مقالہ جات

حزب اللہ اگلی جنگ کے لئے تیار ہے، ٹائمز میگزین کی رپورٹ

 

shiite-hezbollah-chief-hassan-nasrallah-150x150زیر نظر آرٹیکل امریکا کے معروف رسالہ ٹائمز میگزین میں شائع ہوا جس میں ٹائمز میگزین کے نامہ نگار نکولیس بلین فورڈ نے اپنے جنوبہ لبنان کے دورے کے موقع پر حزب اللہ کی جنگی تیاریوں پر ایک رپورٹ تیار کی جس کو اس نے حزب اللہ کی اسرائیل کے ساتھ اگلی جنگ کا نام دیا۔بلین فورڈ اپنے آرٹیکل میں لکھتا ہے کہ حزب اللہ کے مجاہدین نے یہ انکشاف کیا ہے کہ شیعہ ملیشیاء حزب اللہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کے پاس فوجی قوت اور اعلیٰ تربیت یافتہ مجاہدین،جبکہ انتہائی منظم اور متحرک فوجی جوان ہیں،جو اعلیٰ ہتھیاروں سے لیس ہیں اور جنگ کی جدید مہارتوں کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی قابل اعتماد ہیں۔
بلین فورڈ نے حزب اللہ کے نوجوان مجاہد علی سے گفتگو کی جس میں حزب اللہ کے نوجوان مجاہد علی کا کہنا تھا کہ ”اسرائیل کے ساتھ اگلی جنگ سو فیصد ہونی ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کب ہو گی ”علی جو کہ ایک مضبوط جسم کا حامل یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور حزب اللہ کا مجاہد ہے نے امریکی صحافی بلین فورڈ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ،”مستقبل کی جنگ کے لئے ہمارے پاس بڑے منصوبے ہیں اور اللہ نے چاہا تو انشاء اللہ تم اسرائیل کو اس جنگ میں نابود ہوتا دیکھو گے اور اسرائیل کا خاتمہ دیکھو گے”۔
بلین فورڈ نے اپنے دورہ جنوبی لبنان کے علاقے جزین میں حزب اللہ مجاہدین سے انٹر ویو ز کئے مجاہدین نے بلین فورڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اسرائیل کے ساتھ آخری جنگی فوجی معرکہ کے دوران جو اگست2006میں ہوا ،حزب اللہ نے اس کے بعد اپنی دفاعی اور جنگی فوجی پوزیشنوں کو دوبارہ بہترین انداز سے تعمیر کیا ہے،مجاہدین کے مطابق حزب اللہ نے اپنے دفاعی مورچوں کو وادی بقاء اور اس کے اطراف کی پہاڑیوں اور جنوبی لبنان کے وسط میں بہترین انداز سے تعمیر کر لیا ہے تا کہ اسرائیلی جارحیت کے مقابلہ کیا جا سکے”۔
بلین فورڈ اپنے آرٹیکل میں کہتا ہے کہ حزب اللہ مجاہدین سے ملاقات کے دوران اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حزب اللہ مجاہدین اسرائیل کے ساتھ اگلی ممکنہ جنگ کے حوالے سے قطعی طور پر خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ دراصل وہا س سے بھی آگے دیکھ رہے ہیں۔
حزب اللہ کے ایک کمانڈر حاج رضا نے بلین فورڈ سے گفتگو کے دوران کہا کہ ،”یہ مسئلہ نہیں ہے ،ہم ہمیشہ دوبارہ تعمیرات کرتے ہیں ،ہماری حمیت اور غیرت بہت اہم ہے نہ کہ یہ چھتیں جو کہ ہمارے سروں پر ہیں”حاج رضا حزب اللہ کے یونٹ کمانڈر ہیں اور ان کا ایک مکمل گھرانہ ہے اور انہوں نےاپنی تعلیمات یونیورسٹی سے مکمل کی ہیں ،حاج رضا کا کہنا تھا کہ ،”مجھے خوشی ہے کہ میں جہاد سے وابستہ ہوں اور اگلی جنگ کے لئے تیاریوں میں مصروف عمل ہوں میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری جہادی ذمہ داریاں بہت ہی لطف اندوز ہیں ،تم تصور بھی نہیں کر سکتے کہ جہاد کا مزہ کیا ہے ،جب تک تم حزب اللہ میں نہیں ہو”۔
بلین فورڈ اپنے آرٹیکل میں لکھتا ہے کہ اسرائیل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف ہونے والی آئیندہ ممکنہ جنگ میں اپنی عظیم تر فوجی قوت استعمال کرے گا اور لبنان کو ایک دشمن ریاست کے طور پر دیکھے گا نہ کہ صرف شیعہ ملیشیاء حزب اللہ کو اپنا دشمن سمجھے گاجو کہ عام لبنانیوں کے لئے بہر حال خوف کا سبب بنا ہوا ہے۔
