عراق

عراقی پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والے سیاسی اتحادوں اور انتخابی سرگرمیوں سے متعلق شیعیت نیوز کی خصوصی رپورٹ

shiite_news_iraq_election2010

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے لیے سیاسی اتحادوں کی سرگرمیاں گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ روز بہ روز شدت اختیار کرتی جارہی ہیں ، انتخابات میں حصہ لینے والے تمام سیاسی جماعتیں اور پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کیلے تشکیل پانے والے سیاسی الائنس کی جانب سے عوامی آرا کے حصول کیلے تبلیغاتی مہم عروج پر پہنچ گئی ہے اور ہر امیدوار ووٹ کیلے نت نئے سیاسی نعروں اور وعدوں سے عوامی رائے کو تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ، شیعیت نیوز کے نمائندے کی عراقی پارلیمانی انتخابات سے متعلق خصوصی رپورٹ کے مطابق عراق میں اتوار 7 مارچ کو ہونے والے انتخابات میں ملک بھر سے ایک کروڑ نوے لاکھ رائے دہندگان اپنے من پسند امیدواروں کا چناو کیلے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ، انتخابات میں ملک بھر سے چھ ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں ، عراقی الیکشن کمیشن نے اتوار کو ہونے والے انتخابات کیلے ملک بھر میں گیارہ ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں جہاں تقریبا 52 ہزار سے زائد بیلٹ باکس رکھے جائیں گے ، عراق میں آمر صدام کی بعثی حکومت کی تنزلی کے بعد یہ دوسرے پارلیمانی انتخابات ہیں جس کی کوریج کیلے عراق اور دنیا بھر سے 800 سے زائد صحافی بغداد پہنچ گئے ہیں ،

عراقی انتخابات میں حصہ لینے والے سیاسی اتحاد

حکومت قانون الائنس

شیعیت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق عراقی انتخابات میں حصہ لینے والے اہم ترین سیاسی الائنس میں سرفہرست موجودہ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کا سیاسی اتحاد ـــــ حکومت قانون الائنس ہے جو اس انتخابات میںانتخاباتی شمارہ 327 سے حصہ لے رہا ہے ، عراقی سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کا سیاسی اتحاد عراقی انتخابات میں قوی ترین اتحاد سمجھا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ حالیہ انتخابات میں یہ الائنس ریکارڈ توڑ رائے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا ، یہ الائنس عراق کی 34سیاسی مختلف جماعتوں پر مشتمل ہے جن میں اہم ترین سیاسی جماعت حزب الدعوہ، فہرست المستقلون، الوطنیہ کے علاوہ عراقی سنی لیڈر، شعیہ کرد ، مسیحی برادری اور بعض مستقل حیثیت کے حامل سیاستدان شامل ہیں ، الائنس میں اہم ترین شخصیات میں نور المالکی ، علی الادیب ، حسین الشہرستانی، جعفر الصدر ا ور علی الدباغ شامل ہیں ،اس سیاسی اتحاد نے موجودہ انتخابات کیلے اپنے منشور میں عراقی وحدت کی حفاظت ، اقوامی متحدہ ساتویں شق کا خاتمہ ، قومی اور مستحکم مرکزی حکومت کا قیام ، قانونی حکومت کی تشکیل اور قانون کی حکمرانی کے علاوہ سابقہ بعثی حکومت اور اس دور میں ہونے والی مالی بدعنوانیوں کا محاسبہ شامل ہے ،

عراق نیشنل الائنس عراق نیشنل الائنس گزشتہ دور حکومت میں وحدت عراقی الائنس کے نام سے اسمبلی میں فعال رہا ہے اور یہ الائنس عراقی شیعہ برادری کا سب سے بڑا سیاسی الائنس سمجھا جاتا ہے ، سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق عراقی پارلیمانی انتخابات میں اصل معرکہ موجودہ حکومتی الائنس اور عراق نیشنل الائنس کے مابین ہوگا ، عراق نیشنل الائنس کیلے الیکشن کمیشن نے انتخاباتی شمارہ 316 جاری کیا ہے جس سے یہ الائنس انتخابات میں حصہ لے گا ، عراق نیشنل الائنس میں عراق کی 30 سے زائد شیعہ جماعتیں شامل ہیں جن میں اہم ترین سید عمار الحکیم کی قیادت میں مجلس اعلی اسلامی ،مقتدیٰ لصدر کی مہدی ملیشیا، ابراہیم جعفری کی اصلاح ملی ،احمد شلبی کی نیشنل کانگریس اور حزب فضیلۃ اسلامی ہیں ،

کردستان الائنس کردستان الائنس کو عراقی کرد علاقوں کی 13 سیاسی جماعتوں نے تشکیل دیا ہے اور اس کی قیادت کرد کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین جن میں جلال طالبانی کی جماعت اتحادیہ میھنی اور مسعود بارزانی کی حزب ڈیموکریٹس شامل ہیں ، عراقی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کردستان الائنس اس بار بھی اس مختلف شیعہ گروپ اور تنظیموں سے اچھے روابط کی بنیاد پر ایک مرتبہ پھر عراقی صدارت کے حصول کا امیدوار ہے ، الائنس کے رہنما مسعود بارزانی نے یہ اعلان کیاہے کہ جلال طالبانی موجودہ عراقی صدر ایک مرتبہ پھر اس سیاسی اتحاد کی جانب سے عراق کی صدارت کیلے امیدوار ہوں گے ،سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ کردستان الائنس اس بار ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں چارماہ قبل کرد ستان کے علاقائی انتخابات کی طرح کم ووٹ حاصل کرے گا ، کردستان اسلامک موومنٹ واحد اسلامی جماعت ہے جو اس الائنس سے جس کا انتخاباتی شمارہ 372 ہے ان انتخابات میں شرکت کرے گی ،

