مقالہ جات

عیدالفطر… انتظار عید

doasعید ہے پر دل مرا ہے خانۂ ویراں تو آ
کرچکا ہوں پاک غیروں سے یہ گھر جاناں تو آ
اک مہینے تک رہا ہوں میہماں تیرا اے دوست
ایک دن کے واسطے بنکر مرا مہماں تو آ
(ولی اعظمی)
بزم جہاں میں بادۂ عرفاں کی تھی بہار
ہر سمت فیض رحمت یزداں کی تھی بہار
کیا روح آفریں مہہ رمضاں کی تھی بہار
اس ماہ میں تلاوت قرآں کی تھی بہار
ہر ہر نفس تھا خوشبوئے ایماں لئے ہوئے
ہر ہر نظر تھی جلوۂ قرآں لئے ہوئے
اس ماہ جانفزا میں کھلے رحمتوں کے پھول
لطف خدائے پاک کا محور بنے رسول (ص)
تعلیم و تربیت کے مرتب ہوئے اصول
اعمال روزہ داروں کے سب ہوگئے قبول
انعام حق کی شکل میں نکلا ہلال عید
بنکر سحاب خوشیوں کا پھیلا جمال عید
آج ماہ مبارک ہم سے رخصت ہورہا ہے اور الہی دسترخواں جو ” باران رحمت ” کی صورت میں بچھا ہوا تھا اور آب معرفت سے لوگ سیراب ہورہے تھے ” عید ” کی عیدی کے ساتھ اربوں مسلمانون کے گھروں میں سمیٹ دیا جائے گا اگر اللہ نے ، ماہ مبارک کی دعاؤں اور مناجاتوں میں نیتوں کی صداقت دیکھتے ہوئے آئندہ سال دوبارہ اس الہی دسترخوان سے فیضیابی ہمارے لئے مقدر کی ہے تو انشاء اللہ آپ کے ساتھ ہم بھی اس معنوی بہار سے لطف اندوز ہوں گے ۔چنانچہ الہی میہمانی کے آخری دن ہم اپنے خصوصی پروگرام کے ساتھ سامعین کے لئے اسلامی دنیا کے ایک بڑے مفکر حضرت آیت اللہ جوادی آملی کے خوان نعمت سے کچھ تبرکات آپ کی نذر کررہے ہیں جو غذائے روح بھی ہیں اور غذائے دل و دماغ بھی ،مفید بھی ہیں اور باعث نجات بھی ،فرماتے ہیں کہ ماہ مبارک میں ہم خدا کے میہمان تھے اس کا ثبوت یہ ہے کہ خدا نے یوں تو سورۂ ذاریات کی آیت 58 میں اعلان کیا ہے :
” انّ اللہ ہو الرّزّاق ذوالقوّۃ المتین ” بے شک رزق دینے والا صاحب قوت و قدرت صرف اللہ ہے
اور سورۂ نحل میں بھی فرمایا ہے :
” و ما بکم من نعمت فمن اللہ ” تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے سب اللہ کی طرف ہے
لیکن کچھ روزیاں اور بھی ہیں جو موقع ومحل کی مناسبتوں سے تقسیم ہوتی اور ماہ مبارک میں الہی دسترخوان پر خدا کے خاص بندوں کو ملتی ہیں ۔قرآن کریم کے معارف جو معصومین (ع) کی سنت و سیرت کے پہلو بہ پہلو قرار دئے گئے ہیں الہی نعمتوں اور برکتوں کا سرچشمہ ہیں اور چونکہ قرآن و عترت (ع) ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں ماہ مبارک کی اصل روزی یہی قرآن و اہلبیت (‏ع) ہیں ۔ ماہ رجب و شعبان کی عیدوں کے بعد ماہ رمضان المبارک میں نزول قرآن کا ایک رخ یہ بھی ہے خدا نے جس طرح ہم کو جان دی ہے جان کی ترو تازگی کے لئے نبی اکرم (ص) کے اہلبیت (ع) اور قرآن بھی ہم کو دئے ہیں یہ دونوں بھی اللہ کا کلمہ ہیں اور یہ جان و روح بھی الہی کلمہ ہے نہ ان کا کوئی حرف مہمل ہے نہ ہی کتاب الہی میں کو مہمل حرف پایا جاتا ہے تمام نعمتیں اللہ نے نازل کی ہیں مگر نزول میں فرق ہے بارش ،حدید ( لوہے ) انعام ( چوپائے ) بھیڑ بکری و غیرہ کا نزول اور ہے مخزن سب کاوہی ہے مگر سب وہاں سے ٹپکادئے ہیں ۔ قرآن ٹپکایا نہیں گیا ہے لٹکایا گیا ہے ۔