ایران

نیویارک ، صدر احمدی نژاد کا تاریخی خطاب

shiite_ahmedi_nejadاسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے نیویارک میں این پی ٹی معاھدہ جائزہ کانفرنس میں این پی ٹی معاھدہ کر دی این پی ٹی یعنی ترک اسلحہ اور عدم پھیلاو معاھدے میں تبدیل کرنے کی پیشکش کی ہے۔ڈاکٹر احمدی نژاد نے این پی ٹی معاھدہ کی شق نمبرچھے پرعمل درامد کےلئے لائحہ عمل مرتب کرنے اور ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کےلئے باقاعدہ نظام الاوقات بنائے جانے پرزوردیاہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے اپنے خطاب میں تجویزدی ہےکہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری، ترقی اور ایٹمی تنصیبات کی تعمیر پرپابندی لگائي جائے۔  انہوں نے کہا کہ ایٹمی ہتھیار جمع کرنے، ان کو مزید ماڈرن بنانے، ان کے پھیلاؤ ، ان کو محفوظ رکھنے نیزان کے استعمال سے روکنے کے امور پرباقاعدہ قانون سازی کی جائے ۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے یہ بات زوردیکر کہی ہےکہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے والے ملکوں کی رکنیت آئي اے ای اےسے ختم کردی جائے اور کیونکہ ان طاقتوں کے دباؤ کی وجہ سے این پی ٹی کی شق چار اور چھے پرعمل درآمد نہیں ہوسکا ہے ۔ ایران کےصدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے امریکہ کا نام لیتےہوئے کہا کہ اس ملک نے نہ صرف جاپان کے خلاف ایٹم بم استعمال کئےہیں بلکہ عراق میں بھی غیر افزودہ یورینیم کا استعمال کیا ہے۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے اقوام متحدہ میں این پی ٹی معاھدہ کی جائزہ کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایسے تمام ممالک سے ایٹمی شعبے میں تعاون ختم کردینا چاہیے جو این پی ٹی کے رکن نہیں ہيں  اسی طرح این پی ٹی کے وہ رکن ممالک جو این پی ٹی پردستخط نہ کرنےوالے ملکوں سے ایٹمی تعاون کررہےہیں ان کےخلاف باقا‏عدہ تادیبی اقدامات کئےجانے چاہیں۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا کہ کسی ملک کی ایٹمی تنصیبات پرحملے کو عالمی امن و سلامتی کے خلاف اقدام قراردیا جائے اور اقوام متحدہ اس سلسلےمیں اپنا رد عمل فورا ظاہرکرے اور این پی ٹی کے رکن ممالک بھی ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے والے یا اسکی دھمکی دینے والے سے ہرقسم کے تعاون کو فوری طورپرختم کردیں۔ صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے جرمنی ، اٹلی ، جاپان اور ہالینڈ میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے فوری طورپرایٹمی اسلحوں کے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹراحمدی نژاد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاح پرزوردیتےہوئے کہا کہ موجود ڈھانچہ ناانصافی پرمبنی اور ناکارہ ہے اوریہ ایٹمی ہتھیاررکھنے والے ممالک کا سب سے بڑا حامی ادارہ بن چکاہے ۔ صدراحمدی نژاد نے سکیورٹی کونسل کے ڈھانچے اور این پی ٹی کی تکمیل وترمیم کو ایک دوسرے کےلئےلازم و ملزوم قراردیا۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے سیکیورٹی کونسل کے یکطرفہ فیصلوں، دوغلی پالیسیوں اور اس عالمی ادارے کا بعض طاقتوں کا آلہ کار بن چانے کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ سیکیورٹی کونسل کے رویے سے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں میں اضافہ ہواہے اور غاصب صیہونی حکومت جس پاس سیکڑوں ایٹمی وارھیڈس موجود ہیں امریکہ اور اس کےاتحادی اس کی مسلسل حمایت کررہےہیں۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے یہ بات زوردیکر کہی کہ جوطاقتیں اسرائيل کی حمایت کرتی ہیں وہ غلط اطلاعات کےبل بوتے پربعض ملکوں کو مورد الزام ٹہراتی ہیں کہ ان کا ایٹمی پروگرام قانون کے مطابق نہيں ہے ۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ بعض رپورٹوں کےمطابق دنیامیں بیس ہزار ایٹمی وارہیڈس ہیں جن میں نصف امریکہ کے پاس ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close