مقالہ جات

ولادت باسعادت حضرت امام محمد تقی علیہ اسلام

Birth_Anniversary_of_Imam_Taqi_a.s_1
10 رجب
دس رجب سنہ 195 ھ ق کو مدینے میں فرزند رسول (ص) حضرت امام محمد تقی (ع) کی ولادت باسعادت ہوئی ۔آپ نے اپنے والد بزرگوار حضرت امام رضا (ع) کی شہادت کے بعد مسلمانوں کی امامت و رہبری کی ذمہ داری سنبھالی ۔حضرت امام محمد تقی (ع) لوگوں میں بے حد محبوب تھے ، آپ نہایت سخی تھے اسی لئے آپ جواد یعنی سخی کے لقب سے مشہور ہوئے ۔امام تقی (ع) کا گھر ضرورت مندوں کے لئے پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا تھا اور جو لوگ ہرطرف سے ناامید ہوجاتے ان کی امیدیں امام تقی (ع) کے در سے پوری ہوتیں ۔آپ (ع) کے زمانے میں اسلامی مملکت کا دائرہ بہت وسیع ہوگيا تھا اس امر نے خود مختلف علوم کی نشر و اشاعت کی راہ ہموار کی اور مسلم اور غیر مسلم دانشوروں کے درمیان بحث و مباحثے کی روش کو کافی فروغ حاصل ہوا ۔حضرت امام تقی (ع) کو اسلامی معاشرے میں بلند مقام حاصل تھا ۔آپ (ع) کا وجود معاشرے کے لئے پیغمبر اسلام (ص) کی مقدس یادگار کے طور پر ہمیشہ موثر اور مفید رہا ۔آپ (ع) اعلیٰ اسلامی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانے اور غیر الہی نظریات کو پھیلنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش فرماتے تھے ۔سامعین امام تقی (ع) کے یوم ولادت کی مناسبت سے آپ (ع) کا ایک زریں قول تحفے کے طور پر پیش خدمت ہے ۔امام فرماتے ہیں کہ : خدا پر بھروسہ سربلندی کا ذریعہ ہے ۔جوخدا پر بھروسہ کرتاہے خداوند عالم اس کو ہر برائی سے بچاتا ہے اور ہر دشمن سے محفوظ رکھتا ہے ۔
دس رجب سنہ 1354 ھ ق کو چودہویں صدی ہجری قمری کے ایک معروف عالم دین شیخ اسداللہ زنجانی (رح) نے عراق کے شہر نجف اشرف میں وفات پائی ۔وہ ایران کے شہر زنجان کے ایک نواحی علاقے میں پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے ابتدائي تعلیم زنجان میں حاصل کی ۔اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے عراق تشریف لے گئے اور نجف اشرف کے اعلیٰ دینی مدرسے میں اپنی تعلیم مکمل کی ۔شیخ اسداللہ زنجانی (رح) نے اپنی پوری زندگی علم کی خدمت اور دینی تعلیمات کی تدریس میں گزاری ۔انہوں نے متعدد کتابیں تحریر کی ہیں جن میں کتاب البیع کا نام خاص طور سے قابل ذکرہے
Birth_Anniversary_of_Imam_Taqi_a.s_2
امام محمد تقی علیہ السلام
آپ پانچویں برس میں تھے جب آپ کے والد بزرگوار امام رضا(ع) سلطنت عباسیہ کے ولی عھد ھو گئے اس کے معنی یہ ھیں کہ سن تمیز پر پھنچنے کے بعد ھی آپ نے آنکہ کھول کر وہ ماحول دیکھا جس میں اگر چاھا جاتا تو عیش و آرام میں کوئی کمی نہ رھتی مال و دولت قدموں سے لگا ھوا تھا اور تزک و احتشام آنکھوں کے سامنے تھا پھر باپ سے جدائی بھی تھی کیونکہ امام رضا(ع) خراسان میں تھے اور متعلقین تمام مدینہ منورہ میں تھے۔  اور پھر آپ کو آٹھواں ھی برس تھا کہ امام رضا(ع) نے دنیا ھی سے مفارقت فرمائی۔
یہ وہ منزل ھے کہ جہاں ھمارے تاریخی کارخانہ تحلیل و توجیھہ کی تمام دوربینیں بیکار ھو جاتی ھیں۔  کسی دنیوی مکتب اور درسگاہ میں تو نہ ان کے آباؤاجداد کبھی گئے نہ یہ جاتے نظر آتے ھیں۔  ھاں ایک معصوم کے لئے معصوم بزرگوں کی تعلیم و تربیت ناقابل انکار ھے مگر یہاں معصوم باپ سے چار پانچ برس کی عمر میں جدائی ھو گئی۔  ایک توارثِ صفات رہ جاتا ھے مگر ھر ایک جانتا ھے کہ اس سے صلاحیت کا حصول ھوتا ھے۔
