کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
عراق

عراق میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے پیچھے کون؟

shiite_iraqبغداد کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے میں اب تک چون زائرین شہیدہوچکے ہیں جواربعین حسینی میں شرکت کے لئے کربلائے معلی جارہے تھے ۔ اس واقعہ کی اقوام متحدہ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں نے مذمت کی ہے اوراسے بزدلانہ کاروائی سے تعبیرکیا ہے ۔اس میں شک نہيں کہ اس وقت جب عراق میں عام انتخابات کی تیاریاں اپنے عروج پرہيں اس طرح کی کاروائیوں کامقصد عراق کے سیاسی عمل پراثراندازہونا ہے جوعراقی حکومت کے مخالفین کے ذریعہ انجام دی جارہی ہيں ۔

 قابل غورنکتہ یہ ہے کہ بعض امریکی حکام نے بھی پیشین گوئی کی ہے کہ عراق میں عام انتخابات کی تاریخ قریب آنے پرملک میں بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہوگا ۔ اس میں دورائے نہیں کہ ملک کے اندرعوام دشمن عناصر اورعراقی عوام کی دشمن غیرملکی طاقتیں اس کوشش میں ہيں کہ عام انتخابات تک جتنا بھی وقت بچا ہے اس میں اپنے اس طرح کے اقدامات کے ذریعہ عراقی حکومت پراپنے مطالبات مسلط کرادیں ۔ عراق کے سیاسی ڈھانچے کوخراب کرنا یادوسرے لفظوں میں موجودہ حکومت کے سٹ اپ کوسب وتاژکرنا ایک ایسا موضوع ہے جس پرامریکہ اورعلاقے کی بعض عرب حکومتيں ایک عرصے سے کام کررہی ہیں اوروہ اس کام کے لئے ہرطرح کے اقدامات کا سہارالے رہی ہيں ۔ اس وقت امریکہ عرب حکومتوں اورعراق کے اندربعض سیاسی دھڑوں کے تکون نے اپنی ساری کوششیں اس امرپرمرکوزکررکھی ہيں کہ جیسے بھی ہوعراق کے سیاسی دھارےمیں کالعدم بعث پارٹی کودوبارہ شامل کرایا جائے ۔ جبکہ انتخابات میں شرکت کے لئے بعث پارٹی کے عناصرکونااہل قراردئے جانے کا سلسلہ جاری ہے بنابریں ایسانہيں لگتا کہ عراق میں دہشت گردی کے واقعات کوہوادے کرعراقی عوام کی دشمن طاقتيں اپنے مطالبات عراقی حکومت سے منواسکيں گی کیونکہ اب عراق نے نئی سیاسی زندگی شروع کرنے کا تہیہ کرلیا ہے ۔ عراقی حکام اورخاص طورپروزیراعظم نوری مالکی نے حالیہ دنوں میں ایک بارپھر اپنے ملک کے  عوام سے اس بات عہد کیا ہے کہ وہ بعث پارٹی کوملک کے قانون کے مطابق کسی بھی صورت میں دوبارہ سیاسی طورپرزندہ نہيں ہونے دیں گے اس کے علاوہ انھوں نے بارہا ان طاقتوں کوخبردارکیا ہے جوعراق کے داخلی امورمیں مداخلت کررہی ہيں ۔

 

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close