ایران

پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کے لئے شیعہ مرجعیت کا پیغام

Grand-Shia-Clericsحضرات آیات عظام صافی گلپائگانی اور موسوی اردبیلی نے پاکستان میں سیلاب کی وسیع تباہ کاریوں کی مناسبت سے تعزیتی پیغام جاری کرکے سیلاب زدہ پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کی امداد اور جلد از جلد بحالی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمی سید عبدالکریم موسوی اردبیلی اور حضرت آیت اللہ العظمی لطف اللہ صافی گلپائگانی نے اپنے الگ الگ پیغامات میں پاکستان میں رونما ہونے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصانات اور کروڑوں پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کے بے گھر ہونے پر افسوس ظاہر کیا  اور سیلاب زدگان کے لئے تیزرفتار امداد رسانی کی ضرورت پر زور دیا۔
حضرت آیت اللہ العظمی سید عبدالکریم موسوی اردبیلی کے پیغام کا متن:
بسم الله الرحمن الرحیم و به نستعین و صلی الله علی سیدنا محمد وآله الطیبین الطاهرین
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
پاکستان میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد ایمانی بھائیوں اور بہنوں کے جان بحق ہونے اور دو کروڑ سے زائد افراد کے بےگھر ہونے جیسے حوادث شدید صدمے کا باعث ہوئے؛ افسوس ہے کہ اس حادثے میں ـ جس کی حدود مسلسل بڑھ رہی ہیں ـ لوگوں کی ایک بڑی تعداد جان بحق ہوگئی ہے اور کئی ہزار افراد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ان سے بھی زیادہ تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور اپنا ساز و سامان کھو گئے ہیں۔
میں رب جلیل سے زخمیوں کے لئے شفائے عاجلہ اور صحت کاملہ، گھر اور مال و اسباب کھونے والے افراد کے لئے وسعت رزق اور جاں بحق ہونے والوں کے لئے مغفرت اور ان کے پسماندگان کے لئے صبر جمیل اور اجر جزیل کی دعا کرتا ہوں۔
دنیا کے تمام شیریں اور تلخ واقعات دنیا کے اس گھرمیں اللہ کی آزمائشات میں سے ہیں جو انسان کے درجات و مراتب کی ترقی و ارتقاء کا سبب بنتے ہیں یا خدا نخواستہ بعض لوگوں کی منزلت و حیثیت گھٹ جانے کا وسیلہ بنتے ہیں۔
پاکستان سمیت بعض دیگر بلاد میں بھی انسانوں کے جان و مال خطرے میں ڈال دینے والا سیلاب بھی بے شک ابتلا اور آزمائش کی سنت الہیہ سے الگ نہیں ہے؛ اب ماہ رمضان کے ابتدائی ایام میں ہم سب عظیم آزمائش میں مبتلا ہیں۔ خداوند رحمن، انبیاء و رسل  نیز شہداء کی ارواح ہمارے اعمال کی نگران و ناظر ہیں؛ جیسا کہ خداوند متعال نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
"اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ”   "توبه / 105
۔([جو چاہو] کرو [یاد رکھو] كہ بہت جلد خدا، رسول خدا (ص) اور مؤمنین تمہارے اعمال کا محاسبہ کریں گے)۔
وہ دیکھیں گے کہ کیا ہم اپنے ہم نوعوں کے مصائب پر مغموم ہیں یا نہیں؟ کیا ہم اپنے وسائل اور اپنی قوت سے انہیں امداد پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں؟ یا خدا نخواستہ ہمیں ان سے ہمدردی نہیں ہے اور ان کے ساتھ تعاون نہیں کررہے؟ مبادا کہ ہم ان سے ہمدردی اور تعاون نہ کریں۔
یہ حدیث شریف نبوی کہ «من اصبح و لم یهتم بامور المسلمین فلیس بمسلم» (جو شخص صبح کرے اور مسلمانوں کے امور کو اہمیت نہ دے (اور ان کے امور کی انجام دہی کا اہتمام نہ کرے) وہ مسلمان نہیں ہے؛ (ثقۃالاسلام محمد بن یعقوب کلینی رازی، اصول کافی، دار الکتب الاسلامیۃ، ج 2، ص 163، حدیث 1) ہم سب کے لئے ایک انتباہ ہے کہ ہمیں ہر وقت ـ خاص طور پر اس وقت پاکستان کی موجودہ دشوار صورت حال میں ـ دوسروں کے بارے میں سوچنا چاہئے۔
