مقالہ جات

مسجدجمکران کی تعمیر کی داستان

masjid-jamkaranانھوں نے مجھ سے کہا کہ شیخ ا ٹھو تمہیں امام زمانہ علیہ السلام نے اپنے پاس بلایا ہے۔
قم کے نامور عالم دین، حسن بن محمد بن حسن اپنی کتاب تاریخ قم میں شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی کتاب مونس الحزین فی معرفةالحق و الیقین کے حوالہ سے مسجدمقدس جمکران کے وجود میں انے کاواقعہ اس طرح لکھتے ہیں :شیخ صالح وعفیف ،حسن بن مثلہ جمکرانی کابیان  ہے کہ ۳۹۳ہجری قمری میں۱۷ رمضان المبارک کی رات تھی میں اپنے گھرمیں سورہاتھا، آدھی رات گذرنے کے بعدمیرے کانوںمیں کچھ لوگوں کے بولنے کی آوازیں آئیں وہ میرے گھرکے پیچھے کی طرف جمع تھے اورمجھے آوازیں دے رہے تھے جب میں جاگ گیاتو انھوں نے مجھ سے کہاکہ شیخ ا ٹھو تمہیں امام زمانہ علیہ السلام نے اپنے پاس بلایاہے۔شیخ حسن کہتے ہیں کہ میں نے ا ن سے کہاکہ مجھے اتنی مہلت دوکہ میں لباس پہن سکوں،یہ کہہ کرمیں نے قمیص اٹھائی تودروازہ سے آوازآئی ، یہ تمہاری نہیں ہے !لہذا میں نے اسے پہننے کاارادہ ترک کر دیا اورپاجامہ پہننے کے لئے اٹھایاتوپھردروازہ سے وہی ٓاواز آئی کہ یہ تمہارانہیں ہے ،تم ا پناپاجامہ اٹھاؤ! میں نے اسے زمین پرپھینک دیااورایک دوسراپاجامہ اٹھاکرپہن لیا،اس کے بعدمیں دروازہ کاتالاکھولنے کے لئے چابی تلاش کرنے لگاتوپھردروازہ کی طرف مجھے وہی آواز سنائی دی دروازہ کھلاہواہے تم چلے آو! جب میں باہرآیا تووہاں پر بزرگوں کی ایک جماعت کوکھڑاپایا! میں نے انھیں سلام کیاتو سلام کاجواب دینے کے بعدانھوں نے مجھے اس واقعہ پرمبارکباد دی اورمجھے ا س جگہ پرلے کرآئے (جہاں آج مسجدجمکران ہے) میں نے وہاں ایک تخت دیکھاجس پربہترین قسم کاقالین بچھاتھااورایک تقریباتیس سالہ جوان تکیہ پرٹیک لگائے اس پربیٹھاتھا۔ایک بوڑھاآدمی انھیں ایک کتاب میں سے کچھ پڑھ کرسنارہاتھا تقریباساٹھ آدمی جن میں سے کچھ سفیداورکچھ سبزلباس پہنے ہوئے تھے اس جگہ کے اطراف میں نماز پڑھ رہے تھے۔اس بوڑھے شخص نے مجھے اپنے برابرمیں جگہ دی اوراس نورانی جوان نے میراحال احوال پوچھنے کے بعدمجھ سے میرا نام لے کرکہا (بعدمیں معلوم ہواکہ وہ بوڑھے شخص حضرت خضرعلیہ السلام اوروہ جوان حضرت امام زمانہ علیہ السلام تھے) کہ تم حسن بن مسلم کے پاس جاؤ اوراس سے کہنا کہ تم پانچ سال سے اس زمین کوکھیتی کے لئے تیارکرتے ہواورہم اسے خراب کردیتے ہیں اس سے کہناکہ تمہارااس سال بھی اس میں کھیتی کرنے کاارادہ ہے جبکہ تمہیں ایساکرنے کاحق نہیں ہے۔ تم کئی سال سے یہاں کھیتی کر رہے ہو لہذا اس سے ہو نے والا فائدہ لوٹادوتاکہ اس زمین پرایک مسجدبن سکے ۔اس کے بعدفرمایاکہ حسن بن مسلم سے یہ بھی کہناکہ یہ مقدس زمین ہے جسے اللہ نے تمام زمینوں کے درمیان سے منتخب کیاہے اورتونے اس زمین کواپنی زمینوں میں ملالیا ہے اللہ کے اس جرم کی سزانے تیرے دوبیٹوں کوتجھ سے چھین لیا،لیکن تواس پربھی بےدارنہیں ہوا،اگرتونے یہ کام پھرکیاتواللہ کی طرف سے ایسی سزاملے گی جس کاتوتصوربھی نہیں کرسکتا۔