عراق

سعودی حکومت کثرتِ مذاہب کو تسلیم کرے

shiite_saudi_shiaسعودی عرب کے شیعہ اکثریتی شہر العوامیہ کے امام جمعہ شیخ عباس السعید نے سعودی حکومت سے مطالبتہ کیا ہے کہ سعودی عرب کی حدود میں “کثرتِ مذاہب” نامی حقیقت کو تسلیم کرے۔

شیعہ اکثریتی شہر “العوامیۃ” کے امام جمعہ شیخ عباس السعید نے سعودی حکمرانوں کو اس ملک میں تعدد مذاہب کی حقیقت کو تسلیم کرنے کی دعوت دے۔ رسا نیوز کے مطابق انھوں نے العوامیہ شہر میں شیعیان اہل بیت (ع) کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے

 حکومت کو کثرت مذاہب کو تسلیم کرنے کی دعوت دی اورکہا: ثقافتی تعامل و تہذیبی تبادلوں اور معاشرتی تعلقات کے سائے میں مذاہب کی کثرت ایک فطری امر ہے اور اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنا ملک میں اختلافات اور بحرانوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

 

انھوں نے مساجد کی بندش اور الخُبَر شہر کے متعدد شیعہ باشندوں کی گرفتاری پر شدید تنقید کی اورکہا: الخبر شہر کے شیعہ باشندوں کے خلاف ہونے والے اقدامات، وہاں کے باشندوں کی گرفتاریاں، مساجد کی بندش اور ان پر شدید دباؤ ڈالنے کے نتیجے میں تقریب و اتحاد مذاہب کی طرف جانے والے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں اور عالم اسلام کی سطح پر مذاہب کے درمیان اختلافات وسیع سے وسیع تر ہوجاتے ہیں۔

شیخ عباس السعید نے کہا: سعودی عرب کی حکومت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس ملک میں اہل سنت کے علاوہ اہل تشیع اور دوسرے مذاہب کے پیروکار بھی رہتے ہیں؛ ماننا پڑے گا کہ ثقافتی و علمی و تعلیمی آزادیاں دینے سے معاشرے میں تنگ نظریاں اور انتہاپسندیاں کم سے کم ہوتی جائیں گی اور معاشرتی یکجہتی اور یگانت مستحکم سے مستحکم تر ہوتی جائے گی۔

العوامیہ کے امام جمعہ نے کہا: ملک کے باشندوں کے درمیان عدل و مساوات کا قیام مذاہب کے درمیان تقریب و اتحاد کی رفتار تیز ہوجائے گی اور اگر مذہبی امتیازات کو شدت بخشی جائے تو ملک میں فرقہ وارانہ اختلافات کی آگ بھڑکنا شروع ہوجائے گی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close