مقالہ جات

رمضان ، توبہ ومغفرت کا مہینہ

qaedرمضان کے بابرکت ایام بڑی تیزی کے ساتھ گزر رہے ہیں ۔ یہ رمضان المبارک کا تیسرا اور آخری عشرہ ہے ۔ شب قدر اسی عشرے میں ہے۔ ان ایام میں دنیا جہاں کے مسلمان معنویت سے بھر پور گرانقدر دن رات گزار رہے ہیں۔ ان ایام سے اگر ٹھیک ٹھیک فائدہ اٹھایا جاۓ تو روزہ داروں کی زندگیوں میں اس کے حیرت انگیز اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ بلا شبہ رمضان المبارک میں ایک اہم ترین عمل توبہ و استغفار ہے ۔ توبہ کے معنی خدا تعالی کی جانب لوٹنے کے ہیں ۔ اس بابرکت مہینے کو توبہ کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کچھ عرصہ قبل اسلامی  جمہوریہ ایران کے حکام اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوۓ فرمایا تھا کہ ” رمضان المبارک کے لۓ بیان شدہ جن صفات نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے وہ یہ ہے کہ اس مہینے کو شھرالتوبہ و الانابہ یعنی توبہ اور خدا کی جانب لوٹنے کا مہینہ قرار دیا گيا ہے ۔ توبہ کے معنی کسی غلط کام اور غلط افکار سے لوٹنے اور انابہ کے معنی خدا تعالی کی جانب پلٹنے کے ہیں ” ۔
رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ایسی غلط سوچ اور کام کو گناہ قرار دیتے ہیں جس کو چھوڑ کر خدا تعالی کی جانب واپس لوٹنا ضروری ہوتا ہے۔ انسان کے جسم اور روح پر گناہ کے متعدد ناخوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گناہ انسان کی معنوی ترقی و پیشرفت کے سدراہ ہوتا ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی انسان کے لۓ مرتب ہونے والے گناہ کے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوۓ فرماتے ہیں۔
” خدا تعالی نے اپنے بندوں کے لۓ توبہ کا دروازہ کھولا ہے تاکہ وہ کمال کے مراحل طے کرسکیں اور گناہ ان کے سدراہ نہ ہو۔ گناہ انسان کو انسانیت کے اعلی مرحلے سے نیچے گرا دیتا ہے۔ ہر گناہ انسان کی روح اور معنویت کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کی روح کی شفافیت کو ختم کردیتا ہے۔ گناہ انسان میں موجود معنوی پہلو کو ، کہ جس کی وجہ سے انسان اس عالم مادی کی دوسری مخلوقات سے ممتاز ہوتا ہے، ختم اور نابود کردیتا ہے۔ اور انسان کو حیوانات اور جمادات سے قریب تر کردیتا ہے۔ "
رہبر انقلاب اسلامی گناہ کے منفی اثرات کے خاتمے میں توبہ کے کردار کو بیان کرتے ہوۓ فرماتے ہیں :
” اگر آپ لوگ کسی گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں تو اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ آپ نے اپنے بدن کو زخمی کر کے کوئي جراثیم اپنے بدن میں داخل کردیا ہو۔ اس صورت میں تمہارا بیمار ہونا ناگزیر ہے۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اس زخم اور اس بیماری کے اثرات تمہارے بدن سے ختم ہوجائيں تو خدا تعالی نے اس کے لۓ ایک دروازہ تمہارے لۓ کھولا ہے جو توبہ اور خدا تعالی کی جانب بازگشت کا دروازہ ہے ۔ اگر تم لوگ واپس پلٹ آۓ تو خدا تعالی تمہارے گناہ کے اثرات ختم کردے گا۔ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جو خدا تعالی نے ہمیں عطا فرمائي ہے۔ "
رہبر انقلاب اسلامی اس بات پر تاکید کرتےہیں کہ توبہ کی رسی کے ذریعے گناہ کے دلدل میں پھنسنے سے بچا جاسکتا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ انسان کے لۓ واپسی کا کوئي راستہ باقی نہیں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ اگر تم نے کوئي گناہ کیا ہو تو فورا توبہ کرلو اور اس گناہ کو دوبارہ انجام نہ دو۔