حسن بن مثلہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیاکے مولامجھے کوئی ایسی نشانی دیدیجئے کہ لوگ میری بات پریقین کرلیں۔حضرت امام مہدی علیہ السلام نے فرمایاکہ ہم اس جگہ پرایسی نشانی چھوڑیں گے کہ لوگ تمہاری بات کی تصدیق کریں گے تم سے جوکہاگیاہے تم اس کوانجام دوتم سیدابوالحسن کے پاس جاؤاوران سے کہوکہ وہ حسن بن مسلم کوحاضرکریں اوراس سے اس فائدہ کی رقم کولےجواس نے کئی سال سے اس زمین سے کمائ ہے اوراس رقم کولوگوںمیں بانٹ دوتاکہ وہ مسجدکوبناناشروع کریں باقی خرچ رہق نامی جگہ کی آمدنی سے پوراکیاجائے گا جوکہ اردھال کے ذریعہ ہماری ملکیت ہے ۔ہم نے رہق کی آدھی آمدنی اس مسجدکوبنانے کے لئے وقف کردی ہے،تاکہ ہرسال اس کی پیداوارکواس مسجدکی عمارت بنانے اسے آبادکرنے اور اس سے متعلق دوسرے کاموں میں خرچ کیاجاسکے۔اس کے بعدامام علیہ السلام نے فرمایاکہ لوگوں سے کہوکہ وہ اس جگہ کومحترم ومقدس مانیں اوریہاں آکر چاررکعت نمازپڑھیں۔پہلی دررکعت نمازتحیت کی نیت سے اس طرح پڑھیں کہ ہررکعت میں حمدکے بعدسات مرتبہ سورہ توحیدپڑھیں اوردونوں رکعتوں میں ذکررکوع وسجود سات سات مرتبہ پڑھیںدوسری دورکعت نماز،نمازامام زمانہ کی نیت سے اس ترتیب سے پڑھے کہ ہررکعت میں سورہ حمدپڑھتے وقت جب ایاک نعبدوایاک نستعین پرپہونچے تواس آیت کوسوبارپڑھے پھرباقی حمدپڑھ کرایک بارسورہ توحیدپڑھے اوردونوں رکعت میں ذکررکوع وسجودسات بارپڑھے نماز تمام کرنے کے بعدایک بار لاالہ الا اللہ کہے اورحضرت زہراسلام اللہ علیہاکی تسبیح ۳۴باراللہ اکبر۳۳مرتبہ الحمدللہ اور۳۳بارسبحان اللہ پڑھ کر سجدہ کرے اورسجدہ میں سو بارصلوات پڑھے ۔اس کے بعدحضرت نے فرمایا کہ اس نماز کاپڑھنا،کعبہ میں نماز پڑھنے کے مانندہے۔حسن بن مثلہ کاکہناہے کہ جب میں نے یہ بات سنی تواپنے آپ سے کہاکہ گویایہ جگہ موردنظرحضرت ہے لہذا یہان پر امام زمانہ (ع) پر عظمت مسجد ہوگی۔ اس کے بعدامام زمانہ علیہ السلام نے مجھے چلے جانے کااشارہ کیا۔میں وہاں سے چلنے لگاابھی کچھ ہی دورگیاتھاکہ حضرت نے مجھے دوبارہ آوازدی اورفرمایاکہ جعفرکاشانی چوپان (بھیڑ، بکریاں پالنے اورچرانے والا) کے ریوڑ میں جاو ہاں ایک بکری ہے اگرلوگ اس کی قیمت دیں توان کے پیسہ سے اوراگرنہ دیں تواپنے پیسہ سے خریدنااوربدھ کے دن اٹھارہ رمضان المبارک کواسے یہاں لاکرذبح کرنااوررمضان المبارک کی انیسویں رات میں اس کا گوشت بیماروں اورمصیبت زدوں کے درمیان تقسیم کردینا،اللہ ان سب کوشفا عطاکرے گااس بکری کی نشانی یہ ہے کہ وہ کالے اورسفیدرنگ کی لمبے بالوں والی ہے اس کے بدن پرسات کالے وسفیددھبے ہیں جن میں تین بدن کے ایک طرف وچار بدن کے دوسری طرف ہیں اوران میں سے ہرایک دھبہ ایک درہم کے برابرہے ۔حسن بن مثلہ کہتاہے کہ میں گھرواپس آیااوراورباقی رات اس واقعہ کے بارے میں سوچتارہا۔