مقالہ جات

سعودی عرب کے بدلتے ہوئے حالات


shamefulsaudia

14.12.2009 سعودی عرب دنیا وہ واحد ملک ہے کہ جہاں اسلام کے نام پر ایک ایسی شاہی حکومت قائم ہے کہ جسکا بانی سعود بن عبدالعزیز تھا چنانچہ جب اس نے سرزمین حجاز کواپنے کنٹرول میں لیا تو اسکا نام تک بدل ڈالا اور اپنے خاندان کے نام پر اسکا نام سعودی عرب رکھ دیا اور تیل کے زیر زمین ذخائر اور اس سے حاصل ہونے والی ساری آمدنی کو اپنے خاندان یعنی آل سعود سے مخصوص کردیا . ظاهر کے اس چیز کو سعودی عرب کے دوسرے شہری اپنے قومی حقوق پرڈاکہ تصور کرتے ہیں لہذا قومی دولت پرصرف شاهی خاندان کے شہزادے اورشہزادیوں کے تسلط کو اب مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا اوراس سرزمین کے رہنے والے غیر سعودی باشندے یعنی وہ لوگ جوآل سعود کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتے وہ قانونی اور جمہوری طریقوں سے میدان سر کرنے کی تیاریاں کرہے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں شاہی نظام حکومت کے مخالف سیاسی کارکنوں نے پارلیمانی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیاہے۔سعودی عرب ميں شہری حقوق کی حامی تنظیم نے ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ پارلیمانی انتخابات کرانے کے سلسلے میں سعودی فرمانرواکے راضی ہوجانے سے ملک ميں سیاسی اوردفتری بدعنوانی سے نمٹنے اور حکام کو کنٹرول کرنے کا راستہ کھل جائےگاسعودی عرب میں شاہی نظام قائم ہے اورسیاسی پارٹیاں یا منتخب پارلیمنٹ موجود نہيں ہے اورعدالتوں کو بھی حکومت کےحمایت یافتہ وہابی ملا ہی چلاتے ہيں۔ سعودی عرب کے بہت سے لوگ شاہ عبداللہ کو بعض سیاسی اصلاحات کاحامی سمجھتے ہيں لیکن سیاسی شخصیتوں کا کہنا ہے کہ پروپیگنڈے کے برخلاف شاہی خاندان اورسعودی دربار سے وابستہ علما ان اصلاحات کےخلاف ہيں۔ سعودی عرب کی مشکل یہ کہ ایک طرف تو وہاں کا شاهی نظام اب فرسودہ ہوچکا ہے اور دوسرے یہ کہ شاهی دربارسے وابستہ افراد خصوصا شاہی خاندان کی بد عنوانیاں اور خیر اخلاقی سرگرمیاں زبان زد خاص عام هوچکی هیں جسکی بناپر اب وہ مکے اور مدینے کے خادم کی حثیت سے مسلمانوں کو مزید فریب دینے کے پوزیشن میں نہیں ہیں لہذا معمولی اصلاحات موثر واقع نہیں ہونگی اور پارلیمانی انتخابات کا مطالبہ سعودی نظام تبدیلی کا پیش خیمہ واقع ہوگا

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close