ہم احادیث شریفہ سے سیکھتے ہیں کہ یہ احساس نہ صرف مسلمانوں کے غم و مصائب میں ہم میں موجود ہونا چاہئے بلکہ مسلمانوں کو دنیا میں کسی بھی محتاج شخص کے سلسلے میں خاموش تماشائی نہیں بننا چاہئے۔
اس وقت ہم روزہ داری میں مصروف ہیں اور ماہ مبارک رمضان کی شب زندہ داریوں کے لئے تیاری کررہے ہیں ہمیں سیلاب زدگان اور مصیبت زدہ انسانوں کو ـ اپنی طاقت اور وسائل کی حدود میں رہتے ہوئے ـ امداد رسانی کے سلسلے میں اپنی مذہبی، دینی اور انسانی ذمہ داریوں سے غفلت نہیں برتنی چاہئے اور اپنے فریضے پر عمل کرتے ہوئے ہمیں اپنے آپ کو اللہ تعالی کے خاص الطاف و مراحم کا مستحق بنانا چاہئے۔
دنیا کی حکومتوں، بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر عام طور پر اور اسلامی ممالک و اسلامی کانفرنس تنظیم پر خاص طور پر، سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان کی مظلوم اور مصیبت زدہ قوم اور دنیا کے دیگر مصیبت زدہ انسانوں، کے حوالے سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؛ اور ہمیں امید ہے کہ وقت ضائع کئے بغیر اپنا کردار ادا کریں؛ لیکن اگر اس ذمہ داری پر ان کا عمل کافی اور وافی نہ ہو تو دوسروں کی ذمہ داریاں ساقط نہیں ہوتیں اور جب تک امداد رسانی اور دیگر اقدامات ضرورت کے مطابق نہ ہوئے ہونگے عام مؤمنین پر واجب ہے کہ وہ اپنی طاقت کے دائرے میں امداد رسانی کریں اور اس سلسلے میں وہ متعلقہ قواعد کے دائرے میں وجوہ شرعیہ (سہم امام (ع)، زکاة و صدقات) سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں اور انشاء اللہ انہیں اس سلسلے میں وجوہ شرعیہ خرچ کرنے کا اجر ملے گا اور بری الذمہ ہونگے؛ اور اس الہی فریضے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں، العیاذباللہ القدیر، عِقابِ خداوندی کے مستحق ہونگے۔
میں عالم اسلام کے علماء، فضلاء اور ائمۂ جمعہ و جماعت،کی نسبت اپنی عقیدت کا اظہار کرتا ہوں اور ماہ مبارک رمضان کے ان روحانی ایام میں ان سے دعائے خیر کی درخواست کرتا ہوں اور اپیل کرتا ہوں کہ رمضان کے خطبوں اور مواعظ کے ضمن میں ہم عقیدہ انسانوں کے سامنے مسلمانوں کے فرائض اور ذمہ داریوں کی تشریح کریں انہیں ان کے اخلاقی عہد و پیمان اور انسانی ذمہ داریوں کی یادآوری کرائیں اور اپنے مخاطَبین کو پاکستان اور ہمسایہ ممالک میں سیلاب زدہ مسلمانوں کے ساتھ تعاون کرنے اور انہیں امداد پہنچانے کی ترغیب دلائیں۔
غفر الله لنا و لکم
سید عبدالکریم موسوی اردبیلی
سوئم رمضان المبارک 1431
آیت الله العظمی شیخ لطف الله صافی گلپائگانی کا فتوی
ادھر پاکستان میں تباہ کن سیلاب کی مناسبت سے حضرت آیت اللہ العظمی لطف اللہ صافی گلپائگانی کے دفتر نے صدمہ برداشت کرنے والے پاکستانی خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس مرجع تقلید نے اس انسانی عمل کی انجام دہی کے لئے ایک تہائی سہم امام (ع) خرچ کرنے کی اجازت دے دی ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ "مؤمنین اپنا امدادی ساز و سامان قابل اعتماد راستوں سے سانحے کا شکار ہونے والے مسلمانوں کے لئے ارسال کریں”۔
مآخذ: ابنا

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close