عراق

عراق میں دھماکے امریکہ اوربرطانیہ کی ناکامی کا ثبوت


iraqblast

13.12.2009 عراق میں نئے انتخابی قانون کی منظوری کے بعد گذشتہ روزبغداد میں ایک بارپھر دہشت گردی کی کاروائی ميں بے گناہ شہریوں کا خون بہااوران دھماکوں سے عراق پرامریکہ اوربرطانیہ کی مسلط کردہ جنگ کے مقاصداورزیادہ عیاں ہوتے جارہے ہيں جارج بش اورٹونی بلئرنے جس جنگ کوعراق پرمسلط کی تھی اب اس جنگ کوآگے بڑھانے والے یہ نہيں چاہتے کہ عراق میں ایسے افراد اقتدارمیں رہيں جواغیارکا ایجنٹ بننے کوہرگزتیارنہيں ہيں اورعراق کوآزادی وخودمختاری کی نمعت سے مالامال کریں برطانیہ اورواشنگٹن کی کوشش ہے کہ عراق میں ایسے لوگ مسند اقتدارپرقابض ہوں جوان کے پٹھوبن کرکام کریں نہ کہ عراقی عوام کے نمائندے اورملک کے وفاداربن کر۔  برطانیہ کے اس وقت کے بدنام زمانہ وزیراعظم ٹونی بلئرنے عراق پرحملے کے بارے میں اپنے فیصلے کا انتہائی مضحکہ خیزاندازمیں دفاع کیا ہے اوران کا کہنا ہے کہ چونکہ صدام اسرائیل کے لئےخطرہ تھا اس لئے عراق پرحملہ کیا گیا ٹونی بلئرنے کہاکہ اگرعراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگي کا بہانہ نہ ہوتا توبھی عراق پرحملہ کیا جاتا ٹونی بلئرکے اس طرح کے بیانات سے درحقیقت عراق پرمسلط کی گئی جنگ کے محرکات اوربھی کھل کرسامنے آجاتے ہيں ۔ سابق برطانوی وزیراعظم بہت ہی ڈھٹائی کے ساتھ عراق پرحملے کوایک صحیح اقدام سے تعبیرکررہے ہيں اورعراق پرامریکہ اوربرطانیہ کوایک ضروری جنگ قراردیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لئے صدام جیسے خطرے کونابود کرنا ضروری تھا ۔ یہی نہیں عراق جنگ میں ہونےوالنے جانی نقصانات اورامریکہ اوربرطانیہ کے جرائم ومظالم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے مسخرہ آمیزاندازاپناتے ہوئے ٹونی بلئرنےکہا کہ یہ ممکن نہيں ہے کہ آپ جنگ کریں اورنہ جانیں کہ جنگ کا تاوان ادارکرناہوگا انھوں نے کہا کہ جولوگ جنگ عراق میں مارے گئے ہيں ان کے گھروالوں کواس بات پرفخرکرنا چاہئے کہ ان کے بیٹے اس جنگ میں کام آئے ہيں یہاں پربرطانیہ کے سابق وزیراعظم سے یہ پوچھنا چاہئے کہ کیا عراق میں غاصبوں کے سیاہ کارنامے قابل فخرہيں ؟ کیا ان کے ان حملوں اورسن دوہزارتین سے لے کراب تک عراقی عوام کواس تباہ کن جنگ کا کوئی نتیجہ ملا ہے ؟ ہاں اتنا ضرورہے کہ اس جنگ میں لاکھوں افراد مارے گئے ہيں اورلاکھوں شہری بے گھر ہوئے ہيں نہ معلوم کتنے ہی افراد ہاتھ پیرسے معذوراورآنکھوں کی بینائی سے محروم ہوئے ہيں کتنے ہی بچے یتیم اورکتنے ہی سہاگ اجڑے ہیں ۔ان تمام دلخراش اعدادوشمارکوعراق پرامریکہ اوربرطانیہ کی مسلط کردہ جنگ کا نتیجہ ضرورکہا جاسکتا ہے قابل فخرکارنامہ خون آشام جلادوں کے لئے ہوگا کسی بھی بیدارضمیرانسان اوردل ودماغ میں انسانیت کا ذرابھی احساس رکھنےوالوں کے لئے ہرگزاسے کارنامے کا عنوان نہيں دیا جاسکتا ۔ عراق میں امریکہ اوربرطانیہ نے جوکچھ جرائم اوربھیانک مظالم کا ارتکاب کیا ہے اس پرتوچنگیزاورہلاکواورتاریخ کے انتہائی سفاکوں کی بھی روح شرمندہ ہے کیا ان تمام ترسیاہ اورظلم سے اٹے ہوئے کارنامے کوکوئی باشعورانسان قابل فخرکارنامہ کہہ سکتا ہے ؟کیا برطانیہ کے اس وقت کے جنگ پسند وزیراعظم ٹونی بلئراپنے جنونی فیصلوں کے نتائج کا دفاع صحیح معنوں میں کرسکتے ہيں ؟ اورکیا آج کوئی بھی منصف مزاج انسان ان کے اس طر ح کے بیانات کی تائیدکرسکے گا ؟ہمیں اس بات کوبھی فراموش نہيں کرنا چاہئے کہ ٹونی بلئراوران کے ساتھیوں نے برطانوی انٹلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹوں میں ردوبدل کی تھی اوران رپورٹوں میں اپنی مرضی کے جملے شامل کرکے برطانوی پارلیمنٹ کوعراق جنگ میں برطانیہ کی شمولیت کے لئے آمادہ کیا تھا اورپارلمینٹ سمیت برطانوی رائے عامہ کویہ باورکرایا تھا کہ عراق اس وقت ایک بہت بڑا خطرہ ہے اوریہی وہ حالات تھے جن کے پیش نظربرطانوی پارلیمنٹ نے عراق پرحملہ کرنے کے لئے برطانوی حکومت کواجازت دی تھی ۔ البتہ عراق پرحملہ کرنے کے کچھ ہی دنوں بعد یہ بات سب پرواضح ہوگئی تھی کہ بلئرنے برطانوی اوربش نے امریکی عوام کودھوکہ دیا ہے اورانتہائي سکریٹ رپورٹوں میں ردوبدل کرکے ان دونوں لیڈروں نے کوشش کی کہ اپنے نظریات اورخواہشات دوسروں پرمسلط کریں اب جبکہ ٹونی بلئراقتدارمیں نہيں ہیں توانھوں نے عراق جنگ کے بارے ميں اپنے نئے موقف کا اعلان کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے دفاع میں یہ حملہ کیا تھا اورعراق میں عام تباہی پھیلانےوالے ہتھیاروں کی بات نہ ہوتی توبھی اس پرحملہ کیا جاتا ٹونی بلئرکا یہ بیان ایک نئے نکتے کی وضاحت کرتا ہے جوعراق کی دوجنگوں کی طرف پلٹتا ہے اوروہ یہ کہ مشرق ومغرب نے ایران پرجنگ مسلط کرنے کے لئے صدام کواکسایا تھا اوراس کے لئے انھوں نے صدام کوبھاری اورجدیدترین اسلحوں سے لیس کیا تھا تاکہ وہ اس طرح اپنی جنگی مشینریوں کے ذریعہ اسلامی انقلاب کوجونیا نیا رونماہواتھا نابود کردیں البتہ صدام نے ایران پرمسلط کی گئی جنگ میں اپنا سب کچھ داؤں پرلگادیالیکن یہ جنگ نہ توصدام کی حسب خواہش تمام ہوئی اورنہ ہی اس کے آقاؤں کی مرادپوری کرسکی اوریہی وجہ تھی کہ اب صدام کے آقاؤں نے صدام کودئے گئے اپنے تمام مہلک اورعام تباہی پھیلانےوالے ہتھیاروں کواس سے واپس لینے کا پروگرام بنایا ۔برطانیہ کے سابق وزیراعظم نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات کا اعتراف کیا کہ عراق میں عام تباہی پھیلانےوالے ہتھیاروں کی موجودگی اس ملک پرجنگ مسلط کرنے کا ایک بہانہ تھی اوراس کا اصلی مقصدعراق کی جنگی مشینریوں کویکسرتباہ کردینا تھا جومغربی ملکوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کا مقابلہ کرنے کے لئے صدام کودئے تھے ۔ یہ باتیں درحقیقیت ایسے پوشیدہ رازواسرارہیں کہ جن کے بغیرایران پرمسلط کی گئی آٹھ سالہ جنگ کا باب نامکمل رہ جاتا ہے دراصل ایسا لگتا ہے کہ ان سامراجی طاقتوں نے جنھوں نے صدام کوایران پرجنگ مسلط کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی آٹھ سالہ جنگ کے بعد بھی صدام کوایک اورموقع دینا چاہتی تھیں کہ وہ دوبارہ ایران پرجنگ مسلط کرے مگرجب انھوں نے دیکھا کہ صدام اب ایران پردوبارہ جنگ مسلط کرنے کی توانائی نہیں رکھتا توانھوں نے صدام کودئے گئے اپنے اسلحوں کوواپس لینے کا بہانہ تلاش کرنا شروع کردیا تاکہ کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ اسلحے صدام کے مخالف گروہوں کے ہاتھ لگ جائیں اورپھریہی اسلحے صہیونی حکومت کے لئے خطرہ بن جائیں آئیے ایک بارپھر سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئرکے اعتراف کا جائزہ لیتے ہيں وہ عراق میں اپنی تمام ترسیاہ کاریوں اورتباہ کاریوں کے باوجود بھی عراق جنگ کوایک قابل فخرکارنامہ قراردیتے ہيں اوروہ اس جنگ کوواحد صحیح طریقہ قراردیتے ہيں ۔آج اگرچہ صدام کا باب بند ہوچکا ہے مگراس کے ماضي کے ساتھی عراقی حکومت میں اپنا اثرورسوخ باقی رکھنے کے لئے بعث پارٹی کے باقی بچے عناصراوردہشت گردوں کوسامراج کے ہی پروردہ ہيں اورجن میں القاعدہ کا نام لیا جاسکتا ہے استعمال کررہے ہيں وہ اس بات کوجانتے ہيں کہ عراق کے پرامن ماحول میں وہ اپنے مہرنہيں بیٹھا سکتے اوراگرعراق ميں امن وامان کوخراب کرنا اورجمہوریت وسیاسی عمل کوسب وتاژکرکے اپنے مقاصدحاصل کئے جاسکتے ہیں تووہ صرف دہشت گردوں کواستعمال کرکے ہی ممکن ہے ۔ مگرشایداب ان سامراجی طاقتوں کویہ معلوم نہیں کہ عراق کے عوام پوری طرح ہوشیارہيں اورگذشتہ چھ برسوں نے انھوں نے اپنے عزیزوں کی جوقربانیاں دی ہیں وہ اس لئے نہيں کہ تسلط پسند طاقتیں ان پردوبارہ مسلط ہوجائیں ۔ آج عراق کا بچہ بچہ ایک آزادوخودمختارعراق تعمیرکرنے لئے پرعزم ہے اوراس کے لئے وہ اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے کوبھی تیاررہتا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close