ایران

امام عالیمقام نے عظیم قربانی دے کردنیا کوجاودانی درس دیاہے

   kashani

    18.12.2009 تہران کی مرکزی نمازجمعہ آج آیت اللہ امامی کاشانی کی امامت میں اداکی گئی جس میں نمازیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی آیت اللہ امامی کاشانی نے نمازکے پہلے خطبے میں نمازیوں کوتقوای الہی اختیارکرنے کی سفارش کرتے ہوئے گناہوں سے دوررہنے کی نصحیت کی ۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے اسی طرح ماہ محرم کی آمد کی مناسبت سے دنیا بھرکے مسلمانوں کوتعزیت پیش کی  ۔  تہران کے خطیب جمعہ نے واقعہ عاشورہ کے رونماہونے کے محرکات کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ جوبات مسلم ہے وہ یہ کہ بنی امیہ نے اسلام کی بساط لپیٹ دی تھی اورمعاویہ نے اس سلسلے میں سب سے بڑا گھناؤنا کام کیا تھا کیونکہ اس کوجوابوسفیان کا بیٹا تھا خلفاء ثلاثہ کی بھی حمایت حاصل تھی اوراس نے اپنے فریب کارانہ اقدامات اورسیاست کے ذریعہ اہلبیت اطہار علیھم السلام کومعاشرے ميں گوشہ نشین کرنے کی کوشش کی ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ امام حسین نے پچاس ہجری قمری میں  اپنے برادربزرگوارامام حسن مجتبی کی شہادت کے بعد منصب امامت سنبھالا اور دس برسوں تک معاویہ کے زمانے میں زندگی بسرکی ۔ اس دوران معاویہ نےلوگوں کو امام حسین کے حضورآنے جانے سے منع کردیا تھا  چنانچہ آپ کے گھروالوں کے علاوہ کسی کوبھی امام  عالیمقام کی خدمت میں آنے کی اجازت نہيں تھی اس طرح تعلیمات پیغمبرکوفراموش کردئے جانے کی ناپاک کوشش ہورہی تھی ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ بنی ا میہ کی مشینری نے پورےمعاشرے میں گھٹن کی فضا قائم کررکھی تھی اورکسی کو بھی کچھ بھی کہنے اورسننے کی اجازت نہيں تھی ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ رسول اکرم اوراہلبیت اطہار سے دشمنی کا سلسلہ امیہ وابوسفیان سے شروع ہوکریزیدتک اپنے عروج پہنچ گیا تھا ہندجگرخوارسے لے کریزیدتک  کے سلسلے کو جب دیکھا جاتا ہے توابوسفیان معاویہ اوریزید سب کے سب اہل بیت رسول کے انتہائی سخت دشمن تھے اوردشمنی کی  وجہ یہی تھی کہ رسول اکرم اوران کے اہل بیت اطہار الہی اوراسلامی تعلیمات کوصحیح معنوں میں لوگوں تک پہنچانا چاہتے تھے اوربنی امیہ اوراس کی نسل کے افراد اسلام کومٹانا چاہتے تھے ۔جس وقت  اسلام اوراس کی تعلیمات کولوگوں سے دورکرنے کی کوشش کی جارہی تھی اورمعاشرے میں بدعت وخرافات کورواج دیا جارہا تھا اوراس کے لئے امام حسین سے یزید نے بیعت کا  مطالبہ بھی  کرڈالا توامام عالیمقام  نے فرمایا کہ اگریزید کی بیعت کرلوں تواسلام کا فاتحہ پڑھ لینا ہوگا مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت ہرگزنہيں کرے گا ۔ امام حسین کے اس جواب کے بعد یزید نے اپنے والیوں کوحکم دیا کہ یا توحسین بن علی سے بیعت لوورنہ ان کا سرقلم کرلو۔ جب امام حسین علیہ السلام یزید کے اس ناپاک ارادے کا علم ہواتوآپ نے یزید کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیا اورآپ کربلا کے لئے نکل پڑے راستے میں آپ کی بیٹی سکینہ نے حالات کودیکھنے کے بعد کہا کہ بابا جان مدینے واپس لوٹ چلئے امام حسین نے فرمایاکہ بیٹی ہم لوگ جہاں بھی جائيں گے یزید میرے قتل کا منصوبہ بنائے گا کیونکہ اسے میراسرچاہئے وہ جانتا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں اسلام پرآنچ نہيں آنے دوں گا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام کربلا کے لئے روانہ ہونے لگے توکچھ لوگوں نے آپ سے کہا کہ مولا خواتین اوربچوں کواپنے ساتھ نہ لے جائیے لیکن امام حسین اہل حرم کواپنے ساتھ لے کرروانہ ہوئے۔ امام حسین راہ حق میں قربانی دینا چاہتے تھے وہ نہيں چاہتے تھے کہ دشمنان اسلام ،یزیداوراس کے کارندے ان کی شہادت کولوگوں اورتاریخ کی نظروں سے پوشید ہ کردیں آپ اپنے اس عظیم کارنامے سے پوری دنیا کوبیدارکرناچاہتے تھے وہ دنیا کوبتانا چاہتے تھے کہ ظلم کے مقابلے میں کس جرآت کے ساتھ جنگ کی جاتی ہے اورظلم کے چہرے سے نقاب کس طرح اتاری جاتی ہے تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ امام عالیمقام کا یہی کارنامہ تھا کہ آج ہرقوم ومکتب کے لوگ منجملہ عیسائی شعراء بھی آپ کی قربانی اورعظیم کارنامے کوخراج عقیدت پیش کرتے ہيں کیونکہ امام نے کربلا میں عظیم قربانی پیش کرکے انسانی معاشرے کویہ عظیم درس دیا ہے کہ ظلم کے سامنے کبھی بھی سرمت جھکانا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ امام حسین کے عظیم کارنامے میں جوچیزسب سے زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے وہ آپ کا اخلاص ہے اورہرمرحلے میں آپ کی ہرقربانی میں اخلاص ہی اخلاص دکھائي دیتا ہے ۔تہران کے خطیب جمعہ نے ماہ محرم میں امام حسین پررونے اورسوگواری کے بارے میں بیان کی گئی فضیلتوں کے ذیل میں امام رضاعلیہ السلام کی ایک حديث بیان کی جس میں آپ اپنے ایک صحابی کومخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں اے ابن شبیب آج محرم کی پہلی تاریخ ہے یہ اس مہینے کی تاريخ ہے جس میں جنگ وجدال حرام ہے مگرمسلمانوں نے اپنے ہی پیغبمرکے نواسے کوشہید کردیا اے ابن شبیب اگرتمہیں کسی پررونا ہی ہے تومیرےجد امام حسین پرگریہ کروجسے پس گردن سے تین دن کا بھوکا پیاسا شہید کردیا گیا اے شبیب کے بیٹے جب میرے جد امام حسین علیہ السلام  کوشہید کیا گیا توفرشتوں اورآسمان نے بھی گریہ کیا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے نمازکے دوسرے خطبے میں ایران کے حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد رونماہونےوالے واقعات کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ اسلامی نظام کے دشمنوں نے موقع سے فائدہ اٹھاکرپرتشدد مظاہرے کئے اوراسلامی نظام کے خلاف طرح طرح کی سازشيں کیں اورگذشتہ دنوں بعض عناصرنے تودشمنوں کے بہکاوے میں آکرامام خمینی کی شان میں بھی اہانت کرڈالی ۔بنابریں ان لوگوں کوجوانقلاب کے خدمتگزاررہے ہيں اورجوامام خمینی کا وفادارکہتے ہيں انھیں اس طرح کے حساس موقع پرہوشیاررہنا چاہئے ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے اسلامی جمہوری نظام کونظام حق قراردیتے ہوئے کہا کہ اس نظام کی قدرکیجئے ۔آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک ساتھ متحدہوکراسلامی نظام کی خدمت کریں اوررہبرانقلاب اسلامی کی اتحاد سے متعلق سفارشات پرتوجہ دیں  انھوں نے اسلامی حکومت میں منصب ولایت فقیہ کی اہمیت پرتاکید کرتےہوئے کہا کہ کوئی بھی نظام صحیح معنوں میں اپنے عوام کی اس وقت تک خدمت نہيں کرسکتا جب تک اس کا رہبرایک صالح ونیک رہبرنہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی حکومت کے لئے ایک مجتہد جامع الشرائط اورولی فقیہ کی رہنمائی بہت ضروری ہے اورجب تک رہبرانقلاب اسلامی کی ہدایات اورفرمودات پرتوجہ دیتے رہیں گے نظام اورعوام کا کوئی بھی  کچھ نہيں بگاڑسکے گا ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close