مشرق وسطی

سعودی جزیرے پر اسرائیلی قبضے کے حوالے سے سعودی حکام کی پراسرار خاموشی


saudiisland

مصر کی مشاورتی کونسل اور حکمران جماعت کے رکن محمد عبد السمیع نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا ایک اسٹریٹجک جزیرہ "صنافیر” صہیونیستی رژیم اسرائیل کے قبضے میں ہے اور ریاض اسکو واپس لینے کی بجائے سکوت اختیار کئے ہوئے ہے۔ وہ آج عربی زبان کے انٹرنیشنل نیوز چینل "العالم” سے شائع ہونے والے پروگرام "تحت الرماد” میں اظہار نظر کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: "سعودی عرب کا اسٹریٹجک جزیرہ صنافیر اسرائیل کے قبضے میں ہے جو اسے سعودی عرب کو واپس کرنا چاہئے”۔ انہوں نے مزید کہا: "صنافیر نامی جزیرہ جو فوجی حوالے سے خاص

 اہمیت کا حامل ہے بین الاقوامی اصولوں اور جغرافیائی سرحدوں کے مطابق سعودی عرب کی ملکیت ہے اور سعودی عرب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسے واپس لینے کیلئے بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرے”۔ انہوں نے اس جزیرے کی فوجی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "یہ جزیرہ سویز کینال کا دروازہ سمجھا جاتا ہے اور جس ملک کا بھی اس پر قبضہ ہو وہ تمام خظے پر اپنا تسلط قائم رکھ سکتا ہے”۔ انہوں نے ہمسایہ ممالک کو اس جزیرے کو اسرائیلی قبضے سے نکالنے میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرنے اور اس موضوع کو بین الاقوامی اداروں میں اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا: "یہ مسئلہ پوری عرب قوم کی سلامتی سے مربوط ہے جس کیلئے تمام عرب ممالک کو کوشش کرنی چاہئے”۔ محمد عبدالسمیع نے کہا: "اسرائیل نے اس جزیرے پر قبضہ کر کے اس کو ایک چھاونی میں تبدیل کر دیا ہے اور کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دیتا”۔ قابل ذکر ہے کہ جزیرہ صنافیر جس کا رقبہ 33 مربع کلومیٹر ہے1967ء میں اسرائیل کے ساتھ جنگ میں عرب ممالک کی شکست کے بعد اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا تھا اور سعودی عرب نے اب تک اس کو واپس لینے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی۔

 

Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close