مقالہ جات

٢٢ مئی ، یوم تاسیس امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تحریر : برادر ارشاد حسین ناصر

I.S.O_Logo

میں نے تعصب کی عینک اُتاری ،عقیدت ،محبت اور تعلق کو ایک طرف رکھا اور احسانات کے بارِ گراں سے باہر نکلا ،تب میں نے آنکھیں بند کیں اور چند لحظوں کیلئے گہرائی سے اپنے من میں جھانکا جب مجھے محسوس ہوا میں جو تجزیہ کرنے جارہا ہوں وہ واقعاً غیر جانبداری پر مشتمل ہوگا۔ میں جو نتیجہ اُس کالم کے ذریعہ دو نگاوہ کسی عقیدت ،محبت او ر تعلق سے مغلوب ہو کر نہیں بلکہ حقائق کی روشنی اور و قایع کی دلالت کی بنا پر ہوگا۔ یقین کی اس منزل پر پہنچ کر میں نے پاکستان کے ایک کونے سے شروع ہوکر نگاہ دوڑانا شروع کردی………… پاکستان میں بسنے والے ملت تشیع کے افراد بالخصوص نوجوانوں اور طالبعلموں (بہنوں اور بھائیوں) کے مسائل،مشکلات،تعلیم ،تربیت،اصلاح،راہنمائی، تعاون و مدد اور تحفظ کے حوالے سے دیکھا تو گذشتہ 38 برس کا ریکارڈ میرے سامنے تھا،آئی ایس او پاکستان مجھے   ان حوالوں سے ہمالیہ سے بھی بلند دکھائی دی، بلا شبہ یہ ایسی حقیقت ہے جس سے آئی ایس او پاکستان کا کٹڑ مخالف بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اس تمام عرصہ کے دوران اس تنظیم نے ہزاروں نوجوانوں، طالبعلموں ،بہنوں اور بھائیوں کو بلا رنگ و نسل ،علاقہ و زبان ،یکساں طور پر اپنے وجود کی برکات سے مستفید کیا ،نوجوانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے گراں بہا خدمات سرانجام دیں ،ان کی اخلاقی ،روحانی،دینی تربیت کیلئے ہر قسم کی مشکلات سے گذر کر اپنے مقصد کو پانے کی سعی کی ،کالجز و یونیورسٹیز کے فاسد ماحول میں نوجوانوں کی اصلاح اور تربیت کے ایسے پروگرام مرتب و منعقد کیئے کہ والدیں کو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں پر فخر محسوس ہوا ۔علماء گریز ملت اور نوجوان نسل میں علمائے حقیقی کی پہچان ،تعارف اور ان سے مستفید ہونے کے لاتعداد مواقع مہیا کیئے، علماء کو مدارس سے نکال کر یونیورسٹیز ،امام بارگاہوں اور میدان عمل میں لے کر آئے ۔ ان کے وجود کے دشمنوں کو مجبور کردیا کہ وہ اپنی زبان اور کردار سے علماء دشمنی ترک کردیں ۔ 
آج کے کئی نامی گرامی علماء کو سائیکلوں پر بیٹھا کر بھی ورکشاپس ،اسکاؤٹ کیمپس اور تنظیمی پروگراموں میں لے کر جاتے ہیں۔آئی ایس او کی محافل و مجالس میں ہم نے دیکھا کہ ایک نعرہ بلند ہوا ” با مقصد عزاداری کا فروغ” اور ” آئی ایس او کی ہے آواز ماتم،مجلس او ر نماز اس کے ساتھ ہی جیسے دنیا بدلی ہوئی دکھائی دی ،کربلا سے تعلق تو پہلے بھی تھا مگر اس ایک مصرعہ بامقصد عزاداری کا فروغ نے ایک انقلاب پیدا کر دیا ،وہ انقلاب جو کربلا آپ سے چاہتی ہے اور شہدائے کربلا آپ سے چاہتے ہیں ۔ ایسا گریہ وماتم جس سے یزیدیت کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہوجائے ،اس کو کہتے ہیں بامقصد عزاداری …………یہ درس اور سبق جو ہمیں منبر و محراب سے ملنا چاہیے تھا آئی ایس او پاکستان کی درسگاہوں سے ملا لہٰذا اس کا کریڈٹ بھی اس کا روانِ حسینی کو ہی دیا جائے گا ۔ اس فکر اور سوچ میں بلا شبہ انقلاب اسلامی ایران کا بہت بڑا حصہ ہے جو خود اس فکر و سوچ کی عملی تعبیر کی صورت میں دنیا کے نقشے پر وجود رکھتا ہے۔ امام خمینی (رح) نے یہی تو کہا تھا کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے اس محرم و عزاداری کی بدولت ہے۔
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان 1972سے لے کر آج تک ہمیشہ سے نوجوان طالب علموں کو وحدت مسلمین اور استحکام کا درس دیتی آئی ہے۔ پھر اپنا یہ پیغام طلباء کی سطح سے بڑھا کر ملک عزیز کے ہر مسلک ، گروہ اور طبقہ تک پہنچانے میں صف اول کا کردارادا کیا ۔آئی ایس او پاکستان ملک کی واحد طلباء تنظیم ہے جس نے اسلام اور پاکستان دشمن عناصر کو بے نقاب کرنے کے لئے 70کی دہائی سے آواز بلند کی۔ آئ ایس او کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ عالمی استعمار بالخصوص امریکہ، اسرائیل، بھارت کے مکروہ عزائم سے پردہ اٹھانے کے لئے مردہ باد امریکہ، مردہ باد اسرائیل، مردہ باد ہندوستان کے شعار کو ہر شہری کے کانوں تک پہنچایا۔آج پاکستان کا بچہ بچہ یہ جان چکا ہے کہ اس بدامنی، دہشت گردی اور ملک ے عدم استحکام میں کس کا ہاتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر مذہبی تنظیم، سیاسی جماعت، سوشل تنظیموں اور اداروں کی زبان پر مردہ باد امریکہ کے الفاظ جاری ہیں.
اس طرح طلباء کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی خاطر متحدہ طلباء محاز کے قیام کا سہرا بھی آئی ایس او کو جاتا ہے۔ آئی ایس او رسول اکرم (ص) کی ذات مقدس کو مرکز اتحاد مانتے ہوئے ایک عرصے سے 12تا17ربیع الاول ہفتہ وحدت المسلمین مناتی ہے۔اس کے ساتھ اپنے نصب العین نوجوانوں کو تعلیمات قرآن اور سیرت محمد (ص)و آل محمد(ع) کے مطابق رنگ، نسل،ذات، فرقہ کی تقسیم بندی سے دوری رکھتی ہے اور رکھتی آئی ہے۔
بہرحال میں نے بلوچستان کے چٹیل میدانوں میں بسیرا کرنے والے سخت زندگی کے عادی پُر خلوص و باایمان مومنین ، وادی مہران سندھ کے امن،محبت اور خلوص کے گیت گانے والے جفاکش ساتھیوں ،صوبہ سرحد کے قبائلی و میدانی علاقہ جات میں دشمنانِ دین میں گھِر ے موالیان حیدر کرار(ع) ،شمالی علاقہ جات کے بلند و بالا کہساروں کی سرزمین پر ہمالیہ کا عزم رکھنے والے دین و مذہب پسند عوام، کشمیر کی سرسبز و شاداب وادیوں میں پیغام اہلبیت(ع) کے علمبردار اور پاکستان کے دل پنجاب پر حسینیت کا پرچم لہرانے والے حق کے طرفداروں کی نگاہوں میں جھانکا ،دل کو کھنگالا ،سوچوں کو پڑھا، مجھے ہر ایک کے دل میں آئی ایس او پاکستان کیلئے محبت دکھائی دی،ہر ایک کی آنکھ میں اُمید کی جو کرنیں ابھرتی دکھائی دیں انہوں نے ایک ہی نام لکھا جو آئی ایس او پاکستان تھا، ان کی سوچوں پر جو نام حاوی تھا اسے عرفِ عام میں دنیا آئی ایس او ہی پکارتی ہے …………لہٰذا