے ہيں وہ ماضی ميں انقلاب کے لئے کام کرچکے ہيں مگرآج ان کے اس طرح کے موقف کودیکھ کرافسوس ہوتا ہے تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ اس طرح کے مٹھی بھر عناصرکے بلوؤں سے ایران کے عوام پرکوئي اثرنہيں پڑے گا کیونکہ دین اوراعتقادات اورامیرالمومنین کی ولایت ان کے خون میں بسی ہوئی ہے ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ اسی لئے دس دن قبل بدھ کوہونےوالے ملک گیرجلوسوں میں ایران کے عوام نے کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پرنکل کراپنے دین، اعتقاد، اسلام، امام حسین،  اورنظام وانقلاب نیزولایت فقیہ سے اپنی وفاداری کا بھرپورثبوت پیش کیا اوراسلامی جمہوری نظام کی تاریخ میں ایک اوردرخشاں باب کا اضافہ کیا اوردنیا پرواضح کردیا کہ کوئي بھی طاقت ایرانی عوام کودین سے الگ نہيں کرسکتی ۔ حجت الاسلام صدیقی نے کہا کہ عوام اب اس طرح کے فتنوں اوربلوؤں کوہرگزبرداشت نہيں کریں گے۔ انھوں نے متعلقہ قانونی اداروں سے مطالبہ کیا کہ جتنی جلدی ہوسکے بلوا اورحرمت عاشورہ کوپائمال کرنےوالوں کوسزادینے کے عوام کے مطالبے پرعمل کریں انھوں نے کہاکہ ایران کے عوام ولائی ہيں اوراپنے رہبرکوامام زمانہ کا نائب برحق سمجھتے ہيں تہران کے خطیب جمعہ نے اسی طرح سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے امام جمعہ کی طرف سے عراق کے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی کی شان میں کئی گئی اہانت کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ آیت اللہ سیستانی عراق کے شیعوں کے مرکزکی حیثيت رکھتے ہيں انھوں نے کہاکہ امام خمینی رہ، رہبرانقلاب اسلامی اورآیت اللہ سیستانی کی شان میں کی جانےوالی اہانت کے پیچھے ایک ہی فکرکارفرماہے تہران  کے خطیب جمعہ نے کہا کہ اس طرح کے افراد مرجعیت کی شان میں اہانت کرکے صرف اپنی ہی مٹی خراب کررہے ہيں جبکہ مرجعیت اورشیعیت روزبروزمستحکم ومضبوط ہوتی جارہی ہے.امام جمعہ نے کہا ہے کہ عوام نے حالیہ ریلیوں میں ولایت فقیہ کے ساتھ اپنے عمیق اور گہرے لگاؤ کا ثبوت دیا ہے ۔

 

 

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close