العراقیہ۔ یہ فہرست سابق عراقی وزیر اعظم ایاد علاوی کی سربراہی میں 20 سے زائد سیاسی تنظیموں اور گروہوں پر مشتمل ہے جن میں سرفہرست اہم ترین گروہ طارق الھاشمی کی تنظیم تجدد ، صالح المطلک کی تنظیم نیشنل ٹاک ، عجیل یاور کی تنظیم اصلاحات و عدالت موومنٹ ہیں، سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراق کا یہ سیاسی اتحاد انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی دو بڑی سیاسی شخصیات صالح المطلک اور ظافر العانی کی کنارہ کشی کے بعد شدید اختلافات کا شکار ہوگیا ہے ، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اتحاد میں سابق بعثی حکومت کے افکار کی ترویج اختلاف کا باعث بنی ہے ، عراقی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اتحاد کو سعودی عرب کی مالی حمایت حاصل ہے اور اس کا انتخاباتی شمارہ 333 ہے ، اس اتحاد کے سرکردہ رہنما سابق وزیر اعظم ایاد علاوی انتخابات سے چند روز قبل سعودی عرب اورمصر سمیت خطے کے اہم عرب ممالک کا دورہ کیا ہے ، ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب خصوصا ریاض میں ہونے والی سعودی اہم ملاقاتوں میں ایاد علاوی کو عراقی انتخابات میں کامیابی کیلے باقاعدہ خطیر رقم مالی معاونت کے طور پر دی گئی ہے تاکہ عراقی انتخابات میں شرکت کرنے والا یہ اتحاد مالی مدد سے انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوسکے ، بعض سعودی ذرائع نے ایاد علاوی کی عبداللہ بن عبدالعزیز سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اس ملاقات میں ایاد علاوی نے سعودی عرب کی جانب سے ملنے والے مالی امداد کے عوض سعودی حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عراق میں ہونےو الے انتخابات میں شیعہ اتحادوں اور جماعتوں کو بھرپور کوشش کرکے کامیابی سے روکے گا اور عراق کے وسطی اور جنوبی شہریوں کو شیعہ مراجعین اور شیعہ جماعتوں کی حمایت سے دور رکھے گا ، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ملاقات میں سعودی بادشاہ ملک عبداللہ نے ایاد علاوی سے کہا ہے کہ ہم عراق میں شیعہ حکومت نہیں دیکھنا چاہتے اور یہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب کوعراق کی شیعہ حکومت کے سایہ تلے ہونا پڑے اور اس شیعہ حکومت سے ہمیں خطرہ ہو ، لہذا ہماری تمام حمایتیں آپ کے ساتھ ہیں اور ہم نے اپنے دوست امریکا پر واضح کردیا ہے کہ عراق کو شیعہ حاکمیت سے نجات دینے کیلے ہمیں عراق میں غیر کنٹرول جمہوریت نہیں چاہیے وہاں آمر کو مسلط کردیا جائے ،ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ملاقات کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سعودی حکمرانوں نے ایاد علاوی کو کہا ہے کہ عراقی پارلیمانی انتخابات میں لبرل قوتوں کی کامیابی کیلے کئی ارب ڈالرز کا بجٹ بھی خرچ ہوتو کیا جاسکتا ہے اور اگر انتخابات میں اس حکمت عملی پر کامیاب نہ ہوسکے تو دوسری حکمت عملی یعنی مارشل لا کے نفاذ کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہ جائے گا ،

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت اور خطے کی دوسری ریاستیں اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ عراقی عوام کو شفاف، قانونی اور سیاسی عمل سے دور رکھا جاسکے تاکہ عرب عوام کے دباؤ سے بچا جاسکے جو کہ عراق کہ کامیاب پارلیمانی نظام کے بعد اپنے ھاں قائم بادشاہی حکومتوں سے عراق کی طرذ ہر جمہوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کر سکتے ہیں

متحدہ عراق الائنس۔

عراق یونٹی الائنس عراقی وزیر داخلہ جواد بولانی ، احمد ابور یشہ بیداری ملٹنٹ فورس کے سربراہ اور اوقاف اہلسنت کے اشتراک سمیت 38 مختلف سیاسی جماعتوں سے تشکیل پایا ہے ، تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا سیاسی اتحاد ہے تاہم موجودہ انتخابات کیلے اس اتحاد نے عراق کے شہر میں زبردست انتخابی مہم چلائی ہے اور عراقی صدارت کے امیدوار ہیں ، اس اتحادکو عراقی الیکشن کمیشن نے انتخاباتی شمارہ348 الاٹ کیا ہے ،

عراقی اتحاد۔ یہ محاذعراق کی اہلسنت برادی کا سب سے بڑا محاذ ہے جو اسامہ تکریتی کی جماعت حزب اسلامی عراق سمیت 4 مختلف جماعتوں سے تشکیل پایا ہے ، سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اہلسنت برادی کا یہ اتحاد عراقی اہلسنت کے اکثریتی ووٹ لینے میں کامیاب ہوجائے گا اورماضی کی طرح پارلیمنٹ میں اس اتحاد کے کچھ نمائندے منتخب ہوکر آجائیں گے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close