یوں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ آئی ایس او ہی وہ واحد کاروان ہے جو بلوچستان کے چٹیل میدانوں ،کراچی کے ساحلوں، پنجاب کے دشوار گذار علاقوں ،کرم ایجنسی پیواڑ کی سرحد ،جموں و کشمیر کے سرسبز و شاداب پہاڑوں اور شمالی علاقہ جات گلگت و بلتستان کے بلند و بالا کہساروں اور سنگلاخ چٹانوں کے بسنے والوں کی اُمید اور آرزو ہے،یہی وہ الٰہی کاروان ہے جس سے ہر ایک کو اُمید ہے۔آج ہماری ملت میں جو کام کوئی نہیں کرسکتا اس کے بارے بلا روک ٹوک یہی خیال کیا جاتا ہے کہ آئی ایس او پاکستان کے بلند عزائم و مضبوط حوصلوں کے حامل الٰہی نوجوان ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔ 
یہ سب کچھ سوچتے سوچتے مجھے یکا یک خیال آیا کہ کہیں میں جذبات کی رَو میں تو نہیں بہہ گیا، میں ایک لحظہ کو پھر رُکا اور جائزہ لیا کہ آج ملت جن مشکلات سے دوچار ہے،جن مصائب کا سامنا کیئے ہوئے ہے اس میں آخر 17 کروڑ آبادی کے اس ملک میں کم از کم پانچ کروڑ اہل تشیع بستے ہیں جو پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے وسیع تعلقات ہیں۔ ان لوگوں کے پاس بے بہا وسائل ہیں ،ممکن ہے یہ لوگ آئی ایس او کے مقابل بہت کچھ کررہے ہوں………… مگر میں نے یہ غلط فہمی جلد ہی دور کرلی، مجھے یہ دکھائی دیا کہ آئی ایس او پاکستان کے مخلص،صالح، ملت کا درد لیئے مخلص کارکنان ہی ہر میدان میں ،ہر واقعہ کے بعد، ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے ،ہر خطرہ کو مول لیتے ہوئے سڑکوں پر نظر آتے ہیں، لبیک یا حسین (ع) کا پرچم اُٹھائے یہی شعار بلند کرتے :
اونچا رہے اپنا علم …………حیّٰ علیٰ خیر العمل 
بڑھتے رہیں یونہی قدم…………حیّٰ علیٰ خیر العمل
میں نے دیکھا کہ یہ لوگ ( آئ ایس او) حقیقی معنوں میں ایک جسم کی مانند ہیں۔ اگر اس جسم کے ایک حصے کو ڈیرہ اسماعیل کان میں سوئی چھبتی ہے ،اگر اس جسم کو پاراچنار میں کانٹا لگتا ہے ،اگر اس جسم کو کوئٹہ میں زخم آتا ہے،اگر اس جسم کو چکوال میں چوٹ لگتی ہے ،اگر اس جسم کو ڈیرہ غازی خان میں درد محسوس ہوتا ہے اگر اس جسم کو پشاور میں تکلیف محسوس ہوتی ہے تو پورے پاکستا ن میں پھیلے آئی ایس او کے برادران و خواہران سب سے پہلے اس درد ،دکھ اور چوٹ و زخم کو محسوس کرتے ہوئے میدان میں دکھائی دیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ لوگ فلسطین سے لے کر لبنان تک ،عراق سے لے کر سعودیہ تک ،ایران سے لے کر بحرین تک ،افغانستان سے لے کر کشمیر تک بسنے والے ملت اسلامیہ کے درد کو یکساں طور پر محسوس کرتے ہیں اور ان کی اخلاقی و عملی مدد کیلئے آمادہ و تیار دکھائی دیتے ہیں،اپنی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں………… اکثر اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملت تشیع کی نمائندہ آواز یہی کاروانِ الٰہی ہے ۔