مقالہ جات

دہشت گردی! سفاکیت کی علامت

Pakistan

پچھلے دنوں پاکستان کی اقتصادی شہ رگ یعنی کراچی کو ایک بار پھر انتہائی ناگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور پلک جھپکنے میں متعدد افراد کو نہایت سفاکی کے ساتھ شہید کردیا گیا اور اس سے بھی زیادہ سفاکی کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں زخمیوں کو منتقل کیا جارہا تھا یہاں عیسائی برادری کے بھی کئی لوگ جو اپنے کسی عزیز سے ملنے آئے تھے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ دھماکہ کس نے کیا؟ کون لوگ اس میں ملوث ہیں؟ ایک سوال

 یقینی طور پر ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ دہشت گردوں کو اتنی جرات کس نے دی؟اگر یوم عاشور اور اس کے بعد چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ہونے والے دھماکوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ اندازہ لگانا کوئي مشکل کام نہیں ہے کہ دہشت گردوں نے یہ کام نہایت اطمینان کے ساتھ انجام دیا ہے اور اس منصوبے کی پلاننگ سے لیکر دسیوں بے گناہ انسانوں کو گوشت کے لوتھڑوں میں تبدیل کرنے تک دہشت گردوں کو کسی قسم کا کوئی خوف اور پریشانی لاحق نہیں تھیں ۔ انہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں تھا اگر پکڑے گئے تو کیا ہوگا؟دوسری چیز جو اس قسم کے واقعات کی شکل میں سامنے آتی ہے وہ سفاکیت جیسا وہ پلید عنصر ہے کہ جو دہشت گردوں کے پورے وجود پر حاوی ہے اور اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان دہشت گردوں کی تربیت کہاں ہوتی ہے؟ کون ہے جو ان کی پشت پر ہے؟ اور کون سے جو ان کی سرپرستی کررہا ہے ۔عموما” اس قسم کے واقعات کے بعد عموما” کچھ لوگوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے کچھ لوگوں پر پولیس جرات کرکے ہاتھ بھی ڈال لیتی ہے اور کچھ لوگ کمرہ عدالت تک پہنچا دیئے جاتے ہیں، اخبارات میں خبریں اور تصویریں شائع ہوتی ہیں اور کیس نامعلوم وجوہات کی بناپر فائل بند ہوجاتا ہے۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کرنا چاہئے کہ یہ استعماری طاقتیں ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے قوموں کو لڑاتی ہیں اس وقت عراق اور افغانستان کی صورتحال ہمارے سامنے ہے جہاں آزادی اور جمہوریت کے نام پر امریکہ نے قدم رکھا تاہم لوگوں پر عرصہ حیات مزيد تنگ ہوگیا ۔ پاکستان کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہے اگرچہ وہاں امریکہ کے باضابطہ فوجی تعینات نہیں ہیں، لیکن صورتحال وہی ہے جو عراق اور افغانستان کی ہے پاکستان کے شیعہ عالم اور رہنما علّامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا ہے ان تمام واقعات کی ذمہ دار سامراجی طاقتیں ہیں کہ جنکی قیادت امریکہ کررہا ہے اور اس حقیقت کوسمجھنا کوئی مشکل بھی نہیں امریکہ نے جہاں بھی قدم رکھا ہے وہاں قتل وحشت اور دہشت گردی کے سوا کچھ دیکھنے میں آتا ہے ۔ لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والا گولہ بارود اور دہشت گرد دونوں ہی مقامی ہیں اور جس سفاکیت کے ساتھ وہ دہشت گردی کرتے ہیں وہ درامد شدہ ہے لہذا اس کو کنٹرول کرنے کے لئے علما اور مذہبی قیادت کا کردار نہایت اہمیت رکھتا ہے ، مدارس اور مذہبی مراکز جن لوگوں کے ہاتھوں میں ان کی شناخت اور پہچان کرنا نہ تو انتظامیہ کے لئے مشکل ہے اور نہ ہی مختلف مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے لئے بس توجہ کی ضرورت ہے اور اگر خود علما اور دیندار طبقہ میدان میں آجانے تو ایسے مدارس اور مراکز اور ان کے چلانے والے نام نہاد سرپرستوں اور قائدین کو لگام دی جاسکتی ہے جو مذہبی منافرت پھیلا کر امریکہ اور صیہونیوں کے عزائم کی تکمیل اور اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close