عراق

ظلم کا انجام؛ کیمیکل علی کو پھانسی دے دی گئی

shiite-chemicalali

عراق کے ڈکٹیٹر صدام حسین کے قریبی ساتھی کیمیکل علی کو پھانسی دے دی گئی ۔ عراقی شہر حلبچے کے کرد باشندوں کے خلاف کیمکل بمباری کرنے والے اس سفاک قاتل کو تختۃ دار پر لٹکادیا گیا کہ جسں نے صدام کے خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہزاروں معصوم بچوں اور خواتیں کو پلک جھپکنے میں موت کی نیند سلادیا تھا ۔ بے گناہ انسانوں کو کیمیاوی بمباری کرنے کے بنا پر اسکانام علی شیمیائی (کیمیکل) پڑ گیا تھااور عراقی عوام اس سفاک فوجی جنرل کو اسی نام سے پکار تھے  کیمیکل علی کوچند دن قبل  جنگی جرائم کے چوتھے

مقدمے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی کیمیکل علی کو پہلی بار جون 2007 میں کردوں کے شہر "حلبچہ” پر کیمیاوی ہتھیاروں کے حملے اور 5000 کرد باشندوں کے قتل عام کا جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ دو دیگر مقدموں میں بھی اس کو دو بار پھانسی کی سزا سنائی گئی. کیمیکل علی نے 1991 کی جنگ کے بعد اہل تشیع کے عمومی قیام کو کچل کر ہزاروں شیعہ باشندوں کا قتل عام کیا تھا اور عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اس کو دوسری بار پھانسی کی سزا سنائی. کیمیکل نے 1999 کو بھی ہزاروں شیعہ باشندوں کا قتل عام کیا اور ہزاروں دیگر کو خانہ و کاشانہ چھوڑنے پر مجبور کیا اور عدالت نے یہ جرم ثابت ہونے پر اس کو تیسری باری پھانسی کی سزا سنائی. کیمیکل کو گذشتہ ہفتے کی سماعت کے دوران چوتھی بار سزائے موت کا حکم سنایا گیا. یاد رہے کہ کیمیکل علی کو 2007 میں موت کی سزا سنائی گئی تو اس کی پھانسی کے حکم پر صدر طالبانی، نائب صدر اول "عادل عبدالمہدی” اور "طارق الہاشمی” نے دستخط بھی کئے اور اس کو تختہ دار تک بھی لے جایا گیا جہاں حکومت ہائے عراق و امریکہ کے نمائندے بھی نگرانی کے لئے موجود تھے مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے جیل واپس لے جایا گیا اور سزا میں دوسال سے  زائد عرصے تک تأخیر ہوئی.کیمیکل علی کون تھا؟ «علی حسن المجید» 1944 کو صدام کے آبائی شہر "تکریت” میں پیدا ہوا. وہ صدام کا چچا زاد بھائی تھا چنانچہ اس نے فوج میں ترقی کے مدارج تیزی سے  طے کئے اور صدام کی آمریت کے دوران وہ حکومت بعث کا اصلی ترین کردار بن گیا. کیمیکل ایک عرصے تک عراق کا وزیر دفاع تھا؛ وہ انقلابی کمانڈ کونسل کے رکن کی حیثیت سے  صدام کے دور کے اہم فیصلوں میں شریک رہا اور صدام کے ظلم و ستم کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں اٹھنے والی آوازیں دبانے اور تحریکیں کچلنے پر مأمور تھا. کیمیکل علی کو صدام کا سنگدل ترین ساتھی بھی کہا جاتا ہے جو صدامی آمریت کی بقاء کے لئے ہر جرم و ظلم کے ارتکاب کے لئے تیار رہتا تھا. اور کردوں کی آبادیوں پر کئی بار کیمیاوی حملوں کی بنا پر "علی الکیمیاوی = کیمیکل علی” کے لقب سے  مشہور ہوا. عراق پر امریکی قبضہ ہونے کے بعد ایک آڈیو کیسٹ بھی عراقی سیکورٹی فورسز کے ہاتھ لگی جس میں کیمیکل نے کردوں کے قتل عام کے بارے میں کہا تھا: "میں ان کو کیمیکل ہتھیاروں کے ذریعے نیست و نابود کروں گا؛ کس کو اعتراض ہے؟ بین الاقوامی برادری کو؟ میں بین الاقوامی برادری کے سر پر [….] کرتا ہوں اور ان سب لوگوں پر سر پر بھی جو بین الاقومی برادری کے اعتراضات کو اہمیت دیتے ہیں! میں انہیں ایک ہی روز نہیں بلکہ پندرہ روز تک مسلسل کیمیاوی بموں کا نشانہ بناؤں گا”.کیمیکل علی ـ عراق پر مغربی قابضین کے قبضے کے بعد ـ امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوا . سفاک کیمیکل علی آخرکار اپنے اعمال کے انجام کو پہنچا، اسے چار بار پھانسی کی سزا سنائی گئی اور آج (25 جنوری 2010) کو پھانسی کی تختے پر لے جایا گیا. یہی ہے ظالموں کا انجام فاعتبروا یا اولی الابصار  

 

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close