فعلیت کے لئے پھر اسباب ظاھری کی ضرورت ھے۔  مگر یہ تاریخی واقعہ ھے کہ امام محمد تقی(ع) نے بچپن کی جتنی منزلیں اس کے بعد طے کیں وہ ابھی شباب کی سرحد تک بھی نہ تھیں کہ آپ کی سیرت بلند کی مثالیں اور علمی کمال کی تجلیاں دنیا کی آنکھوں کے سامنے  آ ٓگئیں۔  یھاں تک کہ امام رضا(ع) کی وفات کے بعد ھی شاھی دربار میں اکابر علمائے وقت سے مباحثہ ھوا تو سب کو آپ کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا۔
اب یہ واقعہ کوئی صرف اعتقادی چیز بھی نھیں ھے بلکہ مسلم الثبوت طور پر تاریخ کا ایک جز ھے یھاں تک کہ اس مناظرہ کے بعد اسی محفل میں مامون نے اپنی لڑکی ام الفضل کو آپ کے حبالہ عقد میں دیا۔
یہ  سیاست  مملکت  کا  ایک  نئی  قسم  کا  سنھرا  جال  تھا  جس  میں  امام  محمد  تقی(ع)  کی  کمسنی  کو دیکھتے ھوئے خلیفہ وقت کو کامیابی کی پوری توقع ھو سکتی تھی۔
جیسا کہ رسالہ ”نویں امام“ (شائع کردہ امامیہ مشن) میں لکھا ھے۔
”بنی امیہ کے بادشاھوں کو آلِ رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا جتنا ان کے صفات سے۔  وہ ھمیشہ اس کے درپے رھتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ میں قائم ھے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلہ میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ھوا ھے یہ کسی طرح ٹوٹ جائے اسی کے لئے وہ گھبرا گھبرا کر مختلف تدبیریں کرتے تھے۔  امام حسین(ع) سے بیعت طلب کرنا اسی کی ایک شکل تھی اور پھر امام رضا(ع) کو ولی عھد بنانا اسی کا دوسرا طریقھ۔
فقط ظاھری شکل میں ایک کا انداز معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ ارادت مندی کے روپ میں تھا مگر اصل حقیقت دونوں باتوں کی ایک تھی۔  جس طرح امام حسین(ع) نے بعیت نہ کی تو وہ شھید کر ڈالے گئے اسی طرح امام رضا(ع) ولی عھد ھونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ نہ چل سکے تو آپ کی شمع حیات کو زھر کے ذریعہ سے ھمیشہ کے لئے خاموش کردیا گیا۔
اب مامون کے نقطھٴ نظر سے یہ موقع انتھائی قیمتی تھا کہ امام رضا(ع) کا جانشین آٹہ نو برس کا ایک بچہ ھے جو تین چاربرس پھلے ھی باپ سے چھڑا لیا جا چکا تھا۔  حکومت وقت کی سیاسی سوجہ بوجہ کھہ رھی تھی کہ اس بچے کو اپنے طریقہ پر لانا نھایت آسان ھے اور اس کے بعد وہ مرکز جو حکومت وقت کے خلاف ساکن اور خاموش مگر انتھائی خطرناک،  قائم ھے ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائے گا۔
مامون امام رضا(ع) کی ولی عھدی کی مھم میں اپنی ناکامی کومایوسی کا سبب تصور نھیں کرتا تھا اس لئے کہ امام رضا(ع) کی زندگی ایک اصول پر قائم رہ چکی تھی اس میں تبدیلی نھیں ھوئی تو یہ ضروری نھیں کہ امام محمد تقی(ع) آٹہ برس کے سن میں خاندان شھنشاھی کا جز بنا لئے جائیں تو وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پر برقرار رھیں۔
