مقالہ جات

عصمت محمدیہ (ص) کے چودھویں ستارے حضرت امام مہدی (عج) کی ولادت با سعادت مبارک

Imam_Mehdi_7پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) نےفرمایا: امام مہدی(عج) کا اصل نام میرے نام کی طرح م.ح.م.د اوران کی کنیت میری کنیت کی طرح ابوالقاسم ہے وہ جب ظہورکریں گے توساری دنیاکو عدل وانصاف سے اسی طرح بھردیں گے جس طرح وہ اس وقت ظلم وجورسے بھری ہوگی ۔
امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سلسلہ عصمت محمدیہ (ص)کی چودھو یں اورسلسلہ امامت علویہ کی بارھویں کڑی ہیں آپ کے والد  ماجد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب نرجس خاتون ہیں۔
آپ اپنے آباوٴاجدادکی طرح امام منصوص ،معصوم ،اعلم زمانہ اورافضل کا ئنات ہیں ۔آپ بچپن ہی میں علم وحکمت اعلی مدارج پر فائزتھے۔
آپ کو پانچ سال کی عمرمیں ویسی ہی حکمت دے دی گئی تھی ،جیسی حضرت یحیی کو ملی تھی اورآپ اپنی مادر گرامی کے بطن میں اسی طرح امام تھے،جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام نبی قرارپائے تھے۔
آپ انبیاء (ع) سے افضل ہیں آپ کے متعلق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار پیشین گوئیاں فرمائی ہیں اوراس کی وضاحت کی ہے کہ آپ حضورکی عترت اورحضرت فاطمةالزہرا کی اولاد سے ہوں گے۔
 آنحضورنے یہ بھی فرمایاہے کہ امام مہدی کا ظہورآخرزمانہ میں ہوگا ۔اورحضرت عیسی ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
آنحضور نے یہ بھی فرمایا: امام مہدی(عج) میرے خلیفہ کی حیثیت سے ظہورکریں گے اور  "یختم الدین بہ کما فتح بنا ” جس طرح میرے ذریعہ سے دین اسلام کا آغاز ہوا ۔ اسی طرح ان کے ذریعہ سے مہراختتام لگادی جائےگی ۔حضور پرنور (ص) نے یہ بھی فرمایا: امام مہدی(عج) کا اصل نام میرے نام کی طرح محمد اوران کی کنیت میری کنیت کی طرح ابوالقاسم ہوگی وہ جب ظہورکریں گے توساری دنیاکو عدل وانصاف سے اسی طرح پرکردیں گے جس طرح وہ اس وقت ظلم وجورسے بھری ہوگی ۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت
مؤرخین کا اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھجری یوم جمعہ بوقت طلوع فجرواقع ہوئی ہے جیسا کہ (وفیات الاعیان ،روضة الاحباب ،تاریخ ابن الوردی ،ےنابع المودة،تاریخ کامل طبری ،کشف الغمہ ،جلاٴالعےون ،اصول کافی ، نور الا بصار ، ارشاد ، جامع  عباسی ، اعلام الوری ، اور انوار الحسینہ وغےرہ میں موجود ہے (بعض علماٴ کا کہنا ہے کہ ولادت کا سن  ۲۵۶ ھج اور ما دہ ٴ تاریخ نور ہے )یعنی آپ شب برات کے اختتام پر بوقت صبح صادق عالم ظھور وشہود میں تشریف  لائے ہیں  ۔
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون کا بیان ہے کہ ایک روز میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاس گئ تو آپ نے فرمایا کہ اے پھوپھی آپ آج ہمارے ہی گھر میں رہئے کیونکہ خداوندعالم مجھے آج ایک وارث عطافرماے گا ۔ میں نے کہاکہ یہ فرزند کس کے بطن سے ہوگا ۔آپ نے فرمایاکہ بطن نرجس سے متولد ہوگا ،جناب حکیمہ نے کہا :بیٹے!میں تونرجس میں کچھ بھی حمل کے آثارنہیں پاتی،امام نے فرمایاکہ اسے پھوپھی نرجس کی مثال مادرموسی جیسی ہے جس طرح حضرت موسی (ع)کاحمل ولادت کے وقت سے پہلے ظاہرنہیں ہوا ۔اسی طرح میرے فرزند کا حمل بھی بروقت ظاہرہوگا غرضکہ میں امام کے فرمانے سے اس شب وہیں رہی جب آدھی رات گذرگئی تومیں اٹھی اورنمازتہجدمیں مشغول ہوگئی اورنرجس بھی اٹھ کرنمازتہجدپڑھنے لگی ۔ اس کے بعدمیرے دل میں یہ خیال گذراکہ صبح قریب ہے اورامام حسن عسکری علیہ السلام نے جوکہاتھا وہ ابھی تک ظاہرنہیں ہوا ، اس خیال کے دل میں آتے ہی امام علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آوازدی :اے پھوپھی جلدی نہ کیجئے ،حجت خداکے ظہورکا وقت بالکل قریب ہے یہ سن کرمیں نرجس کے حجرہ کی طرف پلٹی ،نرجس مجھے راستے ہی میں ملیں ، مگران کی حالت اس وقت متغیرتھی ،وہ لرزہ براندام تھیں اوران کا ساراجسم کانپ رہاتھا ،میں نے یہ دیکھ کران کواپنے سینے سے لپٹالیا ،اورسورہ قل ھواللہ ،اناانزلنا و آیة الکرسی  پڑھ کران پردم کیا  بطن مادرسے بچے کی آواز آنے لگی ،یعنی میں جوکچھ پڑھتی تھی ،وہ بچہ بھی بطن مادرمیں وہی کچھ پڑھتا تھا اس کے بعد میں نے دیکھا کہ تمام حجرہ روشن ومنورہوگیاہے۔ اب جومیں دیکھتی ہوں تو ایک مولود مسعود زمین پرسجدہ میں پڑاہوا ہے میں نے بچہ کواٹھالیا حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آواز دی اے پھوپھی ! میرے فرزند کو میرے پاس لائیے میں لے گئی آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھالیا اوراپنی زبان بچے کے منہ میں دےدی اورکہا کہ اے فرزند !خدا کے حکم سے کچھ بات کرو ،بچے نے اس آیت : بسم اللہ الرحمن الرحیم ونریدان نمن علی اللذین استضعفوا فی الارض ونجعلھم الوارثین  کی تلاوت کی ، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پرجوزمین پرکمزورکردئیے گئے ہیں اور ان کوامام بنائیں اورانھیں کوروئے زمین کاوارث قراردیں ۔
اس کے بعد کچھ سبزطائروں نے آکرہمیں گھیرلیا ،امام حسن عسکری(ع) نے ان میں سے ایک طائرکوبلایا اوربچے کودیتے ہوئے کہا کہ خذہ فاحفظہ الخ  اس کولے جاکراس کی حفاظت کرویہاں تک کہ خدا اس کے بارے میں کوئی حکم دے کیونکہ خدا اپنے حکم کوپورا کرکے رہے گآ میں نے امام حسن عسکری سے پوچھا کہ یہ طائرکون تھا اوردوسرے طائر کون تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ جبرئیل تھے ،اوردوسرے فرشتگان رحمت تھے اس کے بعد فرمایاکہ اے پھوپھی اس فرزند کواس کی ماں کے پاس لے آوتاکہ اس کی آنکھیں خنک ہوں اورمحزون ومغموم نہ ہو اور یہ جان لے کہ خدا کاوعدہ حق ہے  واکثرھم لایعلمون  لیکن اکثرلوگ اسے نہیں جانتے ۔ اس کے بعد اس مولود مسعود کو اس کی ماں کے پاس پہنچادیاگیا آپ مختون اورناف بریدہ پیداہوئے اورآپ کے داہنے بازوپریہ آیت منقوش تھی  جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا  یعنی حق آیا اورباطل مٹ گیا اورباطل مٹ ہی جائے گا
نسیم امروہوی نے اس پر اچھے اشعار کہے ہیں 
چشم وچراغ دیدہٴ نرجس
عین خداکی آنکھ کاتارا
بدرکمال نےمہٴ شعبان
چودھواں اختراوج بقاکا
حامی ملت ماحیٴ بدعت
کفرمٹانے خلق میں آیا
وقت ولادت ماشاء اللہ
قرآن صورت دیکھ کے بولا
جاء الحق وزھق الباطل
ان الباطل کان زھوقا
محدث دہلوی شیخ عبدالحق اپنی کتاب مناقب آئمہ اطہارمیں لکھتے ہیں کہ حکیمہ خاتون جب نرجس کے پاس آئیں تودیکھا کہ ایک مولود پیداہوا ہے ،جومختون اورمفروغ منہ ہے یعنی جس کا ختنہ کیا ہوا ہے اورنہلانے دھلانے کے کاموں سے جومولود کے ساتھ ہوتے ہیں بالکل مستغنی ہے ۔ حکیمہ خاتون بچے کو امام حسن عسکری کے پاس لائیں ، امام نے بچے کولیا اوراس کی پشت اقدس اور چشم مبارک پرہاتھ پھیرا اپنی زبان مطہران کے منہ میں ڈالی اورداہنے کان میں اذان اوربائیں میں اقامت کہی ، کتاب روضةالاحباب اور ینابع المودة میں ہے کہ آپ کی ولادت بمقام سرمن رائے سامرہ میں ہوئی ہے ۔
……………………………..
ملاحظہ ہوجامع صغیرسیوطی ص ۱۶۰ طبع مصرومسند احمدبن حنبل جلد ۱ ص ۸۴ طبع مصروکنوزالحقائق ص ۱۲۲ ومستدرک جلد ۴ ص ۵۲۰ ومشکوة شریف )۔
ملاحظہ ہو صحیح بخاری پ ۱۴ ص ۳۹۹ وصحیح مسلم جلد ۲ ص ۹۵ صحیح ترمذی ص ۲۷۰ وصحیح ابوداؤد جلد ۲ ص ۲۱۰ وصحیح ابن ماجہ ص ۳۴ وص ۳۰۹ وجامع صغےرص ۱۳۴ وکنوزالحقائق ص ۹۰)۔
ملاحظہ ہو جامع صغیرص ۱۰۴ ومستدرک امام حاکم ص ۴۲۲ و ۴۱۵ ،سنن ابن ماجہ اردوص ۲۶۱ طبع کراچی۱۳۷۷ ھج ۔۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close