ایران

مہمان صدور کی رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات

Khamenei-meeting-Afghan-and-Tajik-Presidentرہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ ا لعظمی خامنہ ای نے فرمایا ہےکہ افغانستان میں بیرونی طاقتوں کی موجودگی شر وفساد کے علاوہ کسی اور بات کا باعث نہیں بنی ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے جمعرات کی شام کو افغانستان اور تاجیکستان کے صدور سے ملاقات میں افغانستان میں بیرونی طاقتون کی فوجوں کی موجودگي کے نتیجے میں افغان عوام کے مصائب پر شدید دکھ کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ بیرونی طاقتیں امن و امان اور جمہوریت  کی برقراری کے نعروں کے ساتھ افغانستان آئي تھیں اور اب عام شہریوں کو نشانہ بنارہی ہیں اور ان کی موجودگي سے افغان عوام کو بدامنی کے علاوہ کچھ نہیں ملا ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے افغانستان پرحملے اور ایران پردباو کے لئے بڑی طاقتوں کے استدلال کو جھوٹ قراردیا اور کہا کہ یہ طاقتیں کبھی نہ ختم ہونے والے اپنے مفادات اور لالچ کی بناپر علاقے میں موجود ہیں لیکن علاقے کے موجودہ حالات اور ان طاقتوں کی توانائی میں ماضی کی نسبت بہت زیادہ تبدیلی آئي ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ آج کا امریکہ بیس برس پہلے کے امریکہ سے بہت مختلف ہے کیونکہ مختلف طرح کے مسائل جیسے اسلامی بیداری نے اس کی توانائيوں کو محدود کردیا ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں تینوں ملکوں کے بے پناہ مشترکہ امور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان و تاجیکستان میں کی ترقی اور امن وسلامتی ایران کے مفاد میں ہے اور ایران کی پیشرفت اور امن وامان بھی یقینا علاقے کے ملکوں کے فائدے میں ہے۔ آپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کی سائنسی و ٹکنالوجیکل پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران مختلف سائنسی اور ٹکنالوجیکل شعبوں میں اپنی ترقی کے تجربات سے تاجیکستان اور افغانستان کو فائدہ پہنچانے کےلئے آمادہ ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے تعاون کے سلسلےمیں اشتراکات کو نہایت ضروری قراردیا اور کہا کہ دنیا میں ایران تاجیکستان اور افغانستان کی طرح کوئي بھی ملک زبان، دین ، ہمسائیگي ، ثقافت اور تاریخی لحاظ سے مشترکات کا حامل نہیں ہے۔ اس ملاقات میں افغانستان کے صدر حامد کرزئي اور تاجیکستان کےصدر امام علی رحمان نے تینوں ملکوں کے تعاون پرزور دیا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close