سوا ان لوگوں کے جو ان مخصوص افراد کے خدا داد کمالات کو جانتے تھے اس وقت کا ھر شخص یقیناً مامون کا ھم خیال ھو گا۔  مگر حضرت امام محمد تقی(ع) نے اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ جو ھستیاں عا م جذبات کی سطح سے بالاتر ھیں اور یہ بھی اسی قدرتی سانچے میں ڈھلے ھوئے ھیں جن کے افراد ھمیشہ معراج انسانیت کی نشاندھی کرتے آئے ھیں آپ نے شادی کے بعد محل شاھی میں قیام سے انکار فرمایا اور بغداد میں جب تک قیام رھا آپ ایک علیحدہ مکان کرایہ پر لے کر اس میں قیام پذیر ھوئے اورپھر ایک سال کے بعد ھی مامون سے حجاز واپس لے جانے کی اجازت لے لی۔
اور مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے اور اس کے بعد حضرت کا کاشانہ گھرکی ملکہ کے دنیوی شاھزادی ھونے کے باوجود بیت الشرف امامت ھی رھا۔  قصر دنیا نہ بن سکا۔  ڈیوڑھی کا وھی انداز رھا جو اس کے پھلے تھا۔  نہ پھرے دار اورنہ کوئی خاص روک ٹوک۔  نہ تزک نہ احتشام۔  نہ اوقات ملاقات کی حد بندی۔  نہ ملاقاتیوں کے ساتھ برتاؤ میں کوئی فرق۔  زیادہ تر نشست مسجد نبوی میں رھتی تھی جھاں مسلمان حضرت کے وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔  راویان حدیث احادیت دریافت کرتے تھے۔  طلاب علمی مسائل پوچھتے تھے اور علمی مشکلات کو حل کرتے تھے۔  چنانچہ شاھی سیاست کی شکست کا نتیجہ یہ تھا کہ آخر آپ کا بھی زھر سے اسی طرح خاتمہ کیا گیا جس طرح آپ کے بزرگوں کا اس سے پھلے کیا جاتا رھا تھا۔
Birth_Anniversary_of_Imam_Taqi_a.s_3
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی بعض کرامات
صاحب تفسیرعلامہ حسین واعظ کاشفی کا بیان ہے کہ حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی کرامات بے شمارہیں (روضة الشہدا ص ۴۳۸) میں بعض کا تذکرہ مختلف کتب سے کرتا ہوں ۔
علامہ عبدالرحمن جامی تحریرکرتے ہیں کہ :
 ۔ مامون رشید کے انتقال کے بعد حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اب تیس ماہ بعد میرا بھی انتقال ہوگا، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضرہو کرعرض کیا کہ ایک مسماة (ام الحسن) نے آپ سے درخواست کی ہے کہ اپنا کوئی جامہ کہنہ دیجیے تاکہ میں اسے اپنے کفن میں رکھوں آپ نے فرمایا کہ اب جامہ کہنہ کی ضرورت نہیں ہے روای کا بیان ہے کہ میں وہ جواب لے کرجب واپس ہوا تومعلوم ہواکہ ۱۳ ۔ ۱۴ دن ہو گئے ہیں کہ وہ انتقال کرچکی ہے۔
 ۔ ایک شخص (امیہ بن علی) کہتا ہے کہ میں اورحماد بن عیسی ایک سفرمیں جاتے ہوئے حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے تاکہ آپ سے رخصت ہولیں، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم آج اپنا سفرملتوی کردو، چنانچہ میں حسب الحکم ٹہرگیا، لیکن میراساتھی حماد بن عیسی نے کہا کہ میں نے ساراسامان سفرگھرسے نکال رکھا ہے اب اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ سفرملتوی کردوں، یہ کہہ کروہ روانہ ہوگیا اورچلتے چلتے رات کو ایک وادی میں جا پہنچا اوروہیں قیام کیا، رات کے کسی حصہ میں عظیم الشان سیلاب آ گیا،اوروہ تمام لوگوں کے ساتھ حماد کوبھی بہا کر لے گیا (شواہدالنبوت ص ۲۰۲) ۔
 ۔ علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ معمربن خلاد کا بیان ہے کہ ایک دن مدینہ منورہ میں جب کہ آپ بہت کمسن تھے مجھ سے فرمایا کہ چلومیرے ہمراہ چلو! چنانچہ میں ساتھ ہوگیا حضرت نے مدینہ سے باہرنکل کر ایک وادی میں جا کرمجھ سے فرمایا کہ تم ٹھرجاؤ میں ابھی آتا ہوں چنانچہ آپ نظروں سے غائب ہوگئے اورتھوڑی دیرکے بعد واپس ہوئے واپسی پرآپ بے انتہاء ملول اور رنجیدہ تھے، میں نے پوچھا : فرزندرسول ! آپ کے چہرہ مبارک سے آثارحزن وملال کیوں ہویدا ہیں ارشاد فرمایا کہ اسی وقت بغداد سے واپس آ رہا ہوں وہاں میرے والد ماجد حضرت امام رضاعلیہ السلام زہرسے شہید کردئیے گئے ہیں میں ان پرنماز وغیرہ ادا کرنے گیا تھا۔
