کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
مقالہ جات

سلام ہو ہمارا شہدائے عاشور پر ۔سلام ہو ہمارا ان جوان بیٹوں کی ماؤں پر جو روز عاشور شہید کر دئیے گئے

shiite-2

مجتبیٰ حیدر سلام ہو ہمارا ان جوان بیٹوں کی ماؤں پر جو روز عاشور شہید کر دئیے گئے لیکن ان کی ماؤں نے اپنی آنکھوں سے ایک قطرہ بھی آنسو نہیں گرایا اور ان کے فراق میں نہیں روئیں،بلکہ راہ حسینی میں مزید قربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں ۔سلام ہو ان بہنوں پر کہ جن کی آس ان کے بھائی تھے جو کہ روز عاشور شہید ہو گئے ،

سلام ہو ان بیواؤں پر جن کے چھوٹے چھوٹے بچے اپنے والد کا ہر روز انتظار کرتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ بابا کب آئیں گے،اس کے باوجود وہ اپنے بچوں کو عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔سلام ہو شہدا کے بچوں پر جو عاشور کے دن سے اپنے والد کا انتظار کر رہے ہیں ،قسم با خدا ہم نے سنا تھا کہ محرم تلوار پر خون کی فتح کا مہینہ ہے لیکن آج دیکھ بھی لیا،شاید یہی انقلاب جو ہم نے شہداء کی ماؤں اور بہنوں میں دیکھا امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا مقصد تھا۔ دشمن اسلام ،اسلام کو مٹانے کے لئے مذموم سازش کر رہا ہے جس طرح یذید ملعون نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کر کے کی تھی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ دشمن کو کچھ حاصل نہ ہوا سوائے ذلت و رسوائی کے۔دشمن چاہتا تھا کہ عزاداری سید الشہدا کو محدود کیا جائے اور اس کو خطہ زمین سے نیست و نابود کیا جائے لیکن میں سوال کرتا ہوں کیا دشمن اپنے اس گھناؤنے مقصد میں کامیاب ہو سکا؟ ہر گز نہیں!دنیا نے ایک بار پھر حسینیوں کے عزم اور حوصلے کو دیکھا،انہوں نے دیکھا کہ جب عصر عاشور مظلوم کربلا امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا گیا تھا ٹھیک اسی وقت ایک زور دار دھماکہ عاشور کے جلوس میں ہوتا ہے اور انسانی اعضاء ہواؤں میں بکھر جاتے ہیں اور جیسے ہی دھواں چھٹتا ہے تو کی ادیکھتے ہیں کہ کہیں پر کٹا ہو سر پرا ہے اور کہیں کٹا ہوا ہاتھ،اسی دوران عزداران امام مظلوم لاشوں اور ذخمیوں کو اٹھانے میں مشغول ہی تھے کہ شر پسند ٹولے جو نہ کہ شیعہ تھے نہ ہی سنی لوٹ مار اور جلاؤ گھراؤ میں مصروف عمل ہو گئے ،جب عزداروں نے روکنے کی کوشش کی تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان کے پاس جدید آلات ،دستانے،کیمیکل وغیرہ بھی موجود تھاجو اس بات کی طرف نشاندہی کرتا ہے کہ ان شر پسند عناصر کو پہلے سے ہی پتہ تھا اور وہ تیار تھے کہ جیسے ہی انسانیت خون میں غلطاں ہو گی ویسے ہی جلاؤ گھراؤ کر کے مظلوم قوم شیعہ کی مظلومیت ختم کر کے ان کو ظالم کی شکل میں لائیں گے۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود عزاداروں کا یہ جلوس اپنے اختتام پر پہنچا،دنیا نے دیکھا کہ دھماکہ ہوا لیکن علم حضرت عباس علیہ السلام اپنی جگہ پر رہا کوئی علم نہیں گرا ،سلام ہو ان علمداروں پر ،ایک طرف سے تو پولیس کی شیلنگ شروع ہو گئی تھی لیکن پھر بھی امام حسین علیہ السلام لے چاہنے والے علم اٹھائے اپنے مقررہ راستوں پر چلتے ہوئے ماتم داری کرتے ہوئے جلوس کو اختتام تک لے گئے۔شاید دشمن یہ سمجھا تھا کہ دھامکہ کے بعد لوگ گھروں کو لوٹ جائیں گے لیکن دنیا نے دیکھا کہ ایسا نہیں ہوا۔نہ تو عزداری رکی اور نہ کوئی گھر لوٹا۔بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ دشمن کے اس فعل سے تحریک حسینی وا سلام میں ایک نئی روح آ گئی۔ ہمیں افسوس ہے کہ ملت تشیع کو نشانہ بنانے کے لئے یذید وقت نے تاجروں کو نشانہ بنایا ،ہم تاجر برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں تاجروں کا نقصان تو پورا ہو جائے گا لیکن اس ماں کے ذخم کا کیا ہوگا جو کہ تا حیات اپنے جوان بیٹے کی جدائی کی صورت میں رہے گا،ان بچوں کے باباکو کوں واپس لائے گا جو ابھی تک منتظر ہیں؟ان بہنوں کو بھائی کون واپس لا سکتا ہے؟دوسری طرف حکومت ایک انسان کی قیمت پانچ لاکھ روپے لگا رہی ہے ۔۔ اے اسلام کے دشمنو!سن لو کل یذید ملعون بھی یہی چاہتا تھا کہ نماز کو ختم کر دے اسلام کو اس دہر سے مٹا دے جس کے لئے اس نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا تھا،آج تم بھی یہی چاہتے ہو تم اس بات سے بخوبی واقف ہو کہ عزداری سید الشہدا امام حسین علیہ السلام اسلام کی شہہ رگ حیات ہے،اس لئے تم اس شہہ رگ حیات پر پھر خنجر چلا کر اسلام کو مٹانا چاہتے ہو!!! دیکھو!کہ تمھارے اس فعل نے عزداری میں اور جان ڈال دی ہے تمھارے اس فعل سے عزداری کم نہیں بلکہ اور بڑھ گئی ہے کیونکہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔شہادت ہمارا ورثہ ہے جو ہماری ماؤں نے ہمیں دودھ میں پلایا ہے،(شہید حسینی رحمۃاللہ علیہ)یاد رکھو!!

 

آؤ دشمن کے عزائم کو خاک میں ملادیں اور روز اربعین امام حسین علیہ السلام کفن پوش ہو کر مراسم عزداری ادا کریں جلوس میں شریک ہو کر ثابت کریں کہ ھیھات من الذلۃ!

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close