ٹپکنے والی نعمتیں اوپر نہیں لے جائیں گی لٹکنے والی نعمتیں تمسک کے بعد اوپر لے جائیں گی اسی لئے حکم ہے ” واعتصموا بحبل اللہ ” یہ الہی ریسمان بھی اگر بارش کی مانند اوپر سے چھوڑدی جاتی تو باعث نجات نہیں بن سکتی تھی لیکن قرآن و اہلبیت (ع) سے تمسک گمراہی سے حفاظت کا ضامن ہے چنانچہ اگر سب مل کر پکڑلیں تو بھی یہ رسی اتنی مضبوط ہے کہ سب کی ضرورت پوری کردے گی یہ دنیوی طنابیں نہیں ہیں کہ اگر چھ سات ارب افراد پکڑکر لٹک جائیں تو ٹوٹ کر پارہ پارہ ہوجائے قرآن و اہلبیت (ع) کے تاروپود بہت ہی مستحکم ہیں پوری دنیا پکڑلے تو بھی ٹوٹیں گے نہیں سب کو خدا تک پہنچا دینگے اور سب کی مشکلیں حل کردیں گے کیونکہ ان کا ایک سرا خدا کے ہاتھ میں ہے جو ” علی کل شی ء قدیر ” ہے اور دوسرا سرابندوں کے درمیان لٹک رہاہے کہ جو تھام لے گا نجات مل جائے گی ۔ماہ مبارک قرآن و اہلبیت (ع) سے تمسک کا مہینہ ہے اسی لئے ماہ مبارک میں نجات و فلاح کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں اور جو نجات حاصل کرلیں ان کی عید ہوجاتی ہے خدا آپ کو بھی عید اور اس کی تمام خوشیاں مبارک کرے ۔
٭٭٭٭٭
جی ہاں ! ماہ مبارک آیا اور رخصت ہوگیا ۔رمضان گیا اور عید آگئی ۔وہ تمام لوگ جو ماہ مبارک کے تربیتی کیمپ میں پورے ایک ماہ تک حاضر رہے ہیں الہی رحمتوں اور برکتوں سے سرشار ، شکر خدا کا دوگانہ ادا کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں معبود ! تیرا ہزار ہزار شکر کہ تو نے اپنے اس عظیم دسترخوان سے بہرہ مند ہونے کی سعادت عطا کی نواسۂ رسول امام حسن مجتبی علیہ السلام کے بقول :
ماہ مبارک مؤمنین کے درمیان تقرب الہی میں سبقت اور مقابلے کا میدان ہے جس میں خدا بندوں کی آزمائش لیتا ہے اور عید کا دن انعام کا دن ہے لوگوں کو تمغے دئے جاتے ہیں اور عید الفطر کے عظيم اجتماعات میں خدائے کریم روزہ داروں کو عیدی تقسیم کرتا ہے ۔
ماہ مبارک میں ایک ماہ کے روزے ،سحری و افطار ، نماز و دعا ، توبہ ؤ استغفار خدا کی بندگی اور بندگان خدا کی خدمت ،روزہ داروں کے وجود کو اس قدر پاک و پاکیزہ کردیتی ہے کہ گویا وہ اپنی مادرزاد فطرت کی طرف لوٹ آتا ہے اور کسی نومولود کی طرح گناہوں سے پاک و صاف ہوجاتاہے ۔مرسل اعظم (ص) ختمی مرتبت کا ارشاد گرامی ہے :
عید الفطر کے دن جب لوگ صحراؤں کا رخ کرتے ہیں اور دوگانہ ادا کرنے عیدگاہ میں جمع ہوتے ہیں تو خدا کی نگاہ رحمت ان کا طواف کرتی ہے اور خدا فرماتا ہے : میرے بندو! تم نے میرے حکم پر روزہ رکھا، افطار کیا ، میرے لئے نمازیں پڑھیں اور اب نماز عید کے لئے اکٹھا ہوئے ہو تو اٹھو دوگانہ ادا کرکے اپنے گھروں کو اس طرح واپس لوٹو کہ تمہارے گزشتہ ؤ آئندہ تمام گناہ بخش دئے گئے ہیں ۔لیکن گھر لوٹتے وقت اپنے گرد وپیش بکھرے ہوئے ہزاروں غریب و محتاج بھائیوں اور بہنوں کو بھی اپنی عید کی خوشیوں میں شریک کرنا نہ بھولئے گا ۔عید الفطر کا اہم ترین جز ” فطرہ ” ہے ، راہ خدا میں خیر و خیرات ہے عزيز و اقارب کی ملاقات اور والدین کی خدمت میں حاضری دینا ہے غریبوں اور محتاجوں کی خبرگیری اور غذا ؤ لباس ہدیہ کرنا ہے تا کہ آپ کی عید سب کی عید بن جائے ۔
مسرت و شادمانی اور عزت و کامرانی سے سرشار یہ دن آپ سب کو مبارک ہو
عید آئی ،ہرکوئی عیدی کی رکھتا ہے ہوس
میری عید اور میری عیدی ہے ترا دیدار بس

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close