جب صبح ہوئی تونمازپڑھنے کے بعد علی بن منذرکے پاس گیااوراس سے پوراواقعہ بیان کیااوراس کے ساتھ اس جگہ پرگیاجہاں رات مجھے لے جایاگیاتھا۔حسن بن مثلہ اپنی بات پوری کرتے ہوئے کہتاہے کہ اللہ کی قسم ہم نے دیکھاکہ حضرت نے جو نشانیاں وہاں چھوڑی تھیں ان میں کیلیں اورزنجیریں تھیں جس سے مسجدکی حدودکوگھیرا گیاتھا۔اس کے بعدہم دونوں سیدابوالحسن رضا شاہ کے گھرکی طرف چل دیے جب ہم اس کے دروازہ پرپہونچے تواس کے نوکروں کوکھڑادیکھاانھوں نے ہمیں دیکھ کر کہا کہ کیاتم جمکران کے رہنے والے ہو؟ ہم نے جواب دیا ہاں ! انھوں نے کہاکہ سید ابو الحسن صبح سے تمہارا ہی انتظارکررہے ہیں۔اس کے بعدہم گھرمیں داخل ہوئے سیدکوسلام کیاانھوں نے مجھ سے کہاائے حسن بن مثلہ : میں نے رات خواب میں دیکھاکہ کسی نے مجھ سے کہاکہ صبح کوتمہارے پاس جمکران کارہنے والاحسن بن مثلہ آئے گ اوہ تم سےجو کہے اس کی بات کی تصدیق کرناکیونکہ اس کی بات ہماری بات ہے اس کی بات کوہرگز رد نہ کرنایہ دیکھ کرمیری آنکھ کھل گئی اوراس وقت سے اب تک آپ ہی کاانتظارکررہاہوں۔ اس کے بعدحسن بن مثلہ نے رات کے پورے واقعہ کوبیان کیاسیدنے اپنے نوکروںکوگھوڑے تیارکرنے کاحکم دیااوران پرسوارہوکراس جگہ کی طرف چل پڑے۔ جمکران کے پاس راستے میں انھیں جعفرچوپان کاریوڑملا،حسن بن مثلہ اس ریوڑمیں اس چتلی بکری کوڈھونڈنے لگاجس کے بارے میں حضرت نے فرمیاتھا۔ وہ بکری ریوڑکے پیچھے تھی جیسے ہی اس کی نگاہ حسن بن مثلہ پرپڑی وہ تیزی سے اس کے پاس آئی حسن اسے پکڑکرجعفرکے پاس لایااوراس سے اسے خریدناچاہا،جعفرکاشانی نے قسم کھاکرکہامیں نے آج سے پہلے اس بکری کوکبھی اپنے ریوڑمیں نہیں دیکھا،آج جب میں نے اسے اپنے ریوڑکے پیچھے چلتے دیکھاتواسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن نہیں پکڑ سکا۔میرے لئے یہ بات بہت تعجب کی ہے کہ تمہارے پاس یہ خودکیسے آئی ؟اس کے بعد وہ لوگ بکری کولیکر مسجدکی جگہ پر آئے اوراس کو ذبح کرکے حضرت کے حکم کے مطابق اس کا گوشت مریضوں میں تقسیم کردیا۔اس کے بعد سید نے حسن بن مثلہ کو بلایااوراس سے زمین کی کئی سال کی آمدنی کووصو ل کیا اوررھق نامی جگہ کی پیداوار کی آمدنی میں ملا کر اس سے مسجد جمکران کی تعمیرکرا کراس پرلکڑی کی چھت ڈالی۔ سید ان کیلوں وزنجیروں کو اپنے گھرقم لے گئے اس واقعہ کے بعدسے جب کوئی بیمار ہوتاتھاتو اپنے آپ کو ان زنجیروں سے مس کرتاتھا اور اللہ اسے شفا دیدیتا تھا۔ابوالحسن محمدبن حیدرکہتاہے کہ میں نے سناہے کہ جب سیدابو الحسن کاانتقال ہوگیاتو انھیں موسویان نامی جگہ پردفن کیاگیا۔ان کے مرنے کے بعدجب ان کا ایک بیٹابیمارہواتووہ اس صندوق کے پاس گیاجس میں وہ زنجیراورکیلیں رکھی ہوئیں تھیں لیکن جیسے ہی اس نے اس صندوق کوکھولا اس سے کیلیں اورزنجیریں لاپتہ تھیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close