ا گر اس کے علاوہ کچھ لوگ کام کر رہے ہیں تو ان کا کام نہ تو اس قدر مربوط ہے اور نہ ہی ان میں اس قدر وسعت اور جان ہے کہ ان کو یہ کہا جاسکے کہ یہ ملت کے حقیقی نمائندہ ہیں جبکہ آئی ایس او پاکستان چاروں صوبوں،شما لی و قبائلی علاقہ جات او ربیرون ممالک تک جسد واحد کی طرح متحد ،منظم و مربوط دیکھی جاسکتی ہے۔ ملت کا درد دل میں سجائے اس کارروان کو ہر زمانے میں اپنوں، پرایوں، حکمرانوں کی سازشوں کا سامنا رہا ہے جن کا مقابلہ یقینا حکمت، تدبیر ،خلوص اور کئی دفعہ قربانیاں دے کر کیا جاتا رہا ہے ۔ اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ اس کاروان الٰہی کے پاس مخلص و ایثار کش کارکنان کی کمی نہیں ،اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول اور ملی وقار کو قائم رکھنے نیز اللہ کی رضا کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے لہو سے دیئے جلانے والے امامیہ شہداء کی طویل فہرست ہے ۔ا ن میں شہید تنصیر حیدر،شہید راجہ اقبال،شہید ڈاکٹر قیصر سیال،شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اور ملک کے مختلف حصوں میں دشمنان دین کے ستم کا شکار ہونے والے شہداء شامل ہیں ۔تنظیم کے برادران اور کارکنان یہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ تنظیم کی رگوں میں دوڑنے والے شہدائے امامیہ کا لہو اس کاروان کو اوج ثریا تک پہنچانے میں بے حد موثر و کارگر ہے۔ 
اس الٰہی تنظیم کو اگرچہ بے حد مشکلات درپیش رہتی ہیں مگر خلوص، تقویٰ اور نظم کی بنیاد پر ان پر قابو پالیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو اس قدر حیرانگی ہوتی ہے کہ آدمی دنگ رہ جاتا ہے،آئی ایس او کے برادران و خواہران آخر تعلیمی اداروں کے طالعلم ہوتے ہیں،ایک طالبعلم کے پاس کس قدر وقت ہوتا ہے۔ آج کل تعلیم خاصی مشکل ہو چکی ہے اور آئی ایس او کے ورکنگ سٹائل اور سالانہ و ماہانہ پروگراموں اور معروفی حالات کو دیکھیں تو کوئی دن خالی نہیں ہوتا ،ایسے میں مکمل وقت دینا ناممکن دکھائی دیتا ہے مگر یہ برادران کا خلوص اور تقویٰ ہے کہ تعلیمی حرج و نقصان کیئے بغیر تنظیمی،تعلیمی،تربیتی پروگراموں کو جاری رکھتے ہیں حالانکہ ان پروگراموں کیلئے صرف فنڈز کی کولیکشن ہی خاصا حوصلہ شکن اودقت طلب کام ہوتا ہے …………مگر امام زمانہ (ع) کے انقلاب کیلئے کام کرنے والوں کو نااُمیدیوں، مایوسیوں ،مشکلات اور مصائب کے پہاڑ تو جھیلنا پڑتے ہیں 
میرے خیال میں آئی ایس او پاکستان کے 38 ویں یوم تاسیس کے موقعہ پر ملت کو شکرادا کرنا چاہیے کہ ملت کی یہ اُمید ابھی تک قائم و دائم ہے،تاریکیوں اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں روشنی کی یہ کرن بلا شبہ معاشرے کو اپنی نورانیت سے منور کر رہی ہے اور مایوسیوں ،نااُمیدیوں اور دم توڑتے حوصلوں کے اس دور میں طلوع صبح ِ نو کا پیغام ہے،میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ مختلف ادوار میں اس کاروان کو ٹکڑوں میں بانٹنے کیلئے کیسے کیسے منصوبے بنائے گئے،کیسے کیسے بہروپیئے سامنے آئے،کیسے کیسے مقدس مآب استعمال ہوئے ،مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر ایک نے ناکامی کا سامنا کیا، ہر ایک کو منہ کی کھانا پڑی،ہر ایک نامراد ہوا اور کئی ایک تو اس کاروان کو ختم کرنے کی تمنا اور آرزو لیئے آج بھی مارے مارے پھرتے ہیں۔ ان میں پاکستان میں سب سے زیادہ رسوا اور ذلیل ہونے والا امریکہ بھی ہے اور اس کے مقامی نمک خوار بھی، آئی ایس او سے اختلاف کرنے والے بھی ہیں اور شخصیات پرستی کی رَو میں بہہ جانے والے بھی، نظریاتی مخالفیں بھی ہیں اور فکری اختلاف رکھنے والے بھی۔
خدا وند کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ملت تشیع پاکستان کے پاس یہ الٰہی کارواں آج پہلے سے کہیں بڑھ کر قوت و شہامت کے ساتھ موجود ہے ۔38برس تک تسلسل کے ساتھ جاری اس کاروان ِ الٰہی کی جدوجہد، تحریک،،خدمات،کارہائے نمایاں اور وحدت کی لڑی میں پروئے اس کے متحد کارکنان کو دیکھ کر کسی روحانی دوست نے خوب کہا تھا کہ اس کارروان الٰہی پر یقینا کسی بڑی ہستی کا دستِ مبارک ہے اور وہ ایسا ہاتھ ہے جو سب پر بھاری ہے۔ قائد شہید کے ساڑھے چار سالہ دور قیادت کو بھی اگر دیکھا جائے تو ایسی ہی کسی ” طاقت” کے وجود کا احساس ہوتا ہے جو مکمل رہنمائی فرمارہی تھی،تبھی تو شہید بزرگوار نے اتنے مختصر عرصہ ء قیادت میں وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جن کا تذکرہ کرتے ہوئے ہم تھک جاتے ہیں مگر ختم ہونے کو نہیں آتے میرا یقین ہے کہ شہید کی شہادت کے بعد اس کارروان الٰہی آئی ایس او پاکستان پر یہ خصوصی لطف اور کرم و عنایت کا سلسلہ جاری ہے جن کی بدولت کتنی آفات،طوفان، مصائب، مشکلات ٹال دی جاتی ہیں۔
ہر آنے والے دن کے ساتھ ساتھ اس کے دردمند ،مخلص ،صالح، باایمان، ایثار گر ،الٰہی و متقی نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ یہ لوگ کسی شخصیت کے ساتھ مقصود نہیں بلکہ نظریہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،ولایت کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ آئی ایس او پاکستان کے برادران ہر قسم کی زنجیروں کو توڑ کر ولایت فقیہہ کے زیر سایہ و رہنمائی امام زمان(ع) کے الہٰی انقلاب کیلئے مصروف عمل ہیں۔ یہ ان کی کامیابی کی ضمانت ہے ۔ امامیہ نوجوانوں کی دوسری بڑی کامیابی کا سہرا ان کا جمہوری نظام ہے ۔ مقامی یونٹ سے لے کر مرکزی صدر تک منتخب ہونے کیلئے اس کے کارکنان آزادانہ طور پر حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں اور ان کے پیش نظر دستور میں طے کئے گئے الٰہی معیارات پہ نوجوان ملت کے اس کاروان کو سال بھر آگے بڑھاتے ہوئے پرچم امانت کو دیانتدار ہاتھوں کے سپرد کرکے رخصت ہوجاتے ہیں۔ یہ سلسلہ گذشتہ 38برسوں سے یونہی چل رہا ہے ۔ لطفِ خداوندی ہے کہ پاکستان کے گوش و کنار میں
بڑھتے رہیں یونہی قدم ………………حیی علیٰ خیر العمل 
رکنے نہ پائیں یہ قدم ………………حیی علیٰ خیر العمل 
کی صدائیں اور شعار گونج رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close