رہبر انقلاب اسلامی توبہ کو خدا تعالی کے عفو و درگذر کی جانب کھلا ہوا ایک دریچہ قرار دیتےہیں ۔ اور اس کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں:
” اگر بندوں کی جانب سے توبہ کرنے اور خدا تعالی کی جانب سے توبہ کے قبول کۓ جانے کا سلسلہ نہ ہوتا تو ہم لغزش اور سنگین گناہوں کے اثرات سے کس طرح نجات حاصل کرسکتے ۔ "
حضرت آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای نے توبہ کو اہمیت دینے کی تاکید کی ہے ۔ توبہ صرف ایک انفرادی عمل نہیں ہے بلکہ بعض اوقات اجتماعی توبہ بھی ضروری ہوتی ہے ۔ اور سب کو مل کر غلط راستے سے واپس پلٹنا ہوتا ہے۔ مثلا بعض اوقات کسی جماعت ، تحریک یا حتی ملت کے لۓ اپنی راہ و روش اور پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ضروری ہوجاتا ہے ۔
ایک اور بات جس کی رہبرانقلاب اسلامی نے تاکید کی ہے وہ یہ ہے کہ توبہ و استغفار سب کے لۓ ہے۔ مطلب یہ کہ تمام انسانوں کو حتی انبیاۓ کرام ع اور اولیاۓ عظام کو بھی توبہ اور خدا تعالی کی جانب بازگشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ اس سلسلے میں فرماتے ہیں:
” سب کے لۓ استغفار ہے۔ پیغمبر اکرم ص جیسی عظیم ہستی بھی استغفار کرتی تھی۔ ہم اپنے عام گناہوں اور اپنے اندر موجود حیوانی رجحانات کے پیش نظر استغفار کرتے ہیں۔ لیکن بعض افراد کے گناہ ایسے نہیں ہوتے ہیں۔ بلکہ وہ ترک اولی کی بناء پر توبہ و استغفار کرتےہیں۔ اور بعض ہستیاں ترک اولی کا ارتکاب بھی نہیں کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ بھی استغفار کرتی ہیں۔ اور یہ استغفار پروردگار کی ذات مقدس کے کمال کے سامنے ممکن الوجود انسان کی ذات میں موجود نقص کی بناء پر ہوتا ہے۔ اولیاۓ عظام اس طرح کا استغفار کرتے ہیں۔ "
توبہ و استغفار کے بہت زیادہ فوائد ہوتے ہیں۔ رہبرانقلاب اسلامی اس سلسلے میں فرماتے ہیں:
کسی فرد یا انسانی سماج کو خداتعالی کے جس لطف و کرم ، رحمت ، نورانیت ، ہدایت اور توفیق کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب استغفار سے حاصل ہوتا ہے۔ گناہوں سے حقیقی توبہ و استغفار سے انسان کو ایک نئی زندگی مل جاتی ہے ۔ اور اسے ایک روشن مستقبل کی امید کی کرن دکھائي دینے لگتی ہے ۔ رہبر انقلاب اسلامی توبہ کا ایک نتیجہ غفلت سے آزادی کو قرار دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
” ہم لوگ بعض اوقات اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوجاتےہیں۔ اور جب ہم استغفار کی جانب توجہ دیتے ہیں تو ہمارے گناہ ، غلطیاں ، خواہشات نفسانی کی پیروی اور اپنی ذات اور دوسروں پر جو ہم نے ظلم کۓ ہوتے ہیں وہ سب ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتےہیں ۔ اور ہم متوجہ ہوتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا غلط کام انجام دیۓ ہیں ۔ اور اس صورت میں ہم غرور و تکبر ، خود غرضی اور غفلت کا شکار ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ اور یہ استغفار کا اولین فائدہ ہے "
البتہ یہ بھی مدنظر رہنا چاہۓ کہ توبہ صرف اسی صورت میں مفید واقع ہوسکتی ہے جب دل سے کی جاۓ ۔ لیکن اگر گناہ چھوڑنے کے ارادے کے بغیر توبہ کے الفاظ زبان پر لاۓ جائيں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ رہبر انقلاب اسلامی حقیقی توبہ کے بارے میں فرماتے ہیں :
” استغفار ایک دعا ہے ۔ ایک طلب ہے ۔ انسان کو سچے دل کے ساتھ خدا تعالی سے عفو و درگذر کا طالب ہونا چاہۓ ۔ اگر ہر گناہ سےاس طرح توبہ کی جاۓ تو یقینا خدا تعالی مغفرت انسان کے شامل حال ہوگی۔ "
