ایران

دہشتگرد عبدالمالک ریگي کو پھانسی دیدی گئ

Rigiجنداللہ نامی دہشتگرد گروہ کے سرغنے عبدالمالک ریگي کو آج صبح پھانسی کے تختے پرلٹکادیا گیا ۔ دہشتگرد عبدالمالک ریگي کو انقلاب اسلامی عدالت کے حکم سے پھانسی پرلٹکاگیا۔ عبدالمالک ریگي کو اسلامی قوانین کے مطابق اناسی جرائم میں ملوث پایا گيا تھا۔ اس دہشتگرد کو اس کے ہاتھوں شہیداور زخمی ہونےوالے افراد کے  اھل خانہ کے سامنے تختہ دار پرلٹکایا گيا۔ عبدالمالک ریگي انقلاب مخالف دہشتگرد گروہ کا سرغنہ تھا جو اسلامی جمہوریہ ایران کے مشرقی علاقے میں بدامنی پھیلارہاتھا۔عبدالمالک ریگي کے دہشتگرد گروہ کو مسلحانہ ڈکیتی، پبلک مقامات پربم دھماکوں، پولیس، فوج اور عام شہریوں کے قتل عام  تباہی و غارتگری ، غنڈہ ٹیکس اوربھتہ وصولی عوام میں خوف وہراس اور رعب  و وحشت پھیلانے، اغوا برائے تاوان  ، اور ملک کے دشمنوں سے تعاون کرنے اور ان سے انٹلجنس اور مالی مدد لینے کا مجرم قراردیا گیا عدالت نے اس پرملک کے خلاف جنگ چھیڑنے اورفتنہ وفساد پھیلانے کا بھی مجرم قراردیا ۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ دئے جانے کے بعد دہشتگرد عبدالمالک ریگي کو اس فیصلےسے آگاہ کیا گيا اور اس نے کہا وہ عدالت کے حکم کو تسلیم کرتاہے۔ اسے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل تھی اور امریکہ نے اسے اسلامی جمہوریہ ایران میں بدامنی پھیلانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ دہشتگرد عبدالمالک ریگي کے اعترافات اسلامی جمہوریہ ایران کے ٹی وی سے دستاویزی فلم کی صورت میں نشر کئے گئےہیں۔ اس نے تمام ترجرائم کا اعتراف کیا ہے اس نے اپنے اعترافات میں یہ بھی بتایاکہ اسے امریکہ اورنیٹو کی طرف سے مکمل فوجی اوراسلحہ جاتی حمایت حاصل تھی عبدالمالک ریگی کوسال رواں کے فروری مہینے میں اس وقت ایران کی انٹلیجنس کی  وزارت کے جانبازوں دبوچ لیا تھا جب وہ امریکہ کی سرپرستی میں افغانستان کے شہر قندھار سے دوبئي پہنچا اوروہاں سے وہ بذریعہ طیارہ قرقیزستان جارہا تھا جہاں اسے مناس امریکی فوجی اڈے میں  پاکستان اورافغانستان کے امورمیں امریکہ کے خصوصی ایلچی ریچرڈ ہالبروک سے ملاقات کرنا تھی ۔ایران کی انٹلیجنس اہلکاروں نے قرقیزستان کے طیارے کو ایران کی ہی فضائی حدود میں گھیرکر ایران کے ساحلی شہر بندر عباس کے ہوائي اڈے پراتارا اورعبدالمالک ريگي کوفاتحانہ اندازميں گرفتار کیا ۔ایرانی اینٹلیجنس کی اس شاندارکامیابی پر امریکہ اورینٹوکے ہاتھ طوطے اڑگئے تھے جواپنی سرپرستی ميں ریگی کوایک ملک سے دوسرے ملک کا سفرکرایا کرتے تھے ۔اس کی گرفتاری پرایران اورخاص طورپرجنوب مشرقی صوبہ سیستان وبلوچستان میں بڑے پیمانے پرجشن منایا گیا جس میں بلوچ قوم پیش پیش تھی ۔ اس کی گرفتاری پرصوبہ کے بلوچ قبائل کے سرداروں نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ عبدالمالک ریگی کی گرفتاری ہم سب  کی بڑی کامیابی ہے۔ ان بلوچ سرداروں نے سے عبدالمالک ریگی  سے اپنی بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریگي تمام بلوچوں کے لئے کلنک بن گیا تھا اوروہ پوری بلوچ قوم کوبدنام کررہا تھا ۔ ان بلوچ سرداروں نے اپنے بیانات میں صاف لفظوں میں کہا تھا کہ مغربی ذرائع ابلاغ کا یہ پروپیگنڈہ کہ وہ بلوچ قوم کے حقوق کے لئے لڑرہا ہے فریب ودھوکہ ہے کیونکہ اس نے جتنی تعداد میں شیعہ مسلمانوں کوشہید کیاک ہے اس سے کہیں زیادہ اس نے بلوچ سنی مسلمانوں کوشہید کیا ہے ریگی کے دہشت گرد گروہ نے جہاں زاہدان میں مسجد علی ابن ابیطالب میں نمازکے دوران خودکش دھماکہ کراکے دسیوں شیعہ نمازیوں شہید کیا تھا وہيں اس کے کچھ مہینوں بعد ایران کے ہی جنوب مشرقی علاقے سربازمیں ایک بلوچ سنی مسلمانوں کے قبائل کے سرداروں کے سمینار پرخود کش حملہ کرکے دسیوں بلوچ سنی مسلمانوں کوشہید کیا تھا  بنابریں اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہيں بلکہ وہ امریکہ کا ایجنٹ اورایک بڑا دہشت گرد ہے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close