عراق

امریکی وسعودی حمایت یافتہ علاوی نے خانہ جنگي کی دھمکی دیدی

shiite_ayad_allawi-268x300عراق کی موجودہ سیاسی صورت حال ایک حساس مرحلے ميں پہنچ گئی ہے۔ اس وقت نوری مالکی کی حکومت کی مدت کے ختم ہونے اوراسی طرح عراق میں ایک نئی حکومت کے براسراقتدار آنے کی اہمیت عراق کے گذشتہ حساس حالات سے اگرزیادہ نہيں ہے تویقینی طورپرکم بھی نہيں ہے ۔تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ سابق وزیرا‏عظم ایادعلاوی کے دھڑے العراقیہ نے جسے سعودی عرب اورامریکہ کی بھرپورحمایت حاصل ہے اس نے اپنے حریف شیعہ گروہوں کودھمکی دی ہے

 کہ اگراسے حکومت بنانے کا موقع نہ ملا تووہ ملک ميں خانہ جنگی شروع کردے گا  ۔ العراقیہ کی طرف سے یہ دھمکی ایک ایسے وقت آئی ہے جب نوری مالکی، عمارحکیم اورجلال طالبانی کے حمایت یافتہ سنی دھڑوں نے ایک متحدہ حکومت بنانے پر تقریبا اتفاق کرلیا ہے ۔عراق میں انتخابات گذشتہ سات مارچ کوہوئے تھے اورانتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ملک میں ایک نئي سیاسی تصویرابھر کرسامنے آئي ہے ۔ پچھلے کئي مہینوں سے جاری انتخابی معرکہ آرائيوں کے بعد عراق میں اس وقت ہرسیاسی جماعت کی پوزیشن واضح ہوگئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگزنہيں ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہےاورحالات معمول پرآگئے ہيں ۔ عراق کے بعض گروہوں کی طرف سے ملک  کے اقتدار پرہرحال میں قبضہ کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ غیرملکی طاقتیں بھی ماضي کی طرح اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے سرتوڑکوششیں کررہی ہيں اوران کی کوشش ہے کہ اس ملک میں اپنے ناجائزمفادات جیسے بھی ہوں حاصل کریں ۔ ان غیرملکی طاقتوں میں خاص طورپرسعودی عرب اورامریکہ کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔عراق کے حالیہ انتخابات خاص حالات میں منعقد ہوئے جن کے دوران امریکہ اورسعودی عرب نیزعلاقے کی بعض ديگرعرب حکومتوں کوماضي کے مقابلےمیں زیادہ اپنا کردار اداکرنے کا موقع مل گیا ۔ ان حکومتوں نے زیادہ سے زیادہ کوشش اس بات کی کہ موقع سے بھرپورفائدہ اٹھا کرعراق ميں اپنے منصوبوں کوعملی جامہ پہنانے کا راستہ پوری طرح ہموار کیا جائے اوریوں اپنے مقاصد بھی حاصل کرسکيں ۔ان ملکوں کی یہ بھی کوشش ہے کہ وہ عراق کے سیاسی دھارے کوپوری طرح  اپنے حق میں موڑدیں ۔ شیعہ مسلمانوں کے اتحاد میں اختلاف ڈالنا جس نے گذشتہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں بیرونی طاقتوں کے منصوبوں کا ایک بڑا حصہ تھا تاکہ عراق میں قابض قوتيں اورعلاقے کی عرب حکومتیں اپنے مقاصد آسانی سے حاصل کرسکيں ۔ غاصب امریکی قوتوں نے عراق کے انتخابات سے مہینوں قبل سے اس بات کا منصوبہ تیار کرلیا تھاکہ ایسا کام کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت اورملک کی باگ ڈورجیسے بھی ہو شیعہ مسلمانوں کے ہاتھوں سےجن کی عراق میں واضح اکثریت ہے نکل جائے ۔  امریکیوں نے کوشش کی کہ شیعہ جماعتوں کواس طرح سے کمزورکردیا جائے کہ وہ مکمل طورپردفاعی پوزیشن میں آجائيں ۔اس کےعلاوہ عراق کے گذشتہ انتخابات سے پہلے اورخود انتخابات کے دوران پرتشدد اوردہشت گردانہ واقعات میں شدت لانے کا مقصدبھی یہی تھا کہ نوری مالکی کی حکومت کونا اہل قراردیا جائے اوربعثیوں کوحکومتی ڈھانچوں میں شراکت دلانے کے شیطنت آمیزمنصوبوں کوعملی بنایاجائے۔ بعثیوں کوحکومتی ڈھانچے میں شراکت دلانے کے لئے توامریکیوں نے نوری مالکی کی حکومت کودھمکی تک دے ڈالی تھی۔ امریکہ اورعلاقے کی بعض عرب حکومتوں کی یہ بزدلانہ اورناپاک سازشیں عراقی عوام کی استقامت اورپائمردی نیزبعثیوں کے تئيں ان کی نفرت وبیزاری کے سبب ناکام رہیں اورانھیں پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہيں ملی۔ مگرالعراقیہ کے بینرتلے کچھ ایسے عناصر ضرورحالیہ انتخابات میں شرکت کرکے پارلیمنٹ کی نشستیں حاصل کرنے میں بظاہرکامیاب رہے جن کی بعثیوں کے ساتھ وفاداری بہرحال لوگوں پرثابت ہے یا جن کی بعثیوں نے حمایت کی ہے ۔