مقالہ جات

شیعوں کے سیاسی افکار نے دنیا کے نقشے کو بدل ڈالا

shia kaba؛ڈاکٹر رابرٹ گلیو نے اسلام کے سیاسی نظریے سے مخصوص امام خمینی (رہ) بین الاقوامی جشنوارے میں مدرسہ عالی دار الشفا قم میں اپنے مقالے میں اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مغرب میں اسلامی سیاست کو لے کر بڑے پیمانے پر تحقیقات عمل میں لائی گئی ہیں ،کہا: بڑی تعداد میں محققین ،اسلام میں مختلف نظریات کے باوجود جیسے اہل سنت کے نظریات ، شیعوں کے افکار و نظریات کے بارے میں تجسس و تحقیق کی طرف مائل ہیں چونکہ مغربی محققین یہ جان چکے ہیں کہ شیعہ پر اہمیت اور قابل قدر سیاسی نظریات کے حامل ہیں ۔

شیعوں کے سیاسی افکار میں عقل و دین کا تال میل

برطانیہ کی ایگزٹر یونیورسٹی کے شیعی مسائل کے استاد نے مغربی مفکرین کے شیعوں کے نظریات کی طرف مائل ہونے کی تین اصلی دلیلیں بیان کرتے ہوئے اظہار خیال کیا: اس مسئلہ کی پہلی دلیل شیعوں کے نزدیک عقل کی حیثیت کو قرار دینا چاہیے اس لئے کہ فقہ شیعہ میں اس موضوع پر بہت تاکید کی گئی ہے ۔

رابرٹ گلیو نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ روشن فکری کے میدان میں مغربیوں نے دین اور عقل کا مقائسہ کیا ہے تصریح کی : شیعہ مذہب میں عقل و دین میں تال میل اور نئے نظریات کی ایجاد کا ہنر دکھائی دیتا ہے ۔

انہوں نے نصریح کی؛ شیعوں کے سنت اور ان کا سیاسی نظریہ بشر کی پانچ ہزار سالہ فکری ضرورتوں اور مشکلوں کا جواب دینے پر قادر ہے حالانکہ مغرب کے اکثر فلسفی نظریات اپنے ماضی کا انکار کرتے ہیں اسی وجہ سے شیعوں میں افکار کی رشد اور تبدیلیوں کا مشاہدہ ان کے لئے غیر معمولی مسئلہ تھا ۔

انگزٹر یونیورسٹی کے شیعی مسائل کے ماہر استاد نے مزید کہا : اسلام میں سیاسی نظریات اس کی اپنی سنتوں کے اندر سے جنم لیتے ہیں جبکہ مغربی افکار بیرونی اور خارجی افکار سے پیدا ہوتے ہیں اسی مسئلہ کے باعث کچھ لوگ اس یقین تک پہونچے ہیں کہ شیعوں کا سیاسی نظریہ دوسرے تمام فکری نظریات اور افکار سے جدا ہے ۔

شیعی نظریات کے مواقع

ڈاکٹر گلیو نے اس چیز پر زور دیتے ہوئے کہ اخوان المسلمین تحریک نے اپنی پیش رفت کی خاطر خارجی نظریات کو وسیلہ بنایا، مزید کہا؛انقلاب اسلامی ایران نے شیعوں کے افکار و نظریات پر اعتماد کرتے ہوئے سال ۵۷ ، میں دنیا کی سیاست کا نقشہ بدل دیا اور مغربی محققین کے سامنے بہت سارے سوالات کھڑے کر دیے کہ یہ کیسا انقلاب آیا ہے۔

اس نے تصریح کی : میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ شیعوں کے سیاسی نظریات جو اس سلسلہ میں منظر عام پر آئے ہیں مغربی محققین کے لئے کس قدر تعجب آور ہیں!

ایگزٹر یونیورسٹی کے شیعی مسائل کے ماہر استاد نے اس چیز پر زور دیتے ہوئے کہ بڑے پیمانہ پر دنیا کے لوگ شیعوں کے پیچیدہ سیاسی نظریات سے واقف ہونے کے خواہاں ہیں کہا؛ ایک محقق کی حیثیت سے میری یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ میں سیاست کو جنم دوں بلکہ مختلف نظریات میں جو معلومات پائی جاتی ہیں میرا کام ان کو ان کے خواہش مند افراد کے سامنے رکھنا ہے ۔

ڈاکٹر گلیو نے اپنی گفتگو کے آخر میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایران اور برطانیہ کے تعلقات کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس میدان میں ہم نے کامیاب کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے امید کا اظہار کیا : ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں سدھار آجانے کے بعد درست اور صحیح معلومات اپنے مخاطبوں اور خواہش مندوں تک پہونچا پائوں گا

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close