بلین فورڈ کہتا ہے،”لیکن اسرائیل کی یہ دھمکی حزب اللہ کے مجاہدین کے لئے ذرا سی بھی تشویش اور خطرے کا باعث نہیں بلکہ ان کا عزم انتہائی پختہ اور ناقابل تسخیر نظرآتا ہے”۔
بلین فورڈ کہتاہے کہ حزب اللہ اس بات میں کوشاں ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو جدید جنگی تقاضوں کے مطابق بڑھائے اور جدید نئے اسلحہ کے حصول کو ممکن بنائے۔اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے فضائی دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے لئے بھی سر گرم عمل ہے تا کہ اسرائیلی فضائی برتری کو ختم کیا جاسکے۔
بلین فورڈ ایک رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ،پچھلے سال ایک رپورٹ کے مطابق ”حزب اللہ نے جدید روسی ساختہ کندھے سے مار کرنے والے اینٹی ائیر کرافٹ میزائل حاصل کئے ،جبکہ حزب اللہ مجاہدین کو شام کے پہاڑوں پر جدید ہتھیاروں کی تربیت بھی دی گئی ،امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق حزب اللہ نے اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی حاصل کئے جبکہ جنگی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ حزب اللہ کی اسرائیل کے ساتھ اگلی جنگ کے دوران حزب اللہ نے منصوبہ بندی کی ہے کہ وہا سرائیل کے اہم اسٹراٹیجک اہدافات کو نشانہ بنائے گی”۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے ماہ فروری میں اپنی ایک گفتگو کے دوران اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ حزب اللہ کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اسرائیل کے دارلخلافہ تل ابیب کو نشانہ بنا سکے۔
بلین فورڈ کے مطابق اس نے حزب اللہ کی دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے تجزیہ حزب اللہ کے مجاہدین سے انٹر ویوز کے دوران کیا اس کا کہنا ہے کہ حالیہ رپورٹ کے مطابق حزب اللہ نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل اور زمین سے فضاء میںمار کرنے والے میزائل حاصل کر لئے ہیں جبکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اس نے یہ دیکھا کہ حزب اللہ کے مجاہدین پرانے ہتھیاروں کو فائدہ مند بنانے کے لئے جدید راستے تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔
حزب اللہ کے نوجوان مجاہد علی کاکہنا ہے کہ RPG.7ایک پرانا ہتھیار ہے لیکن اب بھی یہ بہترین ہتھیار ہے اس کو کس طرح استعمال کیا جائے ،یہ اہمیت کا حامل ہے اور ہم ہمیشہ اس چیز کے لئے کوشاں رہتے ہیں کہ نئی جنگی مہارتوں کو حاصل کریں اور دشمن کے لئے شکست کا سبب بنیں ۔
بلین فورڈ آرٹیکل میںکہتا ہے کہ اسرائیل کے جدید فوجی ٹینک میں جدید دفاعی نظام لگایا جا رہاہے جبکہ اس کے اینٹی ٹینک میزائل کو روکنے کے لئے بھی دفاعی نظام لگایا دیا گیاہے۔
بلین فورڈ مزید کہتاہے کہ حزب اللہ مجاہدین نے کہا کہ وہا سرائیل کے ان ظاہری ناقابل تسخیر ٹینکوںکو تباہ کرنے کےلئے حیرت انگیز طریقوں اور ہتھیاروںکو حاصل کر رہے ہیں ،وہ آگے کہتا ہے کہ حزب اللہ کے جنگی منصوبہ کے مطابق اس کے جنگجو اسرائیل کے اندر گھس کر چھاپہ مار کاروائیاں کر کے اسرائیل مشنوں کو ناکام بنائیں گے جبکہ اسرائیل کے جنگی مفروضہ کے مطابق اسرائیل دشمن کی سرحدوں میں گھس کر جنگ لڑنے کا عادی ہے نہ کہ اپنی سر زمین پر۔
حزب اللہ کے مجاہد علی کے مطابق اللہ نے چاہا تو ہم اگلی دفعہ کی جنگ میں فلسطین جائیں گے۔۔۔انشاء اللہ

 

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close