اس پوری صورت حال میں امریکہ اورعلاقے کی بعض مداخلت پسند حکومتيں بدستور شیعہ مسلمانوں کو جنہیں صوبہ کردستان کے اہلسنت عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے حکومت کے ایوانوں تک پہنچنے سے روکنےمیں کوشاں ہيں جواپنے ملک کی آزادی وخودمختاری چاہتے ہيں اورجن کا نعرہ ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے قابض قوتوں کوعراق سے نکل جانا چاہئے ۔ اس دوران ان حکومتوں کے ذرائع ابلاغ نے بھی جن میں سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ سب سے پیش پیش ہيں عراقی  شیعوں اور ان سے وابستہ سیاسی گروہوں کے خلاف زہریلے پروپیگنڈوں کا بازار اتنا گرم کررکھا تھا  کہ وہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہيں لےرہا ہے لیکن ان تمام باتوں اورسعودی عرب وامریکہ کی طرف سے بے پناہ دولت خرچ کئے جانے کے بعد بھی عراقی انتخابات کے نتائج ویسے نہيں نکلے جیسا کہ غیرملکی اورعراقی عوام کی دشمن طاقتيں چاہتی تھیں ۔اگرچہ امریکہ اورسعودی عرب کے حمایت یافتہ العراقیہ اتحاد نے نوری مالکی کے اتحاد کے مقابلے میں نسبی برتری حاصل کرلی ہے یعنی اسے دوسیٹیں زیادہ مل گئي ہيں لیکن جوچیزحقیقت میں معرض وجود میں آئی ہے وہ شیعہ مسلمانوں کی ایک بار پھر شاندار کامیابی ہے انتخابات میں امریکہ اورسعودی عرب کے حمایت یافتہ اتحاد العراقیہ کواکانوے نوری مالکی کے اتحاد اوراسی طرح عمارحکیم کے اتحاد کوملاکرایک سوساٹھ نشستیں ملیں۔ جب ہم اس نتیجہ پرنظرڈالتے ہيں تومعلوم ہوجاتا ہے کہ ہرصورت میں گیند شیعیوں کے ہی پالے میں ہے اوررہے گی اگرچہ ایادعلاوی سب سے بڑے اتحاد کے طورپرابھرنےوالے العراقیہ کوہی حکومت سازی کے لئے دعوت ملنے کی مانگ کررہے ہيں لیکن حکومت سازی کے لئے وہ اسی وقت کامیاب ہوسکیں گے جب تین سوپچیس نشستوں  کے ایوان میں ان کے پاس ایک سوساٹھ سے زائد ممبران کی حمایت حاصل ہو دوسری طرف نوری مالکی اورعمارحکیم کے اتحادوں کے پاس ایک سوساٹھ نشستيں پہلے سے ہی موجود ہيں اس لئے ان کے پاس حکومت بنانے کا امکان سب سے زیادہ ہے اوراس صورت میں ایاد  علاوی کے لئے حکومت سازی کے سارے امکانات معدوم ہوجائيں گے اوریہی وہ مسئلہ ہے جس کے پیش نظرایادعلاوی نے انتہائي جھنجھلاہٹ کے عالم میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ملک میں خانہ جنگي شروع ہوسکتی ہے ۔ ملک میں خانہ جنگی چھیڑنے پرمبنی ایاد علاوی کے بیانات، سب سے پہلے مرحلےمیں مخالف گروہوں سے رعایتيں وصول کرنے کی ناکام کوشش ہے دوسرے یہ کہ ایاد علاوی کے دھمکی آمیزبیانات میں جوبات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ بالواسطہ طورپرعراق میں ہونےوالے دہشت گردانہ حملوں اوربم دھماکوں میں جوبعض عرب حکومتوں کے ایجنٹوں کےذریعہ ہوتے ہيں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہیں اورتیسرا نکتہ یہ ہے کہ مغربی ممالک خاص طورپرامریکہ جوجمہوریت کے قیام کا دعوی اورعراق میں قانون کے نفاذ پرزوردیتا ہے ایاد علاوی کے اس طرح کے خلاف قانون اورغنڈہ گردی پرمبنی بیانات پرنہ صرف یہ کہ کسی ردعمل کا اظہارنہيں کررہا ہے بلکہ وہ خاموشی اختیا رکرکے ایاد علاوی کے اس طرح کے بیانات اوردہشت گردوں کے اقدامات کی حمایت بھی کررہا ہے۔واضح رہے کہ سابق بعثی لیڈر ایادعلاوی مسلکی اعتبار سے شیعہ ہیں تا ہم صدام سے اپنی ماضي کی وابستگی اور امریکہ نوازي کی بناپر انہیں عراقی شیعہ عوام میں وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی جسکا امریکہ خواہاں تھا دوسری جانب کردستان کے اہلسنت عوام کے قتل عام میں بعث پارٹی کے کردار کی بناپر کردستان کے عوام بھی ایادعلاوی سے راضي نہیں ہیں ۔البتہ جب تک کردستان کے اہلسنت اور شیعہ اکثریتی جماعتوں میں اتحاد و مفاہمت رہے گی، امریکہ نوازي میں پیش پیش العراقیہ دھڑا اور صدام کے باقیات سے عراق کے سیاسی میدان میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دینے کی پوزیشن متصور نہیں ۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close