رہبر انقلاب اسلامی کے نزدیک انسان بارہا توبہ کرسکتا ہے اور اگر وہ توبہ کے بعد گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تب بھی اس کے سامنے توبہ کا دروازہ کھلا ہوتا ہے۔ اور اس سلسلے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہۓ کہ جب انسان توبہ کررہا ہو تو اس وقت اس کے دل میں توبہ کو توڑنے اور دوبارہ گناہ کرنے کا خیال نہیں ہونا چاہۓ ۔ بالفاظ دیگر توبہ سچی اور حقیقی ہونی چاہۓ۔
رہبرانقلاب اسلامی اس نکتے کی جانب اشارہ فرماتےہیں کہ اگر ہم استغفار کی نعمت سے بہرہ مند ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی بعض ناپسندیدہ صفات کو ترک کرنا ہوگا۔ غفلت اور غرور کا شمار انہی ناپسندیدہ صفات میں سے ہوتا ہے ۔ غفلت اور غرور توبہ کے سدراہ ہوتے ہیں ۔ آپ غفلت کے بارے میں فرماتے ہیں :
” غافل انسان کبھی بھی استغفار کی جانب توجہ نہیں دیتا کیونکہ وہ تو گناہوں میں غرق ہوتا ہے۔ غرور و تکبر بھی انسان کو توبہ و استغفار سے روکتاہے اور انسان غرور و تکبر کی وجہ سے خدا تعالی کی رحمت سے محروم ہوجاتا ہے۔
بہت آیات اور روایات میں توبہ کی قبولیت اور گناہوں کے معاف کردیۓ جانے کا وعدہ کیا گيا ہے اور انسانوں سے کہا گيا ہے کہ وہ خدا تعالی کی رحمت سے ہرگز مایوس نہ ہوں ۔ رہبرانقلاب اسلامی فرماتے ہیں:
” خدا تعالی نے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص استغفار کرے گا یعنی ایک حقیقی دعا کے طور پر خدا تعالی سے سچے دل کے ساتھ مغفرت طلب کرے گا اور اپنے گناہ پر نادم ہوگا تو وہ خدا تعالی کو توبہ قبول کرنے والا پاۓ گا۔ یہ استغفار خدا تعالی کی جانب بازگشت ہے ۔ یہ گناہوں سے رخ موڑنا ہے اور خدا تعالی ایسی توبہ قبول کرتا ہے۔ "
رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے عہدیداروں سے خطاب میں توبہ کا مقصد تقوی کا حصول قرار دیتے ہوۓ فرمایاکہ رمضان المبارک میں ہمیں مقدور بھر اپنے کردار ، افکار ، باتوں اور اعمال کی اصلاح کرنی چاہۓ ۔ اور اپنے عیوب و نقائص کو برطرف کرنا چاہۓ ۔ اور اس اصلاح کا رخ تقوی کی جانب ہونا چاہۓ ۔ روزے سے متعلق آیت میں ارشاد ہوتا ہے: لعلکم تتقون روزے کا مقصد تقوے کا حصول ہے ۔ بنابریں رمضان المبارک میں ہماری عبادت کا مقصد تقوی ہونا چاہۓ ۔”
رہبرانقلاب اسلامی تاکید کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ تقوی صرف شریعت کے ظاہری امور کی پابندی ، غیبت وغیرہ جیسے حرام کاموں سے اجتناب اور نماز و روزہ جیسے واجبات کی ادائيگی کا نام نہیں ہے بلکہ عدل و انصاف کی برقراری ، دوستوں کے درمیان تعلقات قائم کرنا اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک وغیرہ بھی تقوی میں شامل ہیں۔
بنابریں جیسا کہ رہبرانقلاب اسلامی نے بارہا فرمایا ہے رمضان المبارک کا مہینہ توبہ و استغفار اور اپنے گناہ معاف کرانے کا سنہری موقع ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی اس سلسلے میں زور دیتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ ” رمضان المبارک نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم اپنے آپ کو صیقل دیں ۔ اس مہینے میں ہم خدا کے مہمان ہیں تو ہمیں کوشش کرنی چاہۓ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائيں۔ اور خدا تعالی کی رحمت اور مغفرت ہمارے شامل حال ہو۔ یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ ہم اس مہینے میں اپنے دلوں کو ہر طرح کے زنگ سے پاک کریں۔ بہت سے روایات میں آیا ہےکہ سب سے اچھی دعا استغفار اور خدا تعالی سے مغفرت طلب کرنا ہے۔ "

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close