 ۔ قاسم بن عبادالرحمن کا بیان ہے کہ میں بغداد میں تھا میں نے دیکھا کہ کسی شخص کے پاس تمام لوگ برابرآتے جاتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ جس کے پاس آنے جانے کا تانتا بندھا ہوا ہے یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ابوجعفرمحمد بن علی علیہ السلام ہیں ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ آپ ناقہ پرسواراس طرف سے گذرے ،قاسم کہتا ہے کہ انہیں دیکھ کرمیں نے دل میں کہا کہ وہ لوگ بڑے بیوقوف ہیں جوآپ کی امامت کے قائل ہیں اورآپ کی عزت وتوقیرکرتے ہیں، یہ تو بچے ہیں اورمیرے دل میں ان کی کوئی وقعت محسوس نہیں ہوتی، میں اپنے دل میں یہی سوچ رہا تھا کہ آپ نے قریب آ کرفرمایا کہ ایے قاسم بن عبدالرحمن جوشخص ہماری اطاعت سے گریزاں ہے وہ جہنم میں جائے گا آپ کے اس فرمانے پر میں نے خیال کیا کہ یہ جادوگر ہیں کہ انہوں نے میرے دل کے ارادے کومعلوم کرلیا ہے جیسے ہی یہ خیال میرے دل میں آیا آپ نے فرمایا کہ تمہارے خیال بالکل غلط  ہیں تم اپنے عقیدے کی اصلاح کرو یہ سن کرمیں نے آپ کی امامت کا اقرارکیا اورمجھے ماننا پڑا کہ آپ حجت اللہ ہیں۔
 ۔ قاسم بن الحسن کا بیان ہے کہ میں ایک سفرمیں تھا ، مکہ اورمدینہ کے درمیان ایک مفلوج الحال شخص نے مجھ سے سوال کیا،میں نے اسے روٹی کا ایک ٹکڑا دیدیا ابھی تھوڑی دیرگذری تھی کہ ایک زبردست آندھی آئی اوروہ میری پگڑی اڑا کر لے گئی میں نے بڑی تلاش کی لیکن وہ دستیاب نہ ہوسکی جب میں مدینہ پہنچا اورحضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے ملنے گیا توآپ نے فرمایا کہ اے قاسم تمہاری پگڑی ہوا اڑا لے گئی میں نے عرض کی جی حضور!آپ نے اپنے ایک غلام کوحکم دیا کہ ان کی پگڑی لے آؤ غلام نے پگڑی حاضرکی میں نے بڑے تعجب سے دریافت کیا کہ مولا! یہ پگڑی یہاں کیسے پہنچی ہے آپ نے فرمایا کہ تم نے جو راہ خدا میں روٹی کا ٹکڑادیا تھا، اسے خدا نے قبول فرما لیا ہے، ایے قاسم خداوندعالم یہ نہیں چاہتا جو اس کی راہ میں صدقہ دیے وہ اسے نقصان پہنچنے دے۔
۔ ام الفضل نے حضرت امام محمد تقی کی شکایت اپنے والد مامون رشید عباسی کو لکھ کربھیجی کہ ابوجعفرمیرے ہوتے ہوئے دوسری شادی بھی کر رہے ہیں اس نے جواب دیا کہ میں نے تیری شادی ان کے ساتھ اس نہیں کی حلال خدا کوحرام کردوں انہیں قانون خداوندی اجازت دیتا ہے کہ وہ دوسری شادی کریں، اس میں تیرا کیا دخل ہے دیکھ آئندہ سے اس قسم کی کوئی شکایت نہ کرنا اورسن تیرا فریضہ ہے کہ تو اپنے شوہرابوجعفرکوجس طرح ہو راضی رکھ اس تمام خط و کتابت کی اطلاع حضرت کو ہو گئی (کشف الغمہ ص ۱۲۰) ۔
علامہ شیخ حسین بن عبدالوہاب تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن ام الفضل نے حضرت کی ایک بیوی کوجوعماریاسر کی نسل سے تھی دیکھا تو مامون رشید کو کچھ اس طرح سے کہا کہ وہ حضرت کے قتل پرآمادہ ہو گیا، مگرقتل نہ کرسکا(عیون المعجزات ص ۱۵۴ طبع ملتان)۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close